یورپتازہ ترین

جرمنی میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے خطرات میں اضافہ، وفاقی وزیر داخلہ نے ملک کو ’’ہائی تھریٹ‘‘ کی سطح پر قرار دے دیا

"ہائی تھریٹ کا مطلب یہ ہے کہ جرمنی میں کسی بھی وقت حملے کے خطرے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔"

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

برلن: جرمنی کے وفاقی وزیر داخلہ الیکسانڈر ڈوبرنٹ نے ملک میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے بڑھتے ہوئے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرمنی اس وقت "ہائی تھریٹ” (High Threat) یعنی انتہائی خطرے کی صورتحال سے دوچار ہے، جہاں کسی بھی وقت تخریب کارانہ حملے کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں ملکی اور بین الاقوامی انٹیلی جنس اداروں سے موصول ہونے والی معلومات، بڑھتی ہوئی سیکیورٹی رپورٹس اور تخریب کاری کے متعدد واقعات نے حکومت کو خطرے کی سطح بڑھانے پر مجبور کیا ہے۔

جرمن اخبار ویلٹ ام زونٹاگ (Welt am Sonntag) کو دیے گئے انٹرویو میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اب تک موجود "عمومی خطرے” (General Threat) کی تشخیص کو بڑھا کر "ہائی تھریٹ” قرار دیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جرمنی کو درپیش خطرات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین اور فوری نوعیت کے ہو چکے ہیں۔

"کسی بھی وقت حملہ ہو سکتا ہے”

الیکسانڈر ڈوبرنٹ نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ جرمنی میں کسی بھی وقت دہشت گرد یا تخریب کارانہ حملہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا:

"ہائی تھریٹ کا مطلب یہ ہے کہ جرمنی میں کسی بھی وقت حملے کے خطرے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔”

وزیر داخلہ کے مطابق سیکیورٹی اداروں کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض عناصر جرمنی میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس کے باعث ملک بھر میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔

خفیہ اطلاعات میں نمایاں اضافہ

ڈوبرنٹ نے بتایا کہ جرمنی کو حالیہ عرصے میں اتحادی ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور جرمن سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ممکنہ حملوں کے حوالے سے موصول ہونے والی اطلاعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ان کے مطابق ان اطلاعات میں صرف دہشت گرد حملوں کے خدشات ہی شامل نہیں بلکہ جاسوسی، تخریب کاری اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ممکنہ سرگرمیوں سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان رپورٹس نے حکومت کو قومی سلامتی کے حوالے سے مزید محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔

تخریب کاری کے واقعات میں اضافہ

وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق حالیہ مہینوں میں جرمنی میں تخریب کاری کے کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے سیکیورٹی اداروں کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ تمام واقعات کی نوعیت مختلف ہے، تاہم مجموعی طور پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کو درپیش خطرات زیادہ پیچیدہ اور منظم ہوتے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق ان واقعات کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ ان کے پس منظر اور ممکنہ ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔

منظم نیٹ ورکس کی سرگرمیوں پر تشویش

وزیر داخلہ نے کہا کہ جرمنی اور بیرونِ ملک سرگرم بعض نیٹ ورکس پہلے کے مقابلے میں زیادہ منظم انداز میں کام کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق یہ گروہ جاسوسی، تخریب کاری اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس کے باعث جرمنی کی قومی سلامتی کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سیکیورٹی ادارے ان نیٹ ورکس پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

پہلے ہی اشارہ دے دیا گیا تھا

الیکسانڈر ڈوبرنٹ نے یاد دلایا کہ تقریباً ایک ماہ قبل وفاقی اور صوبائی وزرائے داخلہ کے اجلاس میں انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ ملک میں خطرے کی سطح بڑھائی جا سکتی ہے۔

اس وقت بھی انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر انٹیلی جنس رپورٹس اور سیکیورٹی صورتحال میں مزید بگاڑ آیا تو حکومت حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرے گی۔

حالیہ اعلان کو اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی اقدامات مزید سخت

جرمن حکومت کے اعلان کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ ملک بھر میں اہم سرکاری عمارتوں، ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں، عوامی مقامات، سرحدی گزرگاہوں اور حساس تنصیبات کی سیکیورٹی مزید سخت کی جائے گی۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ممکنہ اقدامات میں شامل ہو سکتے ہیں:

  • حساس مقامات پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کرنا۔
  • انٹیلی جنس اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو مزید مؤثر بنانا۔
  • سرحدی نگرانی میں اضافہ۔
  • اہم تنصیبات کی سیکیورٹی کا ازسرِ نو جائزہ۔
  • مشتبہ سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال۔
  • عوامی مقامات پر حفاظتی اقدامات میں اضافہ۔

یورپ کو درپیش مشترکہ چیلنج

دفاعی اور سیکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں یورپ کو دہشت گردی، سائبر حملوں، تخریب کاری، غیر ملکی جاسوسی اور ہائبرڈ وارفیئر جیسے نئے خطرات کا سامنا ہے۔

ان کے مطابق یورپی ممالک اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے انٹیلی جنس تعاون، سرحدی نگرانی اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات کو مسلسل مضبوط بنا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں صرف روایتی دہشت گردی ہی نہیں بلکہ حساس انفراسٹرکچر، توانائی کے نظام، مواصلاتی نیٹ ورکس اور سرکاری اداروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں بھی سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔

عوام سے تعاون کی اپیل

جرمن حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں، لاوارث اشیاء یا غیر معمولی حرکات کی فوری اطلاع متعلقہ سیکیورٹی اداروں کو دیں اور سیکیورٹی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔

حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کا تعاون ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

نتیجہ

جرمنی کی جانب سے ملک کو "ہائی تھریٹ” کی سطح پر قرار دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت دہشت گردی، تخریب کاری اور جاسوسی کے ممکنہ خطرات کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ الیکسانڈر ڈوبرنٹ کے مطابق انٹیلی جنس اطلاعات میں اضافے، منظم نیٹ ورکس کی سرگرمیوں اور حالیہ تخریب کاری کے واقعات نے خطرے کی نوعیت کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ایسے میں جرمن حکومت سیکیورٹی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے، حساس مقامات کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اتحادی ممالک کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت اور مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button