بین الاقوامیاہم خبریں

پینٹاگون اور ’سٹارز اینڈ سٹرائپس‘ میں تنازع، چیف ایڈیٹر سمیت اہم عہدیدار برطرف

ان کے لیے پینٹاگون کے تیار کردہ مواد کو حقائق اور آزادانہ صحافت پر فوقیت دینا قابلِ قبول نہیں۔

مدثر احمد-ادارت

واشنگٹن: امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) اور امریکی فوج کی کوریج کرنے والے معروف خودمختار اخبار ’سٹارز اینڈ سٹرائپس‘ کے درمیان ادارتی آزادی اور حکومتی مداخلت کے معاملے پر کشیدگی اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب اخبار کے چیف ایڈیٹر اور پبلشر سمیت متعدد اہم اہلکاروں کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ’سٹارز اینڈ سٹرائپس‘ کے چیف ایڈیٹر ایرک سلیون نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ انہیں پینٹاگون کے ساتھ اختلافات اور وزارتِ دفاع کی مبینہ مداخلت پر تنقید کے بعد ’عدم اطاعت‘ کے الزام میں برطرف کیا گیا۔

یہ پیش رفت امریکی فوجی صحافت اور میڈیا کی آزادی کے حوالے سے اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ ’سٹارز اینڈ سٹرائپس‘ ایک ایسا ادارہ ہے جو امریکی فوجیوں اور دفاعی معاملات کی کوریج کے لیے ایک طویل تاریخ رکھتا ہے اور امریکی سول وار کے دور سے فوج سے متعلق خبریں شائع کرتا آ رہا ہے۔

ادارتی آزادی پر تنازع

تنازع کی بنیادی وجہ پینٹاگون کی جانب سے اخبار کے انتظامی اور ادارتی معاملات میں بڑھتی ہوئی مداخلت سے متعلق اختلافات بتائے جا رہے ہیں۔

رواں برس کے آغاز میں امریکی وزارتِ دفاع نے اخبار سے متعلق اپنی پالیسی میں تبدیلیوں کا اعلان کیا تھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا مقصد ادارے کو بعض مخصوص نظریاتی اثرات سے دور رکھنا اور اس کی کوریج کو وزارتِ دفاع کی پالیسی ترجیحات کے مطابق منظم کرنا ہے۔

تاہم اخبار کے موجودہ اور سابق عہدیداروں نے اس طرزِ عمل پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق سرکاری ادارے کی جانب سے کسی ایسے میڈیا ادارے کے ادارتی معاملات میں مداخلت، جو فوجیوں اور دفاعی امور پر آزادانہ رپورٹنگ کے لیے قائم کیا گیا ہو، صحافتی خودمختاری کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔

چیف ایڈیٹر ایرک سلیون نے حالیہ دنوں میں پینٹاگون کی مبینہ مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ان کے لیے پینٹاگون کے تیار کردہ مواد کو حقائق اور آزادانہ صحافت پر فوقیت دینا قابلِ قبول نہیں۔

چیف ایڈیٹر کی برطرفی

سلیون کے مطابق انہیں ایک انٹرویو میں پینٹاگون کے ساتھ جاری اختلافات پر اظہارِ خیال کرنے کے بعد ’عدم اطاعت‘ کے الزام کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

ان کی برطرفی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ’سٹارز اینڈ سٹرائپس‘ کے ادارتی مستقبل اور انتظامی ڈھانچے میں پہلے ہی بڑی تبدیلیاں جاری تھیں۔

صحافتی حلقوں میں اس اقدام کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ سلیون نے اخبار کی ادارتی خودمختاری کو پینٹاگون کی پالیسی ترجیحات سے الگ رکھنے پر زور دیا تھا۔

پبلشر بھی نشانے پر

چیف ایڈیٹر کے علاوہ اخبار کے پبلشر میکسن لیڈرر کو بھی برطرفی کا نوٹس دیا گیا۔

لیڈرر نے اس سے صرف تین روز قبل اعلان کیا تھا کہ وہ 30 ستمبر سے ریٹائر ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پینٹاگون کی جانب سے اخبار کے مستقبل کے حوالے سے اختیار کیے گئے نئے منصوبوں سے وہ بنیادی طور پر اختلاف رکھتے ہیں۔

تاہم ریٹائرمنٹ سے قبل ہی انہیں برطرفی کا نوٹس مل گیا، جس نے تنازع کو مزید سنگین بنا دیا۔

لیڈرر کی جگہ یا ان کے نائب کے طور پر فعال بحری کپتان ولیم اربن کی تعیناتی بھی سیاسی اور صحافتی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئی ہے۔

ڈیموکریٹ قانون سازوں نے اس تقرری پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’سٹارز اینڈ سٹرائپس‘ کی ادارتی آزادی محدود کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

رپورٹر بھی برطرف

اخبار کی رپورٹر لارا کورٹے کو بھی اسی تنازع کے دوران ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔

لارا کورٹے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہیں یہ مؤقف اختیار کرنے پر حکم عدولی کا مرتکب قرار دیا گیا کہ ایک صحافی پینٹاگون یا کسی پالیسی ساز کا ملازم نہیں بلکہ اپنے اخبار کا ملازم ہوتا ہے۔

ان کے مطابق ایک صحافی کو یہ بات کہنا کہ وہ اپنے ادارے کے لیے کام کرتا ہے، پینٹاگون کی ہدایات کی خلاف ورزی تصور کیا گیا۔

یہ معاملہ اس بحث کو مزید تقویت دیتا ہے کہ آیا فوجی معاملات کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو سرکاری اداروں کی انتظامی یا ادارتی ترجیحات کی پابندی کرنی چاہیے یا انہیں اپنے ادارے کی پیشہ ورانہ اور صحافتی پالیسی کے مطابق آزادانہ رپورٹنگ کا اختیار حاصل ہونا چاہیے۔

’یو ایس ایس ابراہام لنکن‘ کی رپورٹ کے بعد تنازع

اہم برطرفیوں سے چند روز قبل ’سٹارز اینڈ سٹرائپس‘ نے امریکی بحری جہاز ’یو ایس ایس ابراہام لنکن‘ کے عملے کی مبینہ ابتر حالتِ زار سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی تھی۔

رپورٹ میں بحری جہاز پر موجود اہلکاروں کو درپیش مسائل اور حالات کو اجاگر کیا گیا۔ اس رپورٹ کے بعد امریکی فوجی پالیسی اور خصوصاً صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق جنگی حکمتِ عملی پر ایک مرتبہ پھر تنقید شروع ہوئی۔

اس کے نتیجے میں اخبار اور پینٹاگون کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات مزید نمایاں ہو گئے۔

صحافتی آزادی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ فوجی اداروں میں موجود مسائل کی رپورٹنگ کرنا دفاعی صحافت کا بنیادی حصہ ہے اور ایسی رپورٹس کو صرف اس بنیاد پر دبایا نہیں جانا چاہیے کہ وہ حکومت یا فوجی قیادت کے لیے تنقیدی نوعیت رکھتی ہیں۔

سرکاری مالی معاونت اور خودمختاری کا سوال

’سٹارز اینڈ سٹرائپس‘ کی حیثیت دیگر عام امریکی اخبارات سے کچھ مختلف ہے۔ اخبار کو مالی معاونت کا ایک حصہ امریکی وزارتِ دفاع سے حاصل ہوتا ہے، تاہم اس نے طویل عرصے سے اپنی ادارتی خودمختاری برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

یہی صورتحال موجودہ تنازع کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔

ایک جانب وزارتِ دفاع اخبار کی مالی اور انتظامی معاونت سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ دوسری جانب اخبار کی بنیادی صحافتی شناخت آزادانہ رپورٹنگ پر قائم ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مالی یا انتظامی تعلق کو ادارتی کنٹرول میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

پینٹاگون کی پالیسی میں تبدیلی

رواں سال پینٹاگون کی جانب سے ’سٹارز اینڈ سٹرائپس‘ کے مستقبل اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق نئی پالیسی سامنے آنے کے بعد صحافتی آزادی کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے تھے۔

وزارتِ دفاع کا مؤقف رہا ہے کہ وہ اخبار کو کسی خاص نظریاتی اثر سے آزاد رکھنا چاہتی ہے اور اس کی کوریج کو ایک واضح انتظامی فریم ورک کے تحت لانا ضروری ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ’نظریاتی غیر جانب داری‘ کے نام پر ادارتی کنٹرول بڑھانے کی کوشش بھی بالآخر صحافتی آزادی کو متاثر کر سکتی ہے۔

وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کردار

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ، جنہوں نے 2025 میں پینٹاگون کی قیادت سنبھالی، ذرائع ابلاغ کے بارے میں اپنے سخت مؤقف کے لیے پہلے ہی شہرت رکھتے ہیں۔

ہیگسیتھ متعدد مواقع پر امریکی میڈیا کے کردار اور دفاعی اداروں کی کوریج پر تنقید کر چکے ہیں۔ ان کی قیادت میں پینٹاگون اور بعض امریکی میڈیا اداروں کے درمیان تعلقات میں تناؤ نمایاں طور پر بڑھا ہے۔

موجودہ معاملے کو بھی اسی وسیع تر پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں امریکی حکومت اور دفاعی ادارے یہ چاہتے ہیں کہ قومی سلامتی اور فوجی معاملات سے متعلق معلومات کی رپورٹنگ زیادہ منظم انداز میں ہو، جبکہ صحافتی ادارے آزادانہ رپورٹنگ کے حق پر زور دیتے ہیں۔

امریکی سیاست میں بھی بحث تیز

’سٹارز اینڈ سٹرائپس‘ کے عہدیداروں کی برطرفی نے امریکی سیاست میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ڈیموکریٹ قانون سازوں نے پینٹاگون کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی فوجی صحافتی ادارے کی ادارتی سمت پر حکومتی اثر و رسوخ بڑھانا آزاد صحافت کے لیے خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔

دوسری جانب حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ وزارتِ دفاع کو اس بات کا اختیار ہونا چاہیے کہ اس کے وسائل سے چلنے والے اداروں کے انتظامی معاملات اور پالیسی سمت کے حوالے سے ضروری فیصلے کرے۔

اصل اختلاف اس سوال پر ہے کہ انتظامی اختیار کہاں ختم ہوتا ہے اور ادارتی آزادی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔

’سٹارز اینڈ سٹرائپس‘ کی تاریخی حیثیت

’سٹارز اینڈ سٹرائپس‘ امریکی فوجی صحافت میں ایک تاریخی مقام رکھتا ہے۔ اخبار نے جنگوں اور بیرونِ ملک تعینات امریکی فوجیوں کی زندگی، مشکلات اور فوجی کارروائیوں کی رپورٹنگ میں طویل عرصے تک کردار ادا کیا ہے۔

اس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس کے قارئین میں خود امریکی فوجی، ان کے خاندان اور دفاعی امور میں دلچسپی رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

اسی وجہ سے ادارتی آزادی سے متعلق کوئی بھی تنازع محض ایک عام میڈیا ادارے کے انتظامی مسئلے تک محدود نہیں رہتا بلکہ امریکی فوجی صحافت کے مستقبل کے حوالے سے بھی سوالات اٹھاتا ہے۔

آزادیٔ صحافت کے لیے اہم امتحان

موجودہ تنازع کے مرکز میں بنیادی سوال یہ ہے کہ فوجی اداروں کے قریب رہ کر رپورٹنگ کرنے والا صحافتی ادارہ کس حد تک حکومتی انتظامی اثر و رسوخ سے آزاد رہ سکتا ہے۔

’سٹارز اینڈ سٹرائپس‘ کے معاملے میں چیف ایڈیٹر، پبلشر اور رپورٹر کے خلاف کارروائی نے اس بحث کو مزید شدت دی ہے۔

اگرچہ پینٹاگون کی جانب سے اپنے انتظامی فیصلوں کے حوالے سے مختلف وجوہات پیش کی جا سکتی ہیں، تاہم صحافتی آزادی کے حامیوں کے لیے اصل تشویش یہ ہے کہ کہیں سرکاری اداروں کے ساتھ مالی یا انتظامی تعلقات ادارتی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کا ذریعہ نہ بن جائیں۔

یہ تنازع اس وسیع تر عالمی بحث کا بھی حصہ ہے جس میں حکومتوں، فوجی اداروں اور آزاد میڈیا کے درمیان تعلقات، قومی سلامتی اور عوام کے معلومات حاصل کرنے کے حق کے درمیان توازن پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

نتیجہ

’سٹارز اینڈ سٹرائپس‘ کے چیف ایڈیٹر ایرک سلیون، پبلشر میکسن لیڈرر اور رپورٹر لارا کورٹے کے خلاف کارروائی نے امریکی فوجی صحافت میں ایک اہم تنازع کو جنم دیا ہے۔ پینٹاگون اور اخبار کے درمیان اختلاف اب محض انتظامی معاملہ نہیں رہا بلکہ ادارتی آزادی، سرکاری اثر و رسوخ اور فوجی معاملات کی آزادانہ رپورٹنگ کے بنیادی سوال میں تبدیل ہو چکا ہے۔

آنے والے دنوں میں اس معاملے پر امریکی قانون سازوں، صحافتی تنظیموں اور میڈیا آزادی کے حامی حلقوں کی جانب سے مزید ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ اس تنازع کا نتیجہ اس بات کے تعین میں بھی اہم ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں امریکی وزارتِ دفاع اور ’سٹارز اینڈ سٹرائپس‘ جیسے فوجی صحافتی اداروں کے درمیان ادارتی اور انتظامی حدود کس طرح متعین کی جاتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button