کالمزعلی عباس کاظمی

سوشل میڈیا کا بے لگام سفر…….علی عباس کاظمی

کسی مقتول کو اس کے قتل کا ذمہ دار قرار دینا اور معاشرے کو خطرات سے آگاہ کرنا ایک ہی بات نہیں۔ اگر کوئی شخص غلطی کرتا ہے تو اس غلطی کی نشاندہی کی جا سکتی ہے

سوشل میڈیا نے انسان کو اظہار کی وہ آزادی دی ہے جس کا تصور کبھی صرف کتابوں اور خوابوں میں ممکن تھا، مگر عجیب بات یہ ہے کہ آزادی بڑھتی گئی اور ذمہ داری سکڑتی گئی۔ آج ایک موبائل فون کیمرہ بھی ہے، اخبار بھی، اسٹیج بھی، بازار بھی اور عدالت بھی۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو انسان کو ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتی ہے، کیا اتنی بڑی رسائی کے ساتھ اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی ہماری زندگی کا حصہ بنی ہے؟ ہم نے اظہار کا حق تو مانگ لیا، لیکن اظہار کے اثرات کا حساب دینا شاید ابھی نہیں سیکھا۔حالیہ دنوں میں ایک معروف پاکستانی ٹک ٹاکر کے قتل کی خبر نے ایک بار پھر سوشل میڈیا کے استعمال، آن لائن تعلقات اور ہماری اجتماعی سوچ پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کسی انسان کی جان لے لینا بہرحال ایک سنگین جرم ہے۔ اختلاف، پسند ناپسند، لباس، طرزِ گفتگو، شہرت یا سوشل میڈیا کی سرگرمی کسی کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ دوسرے کی زندگی ختم کر دے۔ قتل کا جواز تلاش کرنا دراصل جرم کے ہاتھ میں اخلاقی چھتری تھما دینا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایک دوسرا سوال بھی اپنی جگہ موجود ہےکہ کیا کسی سانحے کے بعد صرف قاتل کو دیکھنا کافی ہے، یا ہمیں ان حالات کو بھی سمجھنا چاہیے جو ایسے واقعات کے لیے زمین ہموار کرتے ہیں؟
یہاں ایک نہایت باریک فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی مقتول کو اس کے قتل کا ذمہ دار قرار دینا اور معاشرے کو خطرات سے آگاہ کرنا ایک ہی بات نہیں۔ اگر کوئی شخص غلطی کرتا ہے تو اس غلطی کی نشاندہی کی جا سکتی ہے، مگر اس بنیاد پر اس کے خلاف ہونے والے ظلم کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہمیں یہ فرق سیکھنا ہوگا، کیونکہ آج کل ہم اکثر اخلاقی تنقید اور کردار کشی کو ایک ہی ترازو میں تولنے لگتے ہیں۔ کسی خاتون یا مرد کا سوشل میڈیا پر نامناسب مواد پیش کرنا قابلِ بحث ہو سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے خلاف تشدد، دھمکی یا قتل جائز ہو گیا۔ جرم کی ذمہ داری ہمیشہ مجرم پر ہی رہتی ہے۔اصل مسئلہ شاید یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا نے ہماری نجی اور عوامی زندگی کے درمیان موجود دیوار تقریباً گرا دی ہے۔ جو بات کبھی چند دوستوں کے درمیان ہوتی تھی، آج ہزاروں اجنبیوں کے سامنے ہو رہی ہے۔ جو تصویر کبھی گھر کی چار دیواری سے باہر نہ نکلتی تھی، وہ چند لمحوں میں دنیا بھر کی ملکیت بن جاتی ہے۔ لائکس، فالوورز، کمنٹس اور گفٹس محض اعداد نہیں رہتے، وہ آہستہ آہستہ انسان کے ذہن میں اپنی قدر کا پیمانہ بننے لگتے ہیں۔ پھر سوال یہ نہیں رہتا کہ میں کیا ہوں، بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ لوگ مجھے کتنا دیکھ رہے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں شہرت ایک ضرورت سے بڑھ کر نشہ بن سکتی ہے۔ آج ایک ویڈیو پر لاکھوں لوگ متوجہ ہوئے تو کل اس سے زیادہ توجہ حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ پھر وہی چیز جو کل غیر معمولی تھی، آج معمولی لگتی ہے اور اگلی ویڈیو کو پہلے سے زیادہ جاذبِ نظر، زیادہ چونکا دینے والا یا زیادہ ذاتی بنانا پڑتا ہے۔ یوں انسان کبھی کبھی اپنے ہی وجود کو ایک مسلسل نمائش میں تبدیل کر لیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہماری شخصیت کی قیمت مسلسل عوامی توجہ سے طے ہونے لگے تو خاموشی، وقار اور ذاتی حدود کی اہمیت کہاں باقی رہ جاتی ہے؟
اس پورے نظام میں صرف مواد بنانے والا شخص ہی ذمہ دار نہیں۔ دیکھنے والا بھی اس بازار کا خریدار ہے۔ جس چیز کو ہم بار بار دیکھتے ہیں، اس پر تبصرہ کرتے ہیں، شیئر کرتے ہیں اور دوسروں تک پہنچاتے ہیں، ہم دراصل اسی کی طلب پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر سنسنی بکتی ہے تو سنسنی مزید پیدا ہوگی، اگر نجی زندگی کی نمائش مقبول ہوتی ہے تو نمائش بڑھتی جائے گی اور اگر اخلاقی حدود توڑنے والا مواد زیادہ توجہ حاصل کرتا ہے تو پلیٹ فارم کا پورا ماحول اسی سمت میں دھکیلتا رہے گا۔ پھر ہم شکایت کس سے کریں؟ اس شخص سے جو مواد بنا رہا ہے، یا اپنے آپ سے بھی جو اسے مقبول بنا رہے ہیں؟ایک اور خطرناک رجحان یہ ہے کہ ہم آن لائن تعلقات کو حقیقی زندگی کے نتائج سے الگ سمجھنے لگے ہیں۔ کسی سے مسلسل گفتگو، جذباتی قربت، نجی معلومات کا تبادلہ، لائیو رابطہ یا ورچوئل دوستی بظاہر معمولی معلوم ہو سکتی ہے، مگر انسان کا ذہن ورچوئل اور حقیقی جذبات میں ہمیشہ واضح لکیر قائم نہیں رکھتا۔ تعلقات اعتماد پیدا کرتے ہیں، اعتماد توقعات پیدا کرتا ہے اور توقعات ٹوٹیں تو غصہ، انتقام، بلیک میلنگ اور تشدد تک بات پہنچ سکتی ہے۔ یہ ہر آن لائن تعلق کا لازمی انجام نہیں، مگر خطرے کو بالکل نظر انداز کرنا بھی دانش مندی نہیں۔
یہاں مذہب اور اخلاقیات کے نام پر ایک اور غلطی بھی ہوتی ہے۔ بعض لوگ ہر معاملے کو یہ کہہ کر ختم کر دیتے ہیں کہ یہ انسان اور خدا کے درمیان کا معاملہ ہے۔ بلاشبہ انسان کے باطن اور خدا کے درمیان تعلق ایک گہرا ذاتی معاملہ ہے، لیکن معاشرہ اخلاقی ذمہ داری سے آزاد نہیں ہو جاتا۔ ہم دوسروں کو خیر کی طرف بلانے کا حق رکھتے ہیں، مگر اس حق کے ساتھ حکمت، احترام اور اپنے کردار کی شرط بھی جڑی ہوئی ہے۔ نصیحت اگر تحقیر بن جائے تو اصلاح کے بجائے مزاحمت پیدا کرتی ہے اور اگر مذہب کو دوسروں کو ذلیل کرنے کا ہتھیار بنا لیا جائے تو ہم دین کی روح سے بھی دور ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے خطرات صرف خواتین تک محدود نہیں۔ نوجوان لڑکے بھی اسی دباؤ، نمائش، شہرت، مقابلے، آن لائن تعلقات، جوا، فراڈ، بلیک میلنگ اور ذہنی استحصال کا شکار ہو سکتے ہیں۔ مسئلہ جنس کا نہیں، غیر ذمہ دار ڈیجیٹل رویے کا ہے۔ البتہ خواتین کے خلاف آن لائن ہراسانی، کردار کشی اور تشدد کے خطرات اپنی مخصوص شدت رکھتے ہیں، اس لیے ان کے تحفظ کو اخلاقی اور قانونی دونوں سطحوں پر سنجیدگی سے دیکھنا ضروری ہے۔
ریاست کی ذمہ داری بھی صرف یہ نہیں کہ کسی سانحے کے بعد مقدمہ درج کرے اور مجرم کو گرفتار کر لے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ہراسانی، دھمکی، بلیک میلنگ، جعلی اکاؤنٹس، نجی مواد کے غیر قانونی پھیلاؤ اور آن لائن تشدد کے خلاف مؤثر نظام ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل اخلاقیات پڑھائی جانی چاہئیں، والدین کو بچوں کی آن لائن دنیا سے واقف ہونا چاہیے اور خود نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انٹرنیٹ پر کی گئی حرکت بھی حقیقی دنیا میں نتائج پیدا کرتی ہے۔ ڈیجیٹل خواندگی صرف یہ سیکھنا نہیں کہ ویڈیو کیسے بنانی ہے،یہ بھی سیکھنا ہے کہ کیا دکھانا ہے، کیا چھپانا ہے، کس پر اعتماد کرنا ہے اور کس مقام پر رک جانا ہے۔شاید سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم ہر حادثے کے بعد چند دن شور مچاتے ہیں، پھر اگلی ویڈیو ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ ایک زندگی ختم ہوتی ہے، چند ہیش ٹیگ چلتے ہیں، کچھ مذمتی بیانات آتے ہیں اور پھر وہی معمول واپس آ جاتا ہے۔ اگر کسی سانحے سے ہماری عادت، سوچ اور رویہ تبدیل نہیں ہوتا تو ہم نے اس سانحے سے کچھ نہیں سیکھا۔ کسی کی موت کو تماشا بنانے کے بجائے ہمیں اپنے ڈیجیٹل رویوں کا احتساب کرنا چاہیے۔
سوشل میڈیا نہ شیطان ہے نہ فرشتہ۔۔۔ وہ ایک طاقت ہے اور طاقت کا اخلاق اس کے استعمال کرنے والے طے کرتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہم ٹک ٹاک استعمال کریں یا نہ کریں، سوال یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو استعمال ہونے سے بچا سکتے ہیں یا نہیں۔ کیا ہماری عزت لائکس سے زیادہ قیمتی ہے؟ کیا ہماری نجی زندگی فالوورز سے زیادہ اہم ہے؟ کیا اختلاف کا جواب دلیل سے دیا جا سکتا ہے؟ کیا نصیحت کو نفرت بننے سے روکا جا سکتا ہے؟ اور کیا ہم یہ سمجھنے کے لیے تیار ہیں کہ ہر آزادی کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی پیدا ہوتی ہے؟شاید آج ہمیں دوسروں کے کردار کا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے ہاتھ میں موجود موبائل کو دیکھنا چاہیے۔ اس چھوٹی سی اسکرین کے پیچھے ایک بہت بڑی دنیا آباد ہے، جہاں ایک کلک کسی کو شہرت دے سکتا ہے، کسی کو ذلت، کسی کو امید اور کسی کو تباہی۔ اصل امتحان ٹیکنالوجی کا نہیں۔۔۔ انسان کا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button