سائنس و ٹیکنالوجیتازہ ترین

حکومت پاکستان اور گوگل کے درمیان اہم ایم او یو، نوجوانوں کو 150 ہزار کیریئر سرٹیفکیٹس اور اے آئی سہولیات فراہم کرنے کا اعلان

ایم او یو پر وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے سیکریٹری ضرار ہاشم خان اور گوگل کے ساؤتھ ایشیا و ساؤتھ ایسٹ ایشیا پبلک پالیسی کے سربراہ ڈیوڈ ویلر نے دستخط کیے۔

سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ، نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی مہارتوں سے آراستہ کرنے اور مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کو وسعت دینے کے لیے حکومت پاکستان اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط ہوگئے۔

اس اہم تعاون کا بنیادی مقصد پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنا، نوجوانوں کے لیے جدید روزگار کے مواقع پیدا کرنا، آئی ٹی برآمدات میں اضافہ اور ملک کی مجموعی ڈیجیٹل معیشت کو 2030 تک 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے ہدف میں معاونت فراہم کرنا ہے۔

معاہدے کے تحت گوگل کی جانب سے 2026 میں پاکستانی نوجوانوں کو 150,000 گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس فراہم کیے جائیں گے، جبکہ ملک بھر کے طلبہ کو جدید مصنوعی ذہانت کے ٹولز تک مفت رسائی دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی تقریب میں شرکت

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گوگل کی اعلیٰ قیادت پر مشتمل وفد کے اعزاز میں خصوصی استقبالیہ دیا اور حکومت پاکستان اور گوگل کے درمیان ایم او یو پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔

تقریب میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، گوگل کے نائب صدر برائے حکومتی امور و پبلک پالیسی ولسن وائٹ، امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر سمیت دیگر اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔

ایم او یو پر وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے سیکریٹری ضرار ہاشم خان اور گوگل کے ساؤتھ ایشیا و ساؤتھ ایسٹ ایشیا پبلک پالیسی کے سربراہ ڈیوڈ ویلر نے دستخط کیے۔

پاکستان اور گوگل کے درمیان شراکت داری کا نیا مرحلہ

وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور گوگل کی شراکت داری کے حوالے سے یہ ایک اہم دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ذرائع اور نئی مہارتوں کے ذریعے پاکستان کے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت گورننس سمیت مختلف شعبوں میں بڑی ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق ملک کی نوجوان آبادی پاکستان کی ترقی اور مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں اور عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت فراہم کرکے پاکستان کی انسانی صلاحیت کو معاشی طاقت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم کے مطابق حکومت پاکستان ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور آئی ٹی کے شعبے کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانے کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے۔

2030 تک 30 ارب ڈالر کی ڈیجیٹل معیشت کا ہدف

حکومت پاکستان اور گوگل کے درمیان تعاون کا ایک اہم مقصد پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور مجموعی ڈیجیٹل معیشت کو 2030 تک 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے ہدف میں مدد فراہم کرنا ہے۔

اس مقصد کے لیے انسانی وسائل کی ترقی، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، ڈیجیٹل کاروبار، عالمی منڈیوں تک رسائی، ایپ ڈویلپمنٹ، گیمنگ، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور آئی ٹی سروسز سمیت مختلف شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔

حکام کے مطابق پاکستان کی بڑی نوجوان آبادی کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا ملک کی آئی ٹی صنعت کے لیے ایک بڑی طاقت ثابت ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں گوگل کے ساتھ تعاون کو عالمی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم سے جڑنے کی اہم کوشش قرار دیا جارہا ہے۔

2026 میں 150 ہزار گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس

ایم او یو کے تحت گوگل 2026 میں پاکستانی نوجوانوں کو 150,000 گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس فراہم کرے گا۔

ان سرٹیفکیٹس کے ذریعے نوجوانوں کو مارکیٹ میں زیادہ طلب رکھنے والی تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارتیں حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ پروگرام کا مقصد ایسے ہنرمند افراد تیار کرنا ہے جو مقامی اور عالمی روزگار کی مارکیٹ کی ضروریات پوری کرسکیں۔

گوگل پاکستان میں اپنے کیریئر سرٹیفکیٹس پروگرام کو مزید وسعت دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لے گا۔ اس توسیع کے ذریعے تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں نوجوانوں کے لیے روزگار اور فری لانسنگ کے نئے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

یہ پروگرام پاکستان کے نوجوانوں کو روایتی تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ ایسی عملی مہارتیں فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے جن کی عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ میں مسلسل طلب بڑھ رہی ہے۔

طلبہ کے لیے گوگل اے آئی پلس اور جیمینائی نوٹ بک کی سہولت

حکومت اور گوگل کے درمیان تعاون کا ایک نمایاں پہلو پاکستان بھر کے طلبہ کے لیے جدید مصنوعی ذہانت کے ٹولز تک رسائی ہے۔

ایم او یو کے تحت گوگل طلبہ کو Google AI Plus اور Gemini Notebook سمیت جدید اے آئی سہولیات فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے گا۔ مجوزہ سہولت میں طلبہ کو ایک سال تک مفت رسائی فراہم کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔

ان ٹولز کا مقصد طلبہ کو تعلیم، تحقیق، معلومات کے تجزیے اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دینا ہے۔

حکام کے مطابق اے آئی ٹولز تک آسان رسائی سے طلبہ کی تحقیق اور سیکھنے کی صلاحیت بہتر بنانے، ان کی عالمی مسابقتی استعداد بڑھانے اور مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے انہیں تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اسلام آباد میں اے آئی سینٹر آف ایکسی لینس قائم کرنے پر اتفاق

معاہدے کے تحت حکومت پاکستان اور گوگل نے اسلام آباد میں ایک خصوصی AI Centre of Excellence قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

اس مرکز کا مقصد پاکستانی نوجوانوں اور انسانی وسائل کو جدید مصنوعی ذہانت اور عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق تربیت فراہم کرنا ہوگا۔

اے آئی سینٹر آف ایکسی لینس کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق، تربیت، مہارتوں کی ترقی اور صنعتی ضروریات کے درمیان روابط پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

یہ مرکز مستقبل میں پاکستان کے لیے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

ایف بی آر کی ڈیجیٹل تبدیلی میں گوگل کا تعاون

ایم او یو کے تحت حکومت کے ایف بی آر اصلاحاتی پروگرام میں بھی گوگل کی معاونت شامل ہوگی۔

گوگل مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے عوامی خدمات کو جدید بنانے، حکومتی امور کو زیادہ مؤثر بنانے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے میں معاونت فراہم کرے گا۔

اے آئی کے استعمال سے ٹیکس انتظام، ڈیٹا کے تجزیے، عوامی خدمات اور حکومتی نظام میں کارکردگی بہتر بنانے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

اس اقدام کا مقصد ٹیکنالوجی کو حکومتی اصلاحات کا حصہ بنانا اور شہریوں کے لیے خدمات کی فراہمی کو زیادہ مؤثر، تیز اور جدید بنانا ہے۔

زراعت میں مصنوعی ذہانت کا استعمال

پاکستان کے اہم ترین شعبوں میں سے ایک زراعت کو بھی حکومت اور گوگل کے ڈیجیٹل تعاون میں شامل کیا گیا ہے۔

معاہدے کے تحت زراعت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے امکانات پر کام کیا جائے گا۔ اے آئی کی مدد سے فصلوں کی نگرانی، پیداوار کا تخمینہ لگانے، زرعی سرگرمیوں کے تجزیے اور پائیدار زرعی طریقوں کے فروغ میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔

ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی ڈیٹا کو بہتر انداز میں استعمال کرنے سے کسانوں اور متعلقہ اداروں کو فیصلہ سازی میں معاونت ملنے کی توقع ہے۔

چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے عالمی مارکیٹ تک رسائی

حکومت اور گوگل کی شراکت داری میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے مقامی کاروباری اداروں کو اپنی مصنوعات اور خدمات عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں مدد فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے کاروبار اگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، آن لائن مارکیٹنگ، ای کامرس اور جدید ادائیگیوں کے نظام سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھائیں تو وہ ملکی مارکیٹ سے آگے بڑھ کر بین الاقوامی صارفین تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

مقامی ایپ ڈویلپرز اور گیمنگ انڈسٹری کی معاونت

ایم او یو کے تحت گوگل اور پاکستان مقامی ایپ ڈویلپرز اور گیمنگ اسٹوڈیوز کی معاونت کے لیے بھی مل کر کام کریں گے۔

پاکستان میں نوجوانوں کی بڑی تعداد سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، موبائل ایپلی کیشنز اور گیم ڈویلپمنٹ کے شعبوں سے وابستہ ہے۔ اس شعبے میں عالمی معیار کی تربیت، پلیٹ فارمز تک رسائی اور مارکیٹ روابط پیدا ہونے سے پاکستانی ڈویلپرز کے لیے عالمی سطح پر نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔

گیمنگ اور ایپ ڈویلپمنٹ کو برآمدی صنعت کے طور پر فروغ دینے سے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں نئی آمدنی شامل ہونے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

ڈیجیٹل پیمنٹس اور ڈیجیٹل ٹریڈ پر توجہ

دونوں فریقوں نے پاکستان کے ڈیجیٹل پیمنٹس ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل ٹریڈ کو فروغ دینے کے طریقوں کا جائزہ لینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے کاروباری لین دین کو مزید آسان بنانے، آن لائن کاروبار کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور ڈیجیٹل معیشت میں صارفین اور کاروباری اداروں کی شمولیت بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اسی طرح ڈیجیٹل ٹریڈ کے فروغ سے پاکستان کی آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کو عالمی مارکیٹ میں زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرنے کے امکانات پیدا ہوں گے۔

آئی ٹی برآمدات میں رکاوٹوں کی نشاندہی کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس

معاہدے کے تحت حکومت پاکستان، گوگل اور اہم صنعتی اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ ٹاسک فورس بھی قائم کی جائے گی۔

اس ٹاسک فورس کا مقصد پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی راہ میں موجود رکاوٹوں اور نئے مواقع کی نشاندہی کرنا ہوگا۔

ٹاسک فورس پاکستان کے ڈیجیٹل شعبے کی ضروریات، عالمی مارکیٹ کے رجحانات اور مقامی صنعت کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لے گی اور ان کے حل کے لیے ممکنہ اقدامات تجویز کرے گی۔

ہارڈویئر مینوفیکچرنگ اور آئی ٹی سروسز کے لیے سرمایہ کاری

مشترکہ ٹاسک فورس ہارڈویئر مینوفیکچرنگ اور آئی ٹی سروسز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے فریم ورک پر بھی کام کرے گی۔

پاکستان میں ہارڈویئر کی مقامی تیاری اور آئی ٹی سروسز کی برآمدات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ڈیجیٹل معیشت کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اس کے ساتھ عالمی منڈیوں تک رسائی، انسانی وسائل کی اپ اسکلنگ اور پاکستانی کمپنیوں کی بین الاقوامی مسابقتی صلاحیت بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

گوگل کی پاکستان کے لیے معاونت کا عزم

گوگل کے پاکستان، فلپائن اور تھائی لینڈ کے کلسٹر ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط کرنا گوگل کے لیے باعث اعزاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تعاون پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور نوجوان نسل کو جدید مہارتیں فراہم کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔

فرحان قریشی کے مطابق گوگل پاکستان کو 30 ارب ڈالر کی ڈیجیٹل معیشت کے ہدف کی جانب بڑھنے میں معاونت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

شزہ فاطمہ خواجہ کا ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے پر اظہار خیال

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ دو برس کے دوران پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو جدید بنانے، کاروبار کرنے کے عمل کو آسان بنانے اور آئی ٹی کے شعبے میں مہارت رکھنے والے افراد کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بھرپور اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور گوگل کے درمیان آج ہونے والا معاہدہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کے ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے پر ہونے والی پیش رفت کا ثبوت ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ گوگل کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں پاکستان کے نوجوانوں، آئی ٹی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس، ڈویلپرز اور کاروباری اداروں کو عالمی سطح پر نئے مواقع حاصل ہوں گے۔

ڈیجیٹل معیشت کے لیے اہم پیش رفت

پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی اور ڈیجیٹل شعبے کی وسعت کے تناظر میں حکومت اور گوگل کے درمیان یہ تعاون اہم قرار دیا جارہا ہے۔

150 ہزار گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس، طلبہ کے لیے جدید اے آئی ٹولز تک ممکنہ مفت رسائی، اسلام آباد میں اے آئی سینٹر آف ایکسی لینس، ایف بی آر اور زراعت میں مصنوعی ذہانت کا استعمال، ایس ایم ایز کی عالمی منڈی تک رسائی اور ایپ ڈویلپرز و گیمنگ اسٹوڈیوز کی معاونت جیسے اقدامات پاکستان کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کو مختلف سطحوں پر متاثر کرسکتے ہیں۔

نوجوانوں کے لیے عالمی مواقع پیدا کرنے کی کوشش

حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل مہارتوں اور مصنوعی ذہانت تک رسائی میں اضافے سے پاکستان کے نوجوانوں کو مقامی ملازمتوں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر فری لانسنگ، ریموٹ ورک، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل سروسز کی برآمد کے مواقع حاصل ہوسکتے ہیں۔

اگر تربیتی پروگرام، سرٹیفکیٹس اور صنعت سے روابط مؤثر انداز میں نافذ کیے جاتے ہیں تو پاکستانی نوجوان عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔

پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے نیا مرحلہ

حکومت پاکستان اور گوگل کے درمیان طے پانے والا ایم او یو پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک وسیع تعاون کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس میں صرف نوجوانوں کی تربیت نہیں بلکہ حکومتی اصلاحات، مصنوعی ذہانت، زراعت، کاروبار، ڈیجیٹل ادائیگیوں، ایپ ڈویلپمنٹ، گیمنگ، ہارڈویئر مینوفیکچرنگ اور آئی ٹی برآمدات جیسے متعدد شعبے شامل ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور نئی مہارتوں سے بااختیار بنانے پر زور اور گوگل کی جانب سے پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے عزم کے بعد اس شراکت داری کو پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل میں ایک اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔

اگر طے شدہ اقدامات مؤثر انداز میں عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو پاکستان نہ صرف اپنی نوجوان افرادی قوت کو عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ کے لیے تیار کرسکتا ہے بلکہ 2030 تک 30 ارب ڈالر کی ڈیجیٹل معیشت اور آئی ٹی برآمدات کے ہدف کے حصول کی جانب بھی نمایاں پیش رفت کرسکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button