یورپتازہ ترین

چھ یورپی ملک نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے کے خلاف

اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ ای-ون منصوبہ ایک متحد اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

اے ایف پی کے ساتھ

جرمنی سمیت چھ یورپی ممالک اور کینیڈا نے یروشلم کے قریب اسرائیل کی نئی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے اسرائیل سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں میں توسیع روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

چھ یورپی ممالک اور کینیڈا کا یہ مشترکہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اسرائیلی حکام نے اس علاقے میں 1,200 سے زائد نئے مکانات کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کیے ہیں۔

اس مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں صورت حال پہلے ہی انتہائی خراب ہے، جہاں عام شہریوں کے خلاف یہودی آباد کاروں کے تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ فلسطینی معیشت کو بھی متعدد پابندیوں کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کا یہ فیصلہ مزید تشویش کا باعث ہے۔

17 مئی 2026 کو مقبوضہ مغربی کنارے کے مشرقی علاقے عزون میں زیتون کے درختوں کے درمیان ایک اسرائیلی بلڈوزر زمین پر کام کر رہا ہے، جبکہ پس منظر میں نئی اسرائیلی بستی کا ایک محلہ زیرِ تعمیر دکھائی دے رہا ہے
چھ یورپی ممالک اور کینیڈا کے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مغربی کنارے میں عام شہریوں کے خلاف یہودی آباد کاروں کے تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے، ایسے حالات میں اسرائیل کا یہ فیصلہ مزید تشویش کا باعث ہےتصویر: Mohammad Nazal/Middle East Images/picture alliance

ای-ون منصوبہ کیا ہے؟

اسرائیل نے ای-ون (E-1) منصوبے کی منظوری گزشتہ سال دی تھی۔ اس منصوبے کے تحت مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کے درمیان واقع علاقے میں نئی اسرائیلی بستیاں تعمیر کی جائیں گی۔

مشرقی یروشلم پر اسرائیل کا کنٹرول ہے اور وہاں بڑی تعداد میں فلسطینی آباد ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ای-ون منصوبے کے نتیجے میں مشرقی یروشلم مقبوضہ مغربی کنارے سے الگ ہو سکتا ہے، جس سے مستقبل میں ایک متصل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔

اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ ای-ون منصوبہ ایک متحد اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور توسیع کو فلسطینیوں اور متعدد عالمی اداروں کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا رہا ہے، جبکہ اسرائیل اپنے سکیورٹی اور تاریخی دعووں کی بنیاد پر ان علاقوں سے متعلق اپنی پالیسیوں کا دفاع کرتا ہے۔

23 جون 2026 کو اسرائیلی فوجیوں کی نگرانی میں اسرائیلی بلڈوزر فلسطینی خاندان العطرش کے گھر کو منہدم کر رہے ہیں۔ حکام نے اس کارروائی کے لیے عمارت کا اجازت نامہ نہ ہونے کو وجہ قرار دیا
اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سعار کا کہنا ہے کہ یہودی عوام کو بھی پوری سرزمینِ اسرائیل میں رہنے کا حق حاصل ہےتصویر: Hazem Bader/AFP

اسرائیل کا ردعمل

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کے وزیر خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں مجوزہ آباد کاری منصوبے کو روکنے کے مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سعار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس‘ پر لکھا، ”یہودی عوام کو بھی پوری سرزمینِ اسرائیل میں رہنے کا حق حاصل ہے، جس طرح برطانوی عوام کو لندن اور پورے برطانیہ میں رہنے کا حق حاصل ہے۔‘‘

دراصل برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیلی اقدام کو ’’ناقابل قبول اور تباہ کن قدم‘‘ قرار دیا  تھا اور کہا تھا کہ یہ اقدام دو ریاستی حل کے قابل عمل ہونے کو خطرے میں ڈال دے گا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے برطانیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ ”صرف اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے جبکہ فلسطینی انتہا پسندی کو نظرانداز کر رہا ہے۔‘‘

سعار نے عزم ظاہر کیا کہ اسرائیل اپنے حقوق، مفادات اور عوام کا دفاع کرے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button