
اے ایف پی کے ساتھ
چھ یورپی ممالک اور کینیڈا کا یہ مشترکہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اسرائیلی حکام نے اس علاقے میں 1,200 سے زائد نئے مکانات کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کیے ہیں۔
اس مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں صورت حال پہلے ہی انتہائی خراب ہے، جہاں عام شہریوں کے خلاف یہودی آباد کاروں کے تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ فلسطینی معیشت کو بھی متعدد پابندیوں کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کا یہ فیصلہ مزید تشویش کا باعث ہے۔

ای-ون منصوبہ کیا ہے؟
اسرائیل نے ای-ون (E-1) منصوبے کی منظوری گزشتہ سال دی تھی۔ اس منصوبے کے تحت مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کے درمیان واقع علاقے میں نئی اسرائیلی بستیاں تعمیر کی جائیں گی۔
مشرقی یروشلم پر اسرائیل کا کنٹرول ہے اور وہاں بڑی تعداد میں فلسطینی آباد ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ای-ون منصوبے کے نتیجے میں مشرقی یروشلم مقبوضہ مغربی کنارے سے الگ ہو سکتا ہے، جس سے مستقبل میں ایک متصل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔
اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ ای-ون منصوبہ ایک متحد اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور توسیع کو فلسطینیوں اور متعدد عالمی اداروں کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا رہا ہے، جبکہ اسرائیل اپنے سکیورٹی اور تاریخی دعووں کی بنیاد پر ان علاقوں سے متعلق اپنی پالیسیوں کا دفاع کرتا ہے۔

اسرائیل کا ردعمل
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کے وزیر خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں مجوزہ آباد کاری منصوبے کو روکنے کے مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سعار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس‘ پر لکھا، ”یہودی عوام کو بھی پوری سرزمینِ اسرائیل میں رہنے کا حق حاصل ہے، جس طرح برطانوی عوام کو لندن اور پورے برطانیہ میں رہنے کا حق حاصل ہے۔‘‘
دراصل برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیلی اقدام کو ’’ناقابل قبول اور تباہ کن قدم‘‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ اقدام دو ریاستی حل کے قابل عمل ہونے کو خطرے میں ڈال دے گا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ نے برطانیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ ”صرف اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے جبکہ فلسطینی انتہا پسندی کو نظرانداز کر رہا ہے۔‘‘
سعار نے عزم ظاہر کیا کہ اسرائیل اپنے حقوق، مفادات اور عوام کا دفاع کرے گا۔



