
دی گارڈئین نیوز کے مطابق
برطانوی حکومت نے قدرتی آفات، شدید موسمی حالات، سائبر حملوں اور ممکنہ دشمن کارروائیوں سمیت مختلف ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عوامی سطح پر تیاری بڑھانے کا منصوبہ تیز کردیا ہے۔ نئی حکومتی مہم کے تحت شہریوں کو مشورہ دیا جائے گا کہ وہ گھروں میں بنیادی ضروریات، خصوصاً بوتل بند پانی اور طویل مدت تک محفوظ رہنے والی خوراک کا مناسب ذخیرہ رکھیں تاکہ کسی بڑے بحران کی صورت میں ابتدائی دنوں میں وہ اپنی ضروریات پوری کرسکیں۔
یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ رواں موسم گرما میں شدید گرمی، جنگلات میں آگ، پانی کی قلت اور دیگر موسمی خطرات کا سامنا کرچکا ہے، جبکہ حکومت کو روس سمیت دشمن ریاستوں سے متعلق ممکنہ سکیورٹی خطرات اور سائبر حملوں پر بھی تشویش ہے۔ برطانوی حکومت نے جولائی میں بھی شہریوں کو قومی بحرانوں کے لیے "چھوٹے مگر اہم اقدامات” کرنے کی ترغیب دی تھی۔
نئی ہنگامی رہنمائی کا مقصد کیا ہے؟
برطانوی حکومت کی تیار کردہ نئی ایمرجنسی گائیڈنس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کسی بڑے بحران کی صورت میں شہری مکمل طور پر حکومتی امداد پر منحصر نہ ہوں بلکہ ابتدائی مرحلے میں اپنی بنیادی ضروریات خود پوری کرسکیں۔
رپورٹس کے مطابق حکومت عوام کو خوراک، پانی اور دیگر ضروری اشیا گھر میں رکھنے کی ترغیب دے گی۔ سرکاری تیاری کے موجودہ رہنما اصولوں میں بھی بوتل بند پانی، ایسی خوراک جو پکانے کی ضرورت کے بغیر استعمال کی جاسکے، ابتدائی طبی امداد کا سامان، ٹارچ، اضافی بیٹریاں اور دیگر بنیادی اشیا شامل ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تیاری کا مقصد خوف پھیلانا نہیں بلکہ معاشرے کی resilience یعنی بحران کے دوران برداشت، خود انحصاری اور تیزی سے بحالی کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
بوتل بند پانی اور ڈبہ بند خوراک پر خاص زور
نئی مہم میں شہریوں کو خاص طور پر پانی اور خوراک کا محدود ذخیرہ رکھنے کا مشورہ دیے جانے کی توقع ہے۔
حکومت کے موجودہ "Prepare” رہنما اصولوں کے مطابق ہنگامی حالات کے لیے پانی کی کوئی ایک مقررہ مقدار نہیں، کیونکہ ضرورت کا انحصار گھر کے افراد اور بحران کی مدت پر ہوتا ہے۔ تاہم عالمی ادارۂ صحت کی بنیاد پر کم از کم 2.5 سے 3 لیٹر پینے کا پانی فی فرد روزانہ بقا کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے، جبکہ کھانا پکانے اور بنیادی صفائی سمیت زیادہ آرام دہ ضروریات کے لیے تقریباً 10 لیٹر فی فرد روزانہ تک ضرورت ہوسکتی ہے۔
اسی طرح ایسی غیر خراب ہونے والی خوراک رکھنے کی سفارش کی گئی ہے جو بغیر پکائے بھی کھائی جاسکے، مثلاً ڈبہ بند گوشت، پھل اور سبزیاں، جبکہ ٹن اوپنر بھی ہنگامی کٹ کا حصہ ہونا چاہیے۔
یہ صرف جنگ کے خطرے سے متعلق مہم نہیں
اگرچہ نئی بحث میں دشمن ممالک کی جانب سے ممکنہ حملوں کا ذکر کیا جارہا ہے، تاہم حکومتی منصوبہ صرف جنگ یا میزائل حملوں تک محدود نہیں۔
اس میں شدید طوفان، سیلاب، جنگلات میں آگ، انتہائی گرمی، بجلی یا پانی کی فراہمی میں خلل، سائبر حملے اور دیگر قومی سطح کے بحران بھی شامل ہیں۔
برطانوی حکومت کے 2026 کے National Risk Register میں ملک کو درپیش سنگین ترین خطرات کا جائزہ شامل ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ افراد، خاندانوں اور کمیونٹیز کے لیے ہنگامی تیاری سے متعلق معلومات بھی دستیاب ہیں۔
شدید موسمی حالات نے حکومت کو متحرک کیا
رواں موسم گرما میں برطانیہ کو شدید گرمی اور جنگلات میں آگ کے خطرات نے خاص طور پر متاثر کیا ہے۔
14 اگست کو انگلینڈ اور ویلز میں لاکھوں افراد کے موبائل فونز پر حکومت کی جانب سے ایک ہنگامی الرٹ بھیجا گیا جس میں ملک بھر میں جنگلات میں آگ کے انتہائی شدید خطرے سے خبردار کیا گیا تھا۔
یہ ہنگامی الرٹ برطانیہ کے موبائل ایمرجنسی الرٹ سسٹم کے اب تک کے سب سے وسیع استعمال میں شمار کیا گیا۔ شہریوں کو ایسی سرگرمیوں سے گریز کرنے کا کہا گیا جن سے آگ لگ سکتی تھی، جن میں باربی کیو یا کیمپ فائر جیسی سرگرمیاں شامل تھیں۔
جنگلات میں آگ کا غیر معمولی خطرہ
حالیہ ہفتوں میں برطانیہ کے مختلف حصوں میں خشک موسم، بلند درجہ حرارت اور خشک گھاس و فصلوں کے باعث آگ کے خطرات میں اضافہ ہوا۔
حکومت کے لیے یہ صورتحال اس بات کی عملی مثال بن گئی کہ قدرتی آفت کے دوران صرف فائر بریگیڈ اور دیگر ہنگامی اداروں کی صلاحیت کافی نہیں ہوتی بلکہ عوام کو بھی پہلے سے تیار رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس تناظر میں نئی مہم کے ذریعے حکومت شہریوں میں یہ شعور پیدا کرنا چاہتی ہے کہ ہنگامی صورتحال میں چند دنوں کے لیے بنیادی اشیا کی دستیابی گھروں میں موجود ہونی چاہیے۔
روس سے ممکنہ خطرات بھی حکومتی تشویش کا حصہ
قدرتی آفات کے ساتھ ساتھ برطانوی حکومت کو روس سے متعلق سکیورٹی خطرات پر بھی تشویش ہے۔
برطانوی انٹیلی جنس اور سکیورٹی حکام کو خدشہ ہے کہ روس براہ راست فوجی کارروائی کے بجائے نام نہاد "گری زون” کارروائیوں کا سہارا لے سکتا ہے۔
گری زون سے مراد ایسی سرگرمیاں ہیں جو روایتی جنگ اور معمول کے امن کے درمیان رہتی ہیں اور جن کے ذمہ دار کا تعین یا ثبوت پیش کرنا بعض اوقات مشکل ہوتا ہے۔
ان میں سائبر حملے، تخریب کاری، اثرانداز ہونے کی کارروائیاں، پراکسی گروہوں کے ذریعے حملے اور دیگر خفیہ سرگرمیاں شامل ہوسکتی ہیں۔
پراکسی حملوں کا خدشہ
برطانوی حکام کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ ماسکو براہ راست اپنی ریاستی فورسز استعمال کرنے کے بجائے جرائم پیشہ گروہوں یا کرائے کے عناصر کے ذریعے کارروائیاں کراسکتا ہے۔
ایسی کارروائیوں کا مقصد بعض اوقات کسی ملک کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا یا خوف و بے یقینی پیدا کرنا ہوسکتا ہے، جبکہ حملہ آور ملک اپنے براہ راست ملوث ہونے سے انکار کرسکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ برطانوی حکومت اب قومی دفاع اور شہری سطح کی تیاری کو ایک وسیع تر تصور کے تحت دیکھ رہی ہے۔
سائبر حملوں کا بڑھتا ہوا خطرہ
برطانیہ کے لیے سائبر سکیورٹی بھی اہم تشویش بن چکی ہے۔
جدید معاشرے میں بجلی، پانی، مواصلات، بینکنگ، خوراک کی ترسیل اور دیگر بنیادی خدمات بڑی حد تک ڈیجیٹل نظام پر انحصار کرتی ہیں۔
اگر کسی بڑے سائبر حملے کے نتیجے میں ان نظاموں میں خلل پیدا ہوجائے تو شہریوں کو فوری طور پر کئی بنیادی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اسی لیے برطانوی حکومت کی نئی تیاری مہم میں شہریوں کو ایسے بحرانوں کے لیے بھی ذہنی اور عملی طور پر تیار رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
حکومت شہریوں کو خوفزدہ نہیں کرنا چاہتی
حکومتی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ نئی رہنمائی کا مقصد شہریوں میں جنگ یا تباہی کا خوف پیدا کرنا نہیں۔
سرکاری مؤقف کے مطابق گھر میں کچھ اضافی پانی اور غیر خراب ہونے والی خوراک رکھنا ایک معمولی احتیاط ہے جو کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں کام آسکتی ہے۔
یعنی اگر طوفان کے باعث بجلی بند ہوجائے، سیلاب کے نتیجے میں نقل و حرکت محدود ہوجائے، جنگلات کی آگ کے باعث کسی علاقے کو خالی کرنا پڑے یا سائبر حملے سے دکانوں اور ادائیگی کے نظام متاثر ہوں تو خاندان کچھ عرصے تک بنیادی ضروریات پوری کرسکیں۔
برطانوی کابینہ دفتر کا مؤقف
برطانوی کابینہ دفتر نے اس سلسلے میں قومی سلامتی اور شہری تیاری کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی برقرار رکھنا کسی بھی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور شہریوں میں ان آسان اقدامات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ضروری ہے جو خاندان اپنی تیاری بہتر بنانے کے لیے کرسکتے ہیں۔
حکومت ساتھ ہی ملک کی مجموعی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے داخلی دفاع اور قومی resilience کے پروگراموں کو بھی آگے بڑھا رہی ہے۔
سرد جنگ کے دور جیسی ہدایات نہیں ہوں گی
حکومتی حلقوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ نئی ہنگامی رہنمائی سرد جنگ کے دور کی طرح خوف پیدا کرنے والی نہیں ہوگی۔
ایک سرکاری اہلکار کے مطابق یہ رہنما اصول امریکی سرد جنگ کے زمانے میں اسکول کے بچوں کو ایٹمی حملے کی صورت میں ڈیسکوں کے نیچے چھپنے کی ہدایات جیسے نہیں ہوں گے۔
اس کے بجائے عوام کو عملی اقدامات کے بارے میں بتایا جائے گا، مثلاً گھر میں پانی، ڈبہ بند خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کی مناسب مقدار رکھنا۔
یورپ میں بھی شہری تیاری پر زور
برطانیہ کا یہ رجحان یورپ کے وسیع تر ماحول سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔
حالیہ برسوں میں یورپی ممالک میں جنگ، سائبر حملوں، سیلاب، شدید گرمی اور جنگلات کی آگ جیسے خطرات کے باعث شہریوں کو ہنگامی کٹس اور بنیادی ضروریات تیار رکھنے کے مشورے دیے گئے ہیں۔
رواں سال کی ایک رپورٹ کے مطابق یورپی یونین میں بھی جنگ، جنگلات کی آگ اور سائبر حملوں کے خدشات کے باعث بحران کے وقت نقد رقم رکھنے کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ شہریوں کو پانی، ٹرانزسٹر ریڈیو اور ڈبہ بند خوراک جیسی اشیا پر مشتمل ہنگامی کٹ رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
برطانوی شہریوں کے لیے مجوزہ ہنگامی کٹ میں کیا ہوسکتا ہے؟
برطانوی حکومت کی موجودہ سرکاری رہنمائی میں ہنگامی تیاری کے لیے کئی بنیادی اشیا تجویز کی گئی ہیں۔
ان میں:
- بوتل بند پانی
- بغیر پکائے استعمال ہونے والی غیر خراب خوراک
- ٹن اوپنر
- ابتدائی طبی امداد کا سامان
- ٹارچ
- اضافی بیٹریاں
- ریڈیو اور اس کی اضافی بیٹریاں
- موبائل یا طبی آلات کے لیے بیک اپ بیٹری
- ہینڈ سینیٹائزر اور ویٹ وائپس
- بچوں کے لیے ڈائپر اور تیار استعمال ہونے والا فارمولا
- پالتو جانوروں کے لیے ضروری خوراک
شامل ہوسکتی ہیں۔
حکومت شہریوں کو یہ بھی مشورہ دیتی ہے کہ ضروری اشیا ایک ہی مرتبہ خریدنے کے بجائے اپنی استطاعت کے مطابق بتدریج ہنگامی کٹ تیار کی جاسکتی ہے۔
حکومت کی نئی حکمت عملی کا وسیع تر مقصد
نئی مہم دراصل برطانیہ کی قومی resilience پالیسی کا حصہ بنتی دکھائی دے رہی ہے۔
حکومت کی کوشش ہے کہ بحران کے وقت امدادی ادارے سب سے زیادہ کمزور اور ضرورت مند افراد پر اپنی توجہ مرکوز کرسکیں جبکہ باقی خاندان ابتدائی مرحلے میں اپنی بنیادی ضروریات خود پوری کرسکیں۔
اس سے ہسپتالوں، فائر سروس، پولیس، مقامی حکومتوں اور دیگر ہنگامی اداروں پر فوری دباؤ کم ہوسکتا ہے۔
قومی سطح پر تیاری کا نیا تصور
برطانیہ کی تازہ حکمت عملی میں قومی سلامتی کو صرف فوجی دفاع تک محدود نہیں رکھا جارہا۔
اب خوراک، پانی، توانائی، مواصلات، سائبر سکیورٹی، صحت، موسمیاتی خطرات اور شہریوں کی ذاتی تیاری کو بھی مجموعی قومی سلامتی کا حصہ سمجھا جارہا ہے۔
حکومت کی 2026 کی سرکاری National Risk Register بھی مختلف نوعیت کے بڑے خطرات اور ان کے ممکنہ اثرات کا جائزہ پیش کرتی ہے۔
وزیراعظم اینڈی برنہم اور روس کے حوالے سے سخت مؤقف
رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم بھی روس کی جانب سے برطانیہ کو دی جانے والی مبینہ دھمکیوں کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرچکے ہیں۔
یہ صورتحال اس وقت مزید حساس ہوئی جب برطانیہ کی جانب سے یوکرین کی دفاعی صلاحیت بڑھانے میں مدد دینے کے اقدامات سامنے آئے۔
روس اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی نے یورپی ممالک کو اپنے دفاعی ڈھانچوں کے ساتھ ساتھ شہری تحفظ اور قومی resilience کے نظام پر بھی دوبارہ توجہ دینے پر مجبور کیا ہے۔
سابق وزیراعظم کیئر اسٹامر کی روس سے متعلق وارننگ
اس سے قبل سابق برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹامر نے بھی نیٹو اور روس کے درمیان ممکنہ مستقبل کے تنازع کے خدشات کا اظہار کیا تھا اور 2030 تک روس کی جانب سے نیٹو کو لاحق ممکنہ خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
یہ تمام بیانات اس وسیع تر یورپی بحث کا حصہ ہیں جس میں یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ روس کے ساتھ طویل مدتی کشیدگی کی صورت میں یورپی معاشروں کو کس حد تک تیار رہنا چاہیے۔
جنگ کے علاوہ قدرتی آفات بھی بڑا خطرہ
برطانوی حکومت کی نئی پالیسی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ شہری تیاری کو صرف جنگی خطرات سے جوڑا نہیں جارہا۔
حالیہ شدید گرمی اور جنگلات کی آگ نے واضح کیا ہے کہ قدرتی آفات بھی کسی ملک کے بنیادی ڈھانچے اور شہری زندگی کو شدید متاثر کرسکتی ہیں۔
جولائی میں حکومت نے بھی شہریوں کو شدید موسمی حالات، سائبر حملوں اور دیگر قومی بحرانوں کے لیے بنیادی تیاری بڑھانے کی ترغیب دی تھی۔
برطانیہ میں ایمرجنسی الرٹ سسٹم کا بڑھتا استعمال
رواں ماہ جنگلات میں آگ کے خطرے کے دوران موبائل فونز پر بڑے پیمانے پر ہنگامی الرٹ بھیجے جانے سے یہ بحث بھی دوبارہ سامنے آئی کہ حکومت شہریوں کو بحران کے وقت کتنی جلدی اور کس انداز میں خبردار کرسکتی ہے۔
14 اگست کا الرٹ لاکھوں افراد تک پہنچا اور شہریوں کو آگ کے خطرے کے پیش نظر ایسی سرگرمیوں سے روکنے کی کوشش کی گئی جو شعلے یا چنگاری پیدا کرسکتی تھیں۔
اس تجربے نے برطانوی حکومت کے لیے یہ موقع بھی فراہم کیا کہ وہ قومی سطح پر ہنگامی رابطے کے نظام کی افادیت اور عوامی ردعمل کا جائزہ لے۔
نئی رہنمائی کے ممکنہ اثرات
اگر حکومت کی نئی مہم بڑے پیمانے پر شروع ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں برطانوی گھروں میں ہنگامی سامان رکھنے کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔
اس سے ایک طرف شہریوں کی تیاری بہتر ہوگی، جبکہ دوسری طرف حکومت کو امید ہے کہ کسی بڑے بحران کی صورت میں ہنگامی خدمات فوری طور پر انتہائی متاثرہ علاقوں اور کمزور افراد پر توجہ مرکوز کرسکیں گی۔
تاہم اس مہم کے لیے ضروری ہوگا کہ حکومت واضح کرے کہ شہریوں کو کتنی مقدار میں سامان رکھنے کی ضرورت ہے، اسے کتنے عرصے کے لیے ذخیرہ کرنا چاہیے اور مختلف خطرات کی صورت میں انہیں کیا کرنا ہوگا۔
حکومت کے لیے چیلنج
اس مہم کا سب سے بڑا چیلنج خوف اور احتیاط کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔
اگر حکومت کی زبان بہت زیادہ عسکری یا خوف پیدا کرنے والی ہوئی تو شہریوں میں غیر ضروری بے چینی پیدا ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر خطرات کو بہت معمولی ظاہر کیا گیا تو عوام ممکنہ بحران کے لیے مطلوبہ سنجیدگی سے تیاری نہیں کریں گے۔
اسی لیے حکام عملی، سادہ اور قابلِ عمل ہدایات دینے پر زور دے رہے ہیں۔
اہم نکات ایک نظر میں
- برطانوی حکومت نئی قومی ہنگامی رہنمائی جاری کرنے کی تیاری کررہی ہے۔
- شہریوں کو پانی اور غیر خراب ہونے والی خوراک ذخیرہ کرنے کا مشورہ دیا جائے گا۔
- رہنمائی میں شدید طوفان، جنگلات کی آگ، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات شامل ہوں گی۔
- سائبر حملوں اور دشمن ریاستوں کی ممکنہ کارروائیوں کو بھی خطرات میں شمار کیا جارہا ہے۔
- حکومت کا مقصد شہریوں کی resilience اور خود انحصاری بڑھانا ہے۔
- 14 اگست کو انگلینڈ اور ویلز میں لاکھوں افراد کو جنگلات میں آگ کے خطرے کا ہنگامی الرٹ موصول ہوا تھا۔
- حکومت کا کہنا ہے کہ نئی مہم خوف پھیلانے کے بجائے عملی تیاری پر مبنی ہوگی۔
- برطانیہ روس کی ممکنہ گری زون سرگرمیوں اور سائبر خطرات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔
- 2026 کے National Risk Register میں برطانیہ کو درپیش سنگین خطرات کا تازہ جائزہ موجود ہے۔ سرکاری ہنگامی رہنمائی میں پانی، خوراک، ٹارچ، بیٹریاں، ابتدائی طبی سامان اور دیگر بنیادی اشیا رکھنے کی سفارش پہلے ہی موجود ہے۔
نتیجہ
برطانیہ کی جانب سے شہریوں کو پانی، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات گھر میں رکھنے کی ترغیب ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو بیک وقت شدید موسمی حالات، جنگلات میں آگ، سائبر حملوں اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی جیسے مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے۔
حکومت اس پالیسی کو جنگ کی تیاری کے طور پر پیش کرنے کے بجائے وسیع تر قومی resilience پروگرام کے طور پر بیان کررہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کسی بھی بڑے بحران کے ابتدائی مرحلے میں خاندان بنیادی ضروریات کے لیے کچھ حد تک خود انحصار ہوں اور سرکاری امدادی ادارے انتہائی ضرورت مند افراد پر توجہ مرکوز کرسکیں۔
سرکاری ہنگامی تیاری کے موجودہ اصول بھی شہریوں کو پانی، غیر خراب خوراک، ابتدائی طبی سامان، روشنی اور مواصلات کے متبادل ذرائع رکھنے کی ترغیب دیتے ہیں
یوں برطانیہ میں قومی سلامتی کا تصور اب صرف فوجی دفاع تک محدود نہیں رہا بلکہ موسمیاتی خطرات، سائبر سکیورٹی، بنیادی ڈھانچے، خوراک و پانی کی فراہمی اور عام شہریوں کی تیاری بھی اس کا اہم حصہ بنتی جارہی ہے۔


