کالمزناصف اعوان

مزاج بدل گئے……..ناصف اعوان

بہرحال ہمارا معاشرہ شکست و ریخت کا شکار ہے اس میں یکجہتی اور محبت کا جذبہ دھیرے دھیرے کم ہوتا جا رہا ہے جو ملکی استحکام اور ملکی معیشت کو متاثر کر رہا ہے

اناسی برس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عوام مہذب قوموں کے ساتھ کھڑے ہوتے ۔ان کی طرح انسانیت کی قدر کرتے ایذا رسانی ان کی ذہن سے نکل گئی ہوتی مگر ایسا نہیں ہو سکا لہذا اس وقت دیکھا جا سکتا ہے کہ دھوکا دہی وعدہ خلافی اور فریب کاری عام ہے۔ چند فیصد چھوڑ کر باقی سب اکتاہٹ بیزاری اور تنہائی کا شکار ہیں۔ کسی کے لئے اچھا سوچنا یا کسی کو کوئی فائدہ پہنچانا ممکن ہی نہیں رہا ۔ ہم ایسے لوگ بھی دیکھ رہے ہیں جو دانشوروں کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں پوری دنیا کے بارے پیش گوئیاں کرتے ہیں ۔معیشت کی خرابیاں بیان کرتے ہیں کون سا نظام بہتر ہے اور کون سا نہیں ‘ یہ بھی بتاتے ہیں لوگوں میں مفکر بن کر رہنا چاہتے ہیں مگر یقین کیجئیے کہ ان کے گفتار اور کردار میں واضح تضاد ہوتا ہے۔ وہ کسی کو عملاً فائدہ نہیں پہنچاتے مگر ان کے بھاشن مسلسل جاری رہتے ہیں اسی لئے ہی لوگ ان کی کسی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے ۔ ہمارے مشاہدے اور تجربے میں ایسے سیانے بھی آئے جو پرلے درجے کے منافق جھوٹے اور مکار تھے کہ کہتے کچھ تھے کرتے کچھ تھے مگر باتیں دانائی کی کرتے۔
اس طرح ہمارا سماج فکری طور سے اپاہنج ہو چکا ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاپ کاروباری نقطہ نظر سے ہونے لگا ہے کسی سے تعلق قائم کرنا کتنا مفید ہو گا اور کتنا نہیں یہ پہلے سوچا جانے لگا ہے۔ یہ انسانی معاشرہ کہلا سکتا ہے؟
اب جب شعور ترقی کر رہا ہے سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ بیداری کی لہریں دل و دماغ کو جھنجھوڑ رہی ہیں مگر لوگ پھر بھی اپنی اناؤں کے حصار میں جانا چاہ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں انسانی ہمدردی کے جذبات سرد پڑنے لگے ہیں لہذا جس کے جی میں جو آرہا ہے وہ کر رہا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دودھ سمیت دیگر اشیائے خورو نوش میں خطرہ ناک حد تک ملاوٹ کی جا رہی ہے مگر کوئی محکمہ بھی اس پر قابو نہیں پا رہا کیونکہ وہ بھی اسی ماحول اور سوچ کے زیر اثر ہے۔ بات در اصل یہ ہے کہ سماجی برائیاں ہوں یا خرابیاں ان کی وجہ ہمارا یہ نظام زندگی ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ جب اہل اختیار خود کسی اصول و ضابطہ کی پروا نہیں کرتے تو وہ کیوں کریں۔ قانون کی حکمرانی کے بجائے محکمانہ حکمرانی ہو گی تو لازمی لوگوں میں طرح طرح کے خیالات پیدا ہوں گے۔
بہرحال ہمارا معاشرہ شکست و ریخت کا شکار ہے اس میں یکجہتی اور محبت کا جذبہ دھیرے دھیرے کم ہوتا جا رہا ہے جو ملکی استحکام اور ملکی معیشت کو متاثر کر رہا ہے مگر جنہیں اس بارے سوچنا ہے وہ اپنے الجھیڑوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ہر کسی کا فرض ہے کہ وہ اپنی نسلوں کو ایک بہتر سوچ دینے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔
عجیب بات ہے کہ رہتے ہم اکٹھے ہیں اور طوعاً کرہأ باہمی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں تو بھی نہیں سمجھ رہے کہ آج کسی کو کوئی دھوکا دیں گے تو کل انہیں بھی ملے گا مگر ایسا نہیں سوچا جا رہا اور ہر کوئی اپنے انداز سے سوچ رہا ہے اور اس پر عمل کر رہا ہے جس سے سماجی مسائل میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
یہ سلسلہ چلتا رہا تو بہت جلد ہمارے لئے انتہائی تکلیف دہ صورت حال پیدا کر دے گا بلکہ وہ صورت حال پیدا ہو چکی ہے کہ ہمسایہ اپنے پہلو میں رہنے والے کو اہم نہیں سمجھتا اس کے دکھ درد میں شریک نہیں ہوتا۔ پوش بستیوں کے مکیں تو بالکل ایک دوسرے سے جدا ہیں کبھی کبھار ہی کوئی کسی سے بات کرتا ہے۔ کسی کو کوئی مسلہ درپیش ہو تو دوسرا اس کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہوتا یہ لوگ خود کو بڑے لوگ تصور کرتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔ جب کوئی آفت آتی ہے تو ان کی ساری اکڑ فوں کافور ہو جاتی ہے ۔سیلاب کے دنوں میں جب پانی ہر طرف اودھم مچاتا ہوا گھروں میں داخل ہوجاتا ہے تو پھر یہ خیال آتا ہے کہ کوئی ان کی مدد کرے۔ اس وقت سب آزردہ خاطر دکھائی دیتے ہیں ۔ زلزلہ بھی جب آتا ہے تو یہی منظر ابھرتا ہے سب اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ جنگ کے دنوں میں بھی ہر کوئی ایک دوسرے کے قریب آجاتا ہے ۔ گلے شکوے اور انا پرستی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ منظر عام زندگی میں بھی نظر آنا چاہیے کیونکہ تنہا کوئی کچھ نہیں کسی کو بیوقوف سمجھنے اور اسے دھوکا دینے سے عارضی طور سے تو تسکین مل سکتی ہے مستقلاً ایسا نہیں ہوتا۔
ہمارا بچپن اپنے گاؤں میں گزرا ہے وہاں ہم دیکھ رہے ہوتے کہ ہر کوئی مطمئن ہے ایک دوسرے کی خیر خیریت دریافت کرتا ہے وعدہ خلافی شاید کبھی کسی نے کی ہو گی وگرنہ ایسا سوچا بھی نہیں جاتا تھا۔ اجناس ہوں یا گائے بھینس کی خرید و فروخت اس کے لئے بطور ٹوکن لکڑی کے ایک ٹکڑے کو ہاتھ میں تھما دیا جاتا پھر کوئی اور اس کی قیمت کتنی ہی زیادہ ادا کرنے کو کہتا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ پہلے والا سودا منسوخ کر دیا جائے اندازہ کیجئیے لوگوں کی اخلاقیات کا کہ کس قدر اعلیٰ و ارفع تھی۔ رقم کی ادائی کرنا ہوتی تو بھی ایک تاریخ مقرر کر لی جاتی مجال ہے اسے آگے پیچھے کیا جاتا اب اشٹام پیپر بھی لکھا ہو تو لوگ مُکر جاتے ہیں جعلی چیک دے کر دھوکا دیتے ہیں۔ گاؤں میں کوئی بیمار پڑتا تو باری باری اہل دیہہ بیمار پرسی کرنے چلے آتے مشورے بھی دئیے جاتے کسی ماڑے کی مالی مدد بھی کر دی جاتی۔ دودھ میں ملاوٹ کا تو خیال بھی ذہن میں نہیں آتا تھا بلکہ جس گھر میں گائے بھینس نہیں ہوتی تھی اس کو کوئی نہ کوئی تھوڑا بہت دودھ مفت دے دیتا۔ صبح کے وقت لسی دی جاتی اس میں کوئی چھوٹا سا مکھن کا پیڑا ڈال دیا جاتا اس طرح جس کی زمین نہیں ہوتی تھی اگر وہ گندم اور چاول لینے آجاتا تو خوشی خوشی اسے دے دئیے جاتے۔ یہ تھا برسوں پہلے کا معاشرہ اب ہر کوئی بدل چکا ہے جبکہ مغربی و یورپی معاشروں میں رحم دلی اور ہمدردی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے کیونکہ انہیں انسانیت کی قدر ہے ۔ادھر ہیرا پھیری ہے۔ دوسروں کو نقصان پہنچانے اور حقوق سلب کرنے کے طریقے ایجاد کر لئے گئے ہیں۔
یہ درست ہے لوگوں کا مزاج اس لئے بھی تبدیل ہوا ہے کہ ہمارے جو حکمران ہیں وہ عوام کی کردار سازی کے لئے ضروری اقدامات نہیں کر رہے وہ انہیں انصاف روزگار مہنگائی اور بیماری سے نجات دلانے کے حوالے سے کوئی موثر کردار ادا نہیں کر پائے ان کی اہمیت و وجود کو انہوں نے آج تک تسلیم نہیں کیا ان کو شریک اقتدار بھی نہیں کیا گیا ان کے بنیادی مسائل کو دانستہ حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی میرٹ پالیسی نہیں بنائی جا سکی۔ رشوت سفارش نے عام آدمی کی زندگی کو بے کیف بنا کر رکھ دیا ہے اسی لئے اکتاہٹ بیزاری اور احساس محرومی و بیگانگی نے انہیں آن گھیرا ہے جس سے کسی طور بھی سماجی بہتری نہیں آسکتی۔ ان کی اخلاقیات بھی نہیں سنور سکتی لہذا ضروری ہو گیا ہے کہ حکمران سماج کو مہذب اور زمہ دار بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ اوپر سے صحت مند بدلاؤ آئے گا تو نیچے بھی عوام میں ایک مثبت عمل کی نمود ہو جائے گی !

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button