سائنس و ٹیکنالوجیتازہ ترین

کیا آپ مستقبل کے اپنے ’ہمزاد‘ سے ملنا چاہیں گے؟

زیادہ تر جرائم فوری فائدہ دیتے ہیں، جیسے جلدی پیسہ، سماجی حیثیت یا وقتی اطمینان، لیکن ان کے طویل المدتی نقصانات عموماً ان فوائد سے کہیں زیادہ سنگین ہوتے ہیں۔

کونر ڈِلن، گابریئل بورُڈ

جرمنی میں محققین کی ایک ٹیم نے ورچوئل ریئیلیٹی اور اسمارٹ فون پر مبنی ایسے ٹولز تیار کیے ہیں، جن کی مدد سے لوگ اپنے’مستقبل کے ہمزاد‘ سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

ذرا تصور کریں کہ آپ ایک ورچوئل کمرے میں بیٹھے ہیں اور آپ کے سامنے آپ ہی کا دس سال بعد کا روپ موجود ہے۔ بالوں میں ہلکی سفیدی آ چکی ہے، مگر چہرہ واضح طور پر آپ ہی کا ہے۔ یہ نہ کوئی خیالی منظر ہے، نہ مصنوعی فلٹر، بلکہ یہ آپ کی عمر رسیدہ لیکن ڈیجیٹل شکل ہے جو آپ کی طرف دیکھ رہی ہے۔

یہ ایک منفرد تجربہ ہے جسے ژان لوئس فان گیلڈر نے تیار کیا ہے۔ وہ جرمنی کے شہر فرائی برگ میں واقع ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ کے ماہر نفسیات اور جرائم سے متعلقہ علوم یا کریمینالوجی کے ماہر ہیں۔

ان کی ٹیم نے حال ہی میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا کہ جب لوگوں کو ان کے ڈیجیٹل طور پر عمر رسیدہ  اور ‘مستقبل کے خود‘ سے روبرو کرایا جاتا ہے، تو اس سے ان کی طویل المدتی سوچ مضبوط ہوتی ہے اور وہ اپنے ذاتی اہداف کے حصول کے لیے زیادہ مؤثر فیصلے کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

مستقبل کے ’ہمزاد‘ کی سائنس

اس تجربے کا طریقہ کار بظاہر نہایت سادہ ہے، مگر اس کے نتائج حیران کن ہیں۔ شرکاء کو پہلے ایک لیبارٹری میں بلایا جاتا ہے، جہاں ان کی تصویر لی جاتی ہے۔ اس کے بعد ایک خصوصی سافٹ ویئر کی مدد سے ان کے چہرے کو دس سال زیادہ عمر رسیدہ بنا دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد شرکاء کو ورچوئل ریئیلیٹی (وی آر) کے ماحول میں لے جایا جاتا ہے، جہاں وہ ایک ورچوئل آئینے میں اپنا موجودہ چہرہ دیکھتے ہیں، جبکہ ان کا دس سال بعد کا ڈیجیٹل روپ بھی کمرے میں سامنے بیٹھا ہوتا ہے۔ اس دوران وہ اپنے ‘مستقبل کے خود‘ یا ‘فیوچر سیلف‘ سے گفتگو کرتے ہیں، اس سے سوالات پوچھتے ہیں، اور اپنی ہی آواز کو قدرے بھاری اور عمر رسیدہ انداز میں سنتے ہیں تاکہ تجربہ زیادہ حقیقی محسوس ہو۔

فان گیلڈر کے مطابق اس تجربے کا سب سے اہم اثر یہ ہے کہ مستقبل ایک مبہم تصور کے بجائے ایک واضح اور حقیقی تصویر بن جاتا ہے۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب انسان کو اپنے مستقبل کے وجود کی ایک واضح ذہنی تصویر ملتی ہے، تو وہ اپنے بڑے اہداف کو چھوٹے اور قابل عمل مراحل میں تقسیم کرنے کے قابل ہو جاتا ہے، جس سے ان اہداف کے حصول کی ترغیب بھی بڑھ جاتی ہے۔

تحقیق کے دوران شرکاء نے اپنے ذاتی اہداف خود منتخب کیے، جن میں بہتر صحت، تعلیمی کارکردگی میں بہتری، ٹال مٹول کی عادت میں کمی، اور اسکرین ٹائم کم کرنا شامل تھے۔

نیویارک میں منعقدہ کلائمیٹ ویک کے دوران ورچوئل ریئلٹی پریزنٹیشن میں ہاراکبٹ برادری کے ایک فرد کا چہرہ دکھایا جا رہا ہے
اس تحقیق کا مقصد لوگوں کو اپنی ہی آواز اور اپنے تصور کردہ مستقبل کی مدد سے خود کو قائل کرنے میں مدد دینا ہے، تاکہ وہ بہتر فیصلے کر سکیںتصویر: Peregrino Sanocua

ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ یہ تحقیق کیوں کر رہا ہے؟

خود کو بہتر بنانے سے متعلق یہ تحقیق جرمنی کے ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ برائے مطالعہ جرم، سلامتی اور قانون میں کی جا رہی ہے، اور اس کی وجہ محض اتفاق نہیں ہے۔ فان گیلڈر کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابتدائی ہدف یونیورسٹی کے طلبہ نہیں بلکہ نوعمر جرائم پیشہ افراد تھے۔

ان کے مطابق جلد بازی میں فیصلے کرنا اور صرف قلیل المدتی فائدے کے بارے میں سوچنا نوعمر افراد میں جرائم کی پیش گوئی کرنے والے سب سے مضبوط عوامل میں شمار ہوتے ہیں۔

فان گیلڈر کا کہنا ہے کہ زیادہ تر جرائم فوری فائدہ دیتے ہیں، جیسے جلدی پیسہ، سماجی حیثیت یا وقتی اطمینان، لیکن ان کے طویل المدتی نقصانات عموماً ان فوائد سے کہیں زیادہ سنگین ہوتے ہیں۔

ان کے بقول اس زاویے سے دیکھا جائے تو جرائم میں ملوث نوجوان غیر منطقی نہیں ہوتے، بلکہ وہ اپنے مستقبل کی زندگی سے ذہنی طور پر کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ مستقبل کو اتنی کم اہمیت دیتے ہیں کہ اس کے ممکنہ نتائج ان کے آج کے فیصلوں پر اثر انداز ہی نہیں ہوتے۔

فان گیلڈر نے کہا، ”اگر آپ ان میں سے بعض نوجوانوں سے بات کریں، تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، وہ ان کے لیے اچھا نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس تحقیق کا مقصد لوگوں کو نصیحت کرنا نہیں، بلکہ انہیں اپنے ہی چہرے، اپنی ہی آواز اور اپنے تصور کردہ مستقبل کی مدد سے خود کو قائل کرنے میں مدد دینا ہے، تاکہ وہ بہتر فیصلے کر سکیں اور اپنی زندگی کے مثبت اہداف کی جانب عملی قدم بڑھائیں۔

21 اگست 2024 کو جرمنی کے شہر کولون میں منعقدہ گیمزکام ویڈیو گیمز تجارتی نمائش کے میڈیا ڈے کے موقع پر شرکاء ورچوئل ریئلٹی  چشمے پہن کر مختلف ڈیجیٹل تجربات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں
محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی مزید ترقی کر سکتی ہے اور آپ کے پانچ یا دس سال بعد کے خود کی نمائندگی کرتے ہوئے روزانہ آپ کی رہنمائی کر سکتی ہےتصویر: Ina Fassbender/AFP

آپ فی الحال کیا آزما سکتے ہیں؟

اس تجربے سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ کے پاس ورچوئل ریئیلیٹی ہیڈ سیٹ موجود ہو۔ فان گیلڈر اور ان کی ٹیم اس ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے ایک اسمارٹ فون ایپلی کیشن بھی تیار کر رہے ہیں۔

اس دوران وہ ایک نہایت سادہ طریقہ آزمانے کا مشورہ دیتے ہیں: جب بھی آپ کوئی اہم فیصلہ کرنے لگیں تو خود سے یہ سوال کریں: ”دس سال بعد میری مستقبل کی ذات میرے آج کیے جانے والے اس فیصلے کو کس نظر سے دیکھے گی؟‘‘

اس ذہنی مشق کو Episodic Future Thinking یا ‘ذہنی وقت کا سفر‘ کہا جاتا ہے اور فان گیلڈر کے مطابق وہ خود بھی اپنی روزمرہ زندگی میں اس طریقے کو اپناتے ہیں۔

ان کا ماننا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی مزید ترقی کر سکتی ہے۔ ان کے تصور کے مطابق ایک پرسنل اے آئی اوتار، جو آپ کے بولنے، سوچنے اور لکھنے کے انداز سے سیکھا ہو، مستقبل میں آپ کے پانچ یا دس سال بعد کے خود کی نمائندگی کرتے ہوئے روزانہ آپ کی رہنمائی کر سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button