پاکستانتازہ ترین

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے امیدوار سفیر اولارا اوتونو کی وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات، کثیرالجہتی نظام کے استحکام پر زور

ان چیلنجز سے کسی ایک ملک کے لیے تنہا نمٹنا ممکن نہیں، اس لیے عالمی برادری کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کے ذریعے مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔

سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار اور معروف یوگنڈن سفارت کار عزت مآب سفیر اولارا اوتونو نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اہم ملاقات کی، جس میں عالمی امن و سلامتی، کثیرالجہتی نظام، بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق، پائیدار ترقی اور اقوام متحدہ کے مستقبل کے کردار سمیت متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں سفیر اولارا اوتونو کے ہمراہ یوگنڈا کے صدر کے خصوصی ایلچی اور یوگنڈا کے سابق وزیراعظم عزت مآب روہاکانا روگونڈا بھی موجود تھے۔ پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ نے ملاقات میں شرکت کی۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں اور مقاصد کے لیے اپنی دیرینہ اور غیر متزلزل وابستگی برقرار رکھے گا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ موجودہ پیچیدہ عالمی صورتحال میں اقوام متحدہ کا مؤثر اور فعال کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے، جبکہ عالمی مسائل کا پائیدار حل کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اداروں کو مضبوط بنانے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

پاکستان کی اقوام متحدہ کے منشور سے پختہ وابستگی

وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کے دوران بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی معاہدوں کی پاسداری کریں۔

وزیراعظم نے اس امر پر بھی زور دیا کہ دنیا کو اس وقت کئی پیچیدہ اور باہم مربوط چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں علاقائی تنازعات، عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات، معاشی عدم مساوات، ترقی پذیر ممالک کو درپیش مشکلات، انسانی حقوق کے مسائل اور پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان چیلنجز سے کسی ایک ملک کے لیے تنہا نمٹنا ممکن نہیں، اس لیے عالمی برادری کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کے ذریعے مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔

کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی نظام اور عالمی امور میں اقوام متحدہ کے مؤثر کردار کی بھرپور اور مستقل حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے سیاسی، معاشی، سماجی اور سلامتی کے چیلنجز کے حل کے لیے اقوام متحدہ کو ایک مؤثر، نمائندہ اور فعال عالمی پلیٹ فارم کے طور پر مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ بین الاقوامی برادری اختلافات اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور کثیرالجہتی تعاون کو ترجیح دے۔ انہوں نے اس حوالے سے اقوام متحدہ کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا۔

اقوام متحدہ کے تین بنیادی ستون

وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کے آئندہ سیکرٹری جنرل عالمی ادارے کے تین بنیادی ستونوں یعنی امن و سلامتی، ترقی اور انسانی حقوق پر باہم مربوط اور متوازن انداز میں توجہ مرکوز رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی امن کو پائیدار بنانے کے لیے صرف تنازعات کا خاتمہ کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ معاشی و سماجی ترقی، انسانی حقوق کا تحفظ اور لوگوں کے لیے بہتر مواقع کی فراہمی بھی ضروری ہے۔

وزیراعظم کے مطابق امن، ترقی اور انسانی حقوق ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ اگر دنیا کے مختلف خطوں میں غربت، پسماندگی، عدم مساوات اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو عالمی امن و استحکام کے اہداف بھی متاثر ہوں گے۔

انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ آئندہ اقوام متحدہ کی قیادت عالمی برادری کو درپیش ان تمام چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متوازن، جامع اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرے گی۔

سفیر اولارا اوتونو کی پاکستان کے کردار کی تعریف

ملاقات کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے امیدوار سفیر اولارا اوتونو نے کثیرالجہتی نظام کے فروغ اور اقوام متحدہ کے تینوں بنیادی ستونوں کے لیے پاکستان کی دیرینہ خدمات کو سراہا۔

انہوں نے عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں اور اہم کردار پر پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

سفیر اولارا اوتونو نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر عالمی امن، سلامتی، ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی کوششوں اور کثیرالجہتی نظام کے ساتھ اس کی وابستگی کو قابلِ قدر قرار دیا۔

پاکستان اور یوگنڈا کے تعلقات کے تناظر میں ملاقات کی اہمیت

وزیراعظم شہباز شریف اور سفیر اولارا اوتونو کے درمیان ملاقات پاکستان اور یوگنڈا کے باہمی تعلقات کے تناظر میں بھی اہم قرار دی جا رہی ہے۔

دونوں ممالک عالمی اور علاقائی سطح پر مختلف امور پر تعاون کرتے رہے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کے مفادات اور عالمی جنوب کے مسائل کو اجاگر کرنا بھی دونوں ممالک کے لیے اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

ملاقات میں اقوام متحدہ کے مستقبل کے کردار پر گفتگو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ترقی پذیر ممالک عالمی ادارے کو مزید مؤثر، نمائندہ اور متوازن بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

بدلتی عالمی صورتحال اور اقوام متحدہ کا کردار

موجودہ عالمی صورتحال میں اقوام متحدہ کی ذمہ داریوں اور کردار کے حوالے سے بحث مزید اہم ہو گئی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات، بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، معاشی دباؤ، موسمیاتی تبدیلی، انسانی بحران اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش معاشی مشکلات نے عالمی اداروں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

ایسے ماحول میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا منصب عالمی سفارت کاری میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ آئندہ سیکرٹری جنرل سے یہ توقع کی جائے گی کہ وہ نہ صرف عالمی تنازعات میں ثالثی اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھائیں بلکہ ترقی پذیر ممالک کے مسائل، انسانی حقوق اور عالمی معاشی عدم مساوات جیسے معاملات پر بھی مؤثر آواز بنیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے امن و سلامتی، ترقی اور انسانی حقوق کو یکساں اہمیت دینے پر زور اسی وسیع تر عالمی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔

پاکستان کا کثیرالجہتی سفارت کاری پر اعتماد

پاکستان طویل عرصے سے اقوام متحدہ کے نظام اور کثیرالجہتی سفارت کاری کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ قرار دیتا رہا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ عالمی مسائل کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور کثیرالجہتی اداروں کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات میں اسی اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے مؤثر کردار کی حمایت جاری رکھے گا۔

ملاقات میں موجود اعلیٰ سطحی پاکستانی حکام کی شرکت بھی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ اور عالمی کثیرالجہتی نظام سے متعلق معاملات کو اپنی خارجہ پالیسی میں اہمیت دیتا ہے۔

عالمی امن کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور

ملاقات کا ایک اہم پہلو عالمی امن و سلامتی کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر اتفاق تھا۔ موجودہ دور میں سلامتی کے خطرات صرف روایتی جنگوں تک محدود نہیں رہے بلکہ دہشت گردی، انتہا پسندی، معاشی عدم استحکام، موسمیاتی تبدیلی، انسانی بحران اور دیگر غیر روایتی خطرات بھی عالمی امن کے لیے چیلنج بن چکے ہیں۔

ایسے حالات میں اقوام متحدہ اور اس کے رکن ممالک کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔ پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور اسی تناظر میں عالمی برادری کے لیے ایک اہم پیغام ہے۔

اقوام متحدہ کے مستقبل کے لیے پاکستان کی توقعات

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کے آئندہ سیکرٹری جنرل عالمی ادارے کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے متوازن اور جامع قیادت فراہم کریں گے۔

پاکستان کی جانب سے تین بنیادی ستونوں یعنی امن و سلامتی، ترقی اور انسانی حقوق کو یکساں اہمیت دینے کی خواہش اس امر کی عکاس ہے کہ اسلام آباد عالمی امن کو معاشی و سماجی ترقی اور انسانی حقوق کے تحفظ سے الگ نہیں سمجھتا۔

ملاقات میں سفیر اولارا اوتونو کی جانب سے پاکستان کی خدمات کو سراہنا بھی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط اور اقوام متحدہ کے معاملات پر باہمی مفاہمت کے حوالے سے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ملاقات کا مجموعی پیغام

وزیراعظم شہباز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے امیدوار سفیر اولارا اوتونو کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بنیادی طور پر ایک ایسے عالمی نظام کی ضرورت پر زور دیا گیا جس میں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور، کثیرالجہتی تعاون، امن و سلامتی، ترقی اور انسانی حقوق کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔

وزیراعظم نے پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے کردار کی مسلسل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ سفیر اولارا اوتونو نے عالمی امن و سلامتی اور کثیرالجہتی نظام کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔

یہ ملاقات اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اقوام متحدہ کے مستقبل کے کردار اور عالمی نظام میں اس کی افادیت پر بین الاقوامی سطح پر بحث جاری ہے۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور عالمی ادارے کے تین بنیادی ستونوں پر متوازن توجہ دینے کا مؤقف اس کی خارجہ پالیسی کے اہم خدوخال کو نمایاں کرتا ہے۔

ملاقات میں موجود اعلیٰ سطحی پاکستانی اور یوگنڈن حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی امن، ترقی اور باہمی تعاون کے لیے کثیرالجہتی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ اقوام متحدہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی برادری کا ایک مرکزی پلیٹ فارم برقرار رہے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button