مشرق وسطیٰتازہ ترین

سوڈانی جنگ میں غیر ملکی جنگجو اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تحقیقاتی مشن

عینی شاہدین نے جنوبی سوڈان، چاڈ اور ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کی موجودگی بھی رپورٹ کی

اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ایک آزاد تحقیقاتی مشن نے خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی جنگجو، نجی نیٹ ورکس اور بیرونی فوجی امداد سوڈان کی جنگ کو مزید شدید بنا رہے ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
سوڈان میں اپریل 2023 سے ملکی فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جنگ جاری ہے۔ اس تنازعے میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک اور کئی ملین اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے قائم کردہ فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ کے مطابق بیرونی مدد نے متحارب فریقوں کی فوجی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ جدید ڈرونز، ہتھیار، گولا بارود، فوجی ٹیکنالوجی اور لاجسٹک سپورٹ نے دونوں فریقوں کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ لڑائی کے قابل بنایا ہے۔
رپورٹ میں خاص طور پر آر ایس ایف کے لیے غیر ملکی اہلکاروں کی بھرتی، تربیت اور تعیناتی کا ذکر کیا گیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق تقریباً دو ہزار سابق کولمبین فوجی کنٹریکٹرز آر ایس ایف کے ساتھ تعینات کیے گئے، جنہوں نے اس جنگ میں براہ راست جنگی ڈرونز، توپ خانے اور جدید ہتھیار چلائے۔
عینی شاہدین نے جنوبی سوڈان، چاڈ اور ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کی موجودگی بھی رپورٹ کی۔ ان میں خواتین بھی شامل تھیں اور رپورٹ کے مطابق یہ افراد محض تکنیکی معاونت کے بجائے زیادہ تر براہ راست فرنٹ لائن پر کام کر رہے تھے۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کولمبیا اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک سے کام کرنے والے نجی اداروں، ثالثوں اور بھرتی کرنے والے نیٹ ورکس نے چاڈ، لیبیا اور صومالیہ جیسے ممالک کو ٹرانزٹ روٹس کے طور پر استعمال کرتے ہوئے آر ایس ایف تک افرادی قوت، تربیت، ہتھیار اور لاجسٹک مدد پہنچانے میں کردار ادا کیا۔
دوسری جانب رپورٹ نے سوڈانی فوج پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ تحقیقاتی مشن کے مطابق یہ یقین کرنے کی معقول بنیاد موجود ہے کہ فوج نے اپنی بعض کارروائیوں میں بیرون ملک سے فراہم کردہ ڈرونز استعمال کیے، جن سے شہریوں اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button