
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے نائب صدر ینگ منگ یانگ کے اعزاز میں ناشتے کا اہتمام کیا، جس کے دوران پاکستان اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط ترقیاتی شراکت داری، معاشی اصلاحات، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مستقبل کے تعاون کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ملاقات میں خاص طور پر کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی 2026-2030 کے تحت پاکستان کے لیے ترجیحی شعبوں میں ترقیاتی اقدامات کو آگے بڑھانے، بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی تکمیل، نجی شعبے کی معاونت، توانائی، غذائی تحفظ، برآمدات میں اضافے، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران کراچی سے پشاور تک مین لائن-1 (ایم ایل-1) ریلوے کوریڈور کی جدید خطوط پر اپ گریڈیشن کو خصوصی اہمیت دی گئی اور اس منصوبے پر جلد عملی کام شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
وزیراعظم کی جانب سے اے ڈی بی نائب صدر کا خیرمقدم
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ینگ منگ یانگ کا ان کی موجودہ حیثیت میں پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر خیرمقدم کیا اور پاکستان کی ترقیاتی ضروریات میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے مسلسل تعاون کو سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اے ڈی بی نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان میں شہری بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ، عوامی خدمات اور دیگر اہم ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں قابلِ ذکر کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے اے ڈی بی کی پیشہ ورانہ کارکردگی، تکنیکی معاونت اور ترقیاتی منصوبوں میں بروقت تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے درمیان شراکت داری ملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔
وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی دونوں فریق مشترکہ ترجیحات کی بنیاد پر ایسے منصوبوں کو آگے بڑھائیں گے جن سے پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
پاکستان کی معاشی بحالی اور اصلاحات کا ذکر
ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی حالیہ معاشی صورتحال اور حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اصلاحاتی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے سخت مالیاتی، ساختی اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے مشکل معاشی بحالی کے مرحلے کو کامیابی سے عبور کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں ملکی معیشت میں استحکام پیدا ہوا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور پاکستان کے معاشی منظرنامے کے حوالے سے عالمی سطح پر مثبت رجحان سامنے آیا۔
وزیراعظم کے مطابق عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں فِچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی کی جانب سے پاکستان کے لیے معاشی منظرنامے میں استحکام کی درجہ بندی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک نے معاشی نظم و ضبط اور اصلاحات کے ذریعے اہم پیش رفت کی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت معاشی استحکام کو عارضی کامیابی کے بجائے طویل مدتی اور پائیدار معاشی تبدیلی میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انتظامی اصلاحات اور کاروباری ماحول میں بہتری
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ معاشی ترقی کے راستے میں موجود انتظامی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے خصوصی ٹاسک فورسز کے ذریعے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد نہ صرف مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانا ہے بلکہ ریاستی اداروں کی کارکردگی، فیصلہ سازی کے عمل اور کاروباری ماحول میں بھی بہتری لانا ہے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرمایہ کاری کے فروغ، نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے اصلاحاتی عمل جاری رکھا جائے گا۔
ان کے مطابق طویل مدتی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ معیشت میں ساختی کمزوریوں کو دور کیا جائے، پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جائے اور نجی شعبے کو معاشی سرگرمیوں میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
ایم ایل-1 منصوبہ ملاقات کا اہم مرکز
ملاقات کے دوران مین لائن-1 ریلوے کوریڈور کی اپ گریڈیشن پر خصوصی توجہ دی گئی۔
کراچی سے پشاور تک پھیلا ہوا ایم ایل-1 ریلوے کوریڈور پاکستان کے سب سے اہم ریلوے اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی جدید خطوط پر اپ گریڈیشن کو ملک کے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس نظام میں بنیادی تبدیلی لانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایم ایل-1 کی اپ گریڈیشن پاکستان کے قومی بنیادی ڈھانچے کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید اور مؤثر ریلوے نظام نہ صرف مسافروں کی سہولت میں اضافہ کرے گا بلکہ مال برداری کے نظام کو بھی جدید بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیراعظم کے مطابق بہتر ریلوے رابطہ ملک کے مختلف صنعتی، تجارتی اور معاشی مراکز کو ایک دوسرے سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ علاقائی تجارت کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
مال برداری اور علاقائی تجارت کے لیے اہم منصوبہ
ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایم ایل-1 کی اپ گریڈیشن کو صرف ریلوے کے ایک منصوبے کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کے وسیع تر معاشی اور تجارتی انفراسٹرکچر کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔
جدید ریلوے کوریڈور سے مال برداری کے عمل کو زیادہ مؤثر بنانے، نقل و حمل کے اخراجات کم کرنے اور ملک کے مختلف حصوں کے درمیان تجارتی روابط بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایم ایل-1 کی جدید کاری علاقائی تجارتی روابط کو مضبوط بنانے اور بڑے صنعتی منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے اس منصوبے پر جلد عملی کام شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں تاخیر سے نہ صرف معاشی سرگرمی متاثر ہوتی ہے بلکہ ملک میں رابطوں کے نظام کو جدید بنانے کا عمل بھی سست پڑتا ہے۔
پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے میں بنیادی ڈھانچے کی اہمیت
ملاقات کے دوران پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے میں بنیادی ڈھانچے کے کردار پر بھی گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس امر پر زور دیا کہ مضبوط ٹرانسپورٹ، توانائی، شہری بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کے نظام کے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے جو براہ راست معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عوام کے لیے سہولیات اور معیار زندگی میں بہتری لانے کا باعث بنیں۔
اے ڈی بی کے ساتھ تعاون کو اسی وسیع تر ترقیاتی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ آئندہ برسوں میں دونوں فریق ترقیاتی منصوبوں کے لیے مزید مؤثر شراکت داری قائم کریں گے۔
نجی شعبے کی معاونت پر توجہ
ملاقات میں پاکستان کی معاشی ترقی میں نجی شعبے کے کردار کو بڑھانے کے حوالے سے بھی مختلف تجاویز اور امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے اصلاحات جاری رکھے گی۔
نجی شعبے کو مضبوط بنانے سے سرمایہ کاری، روزگار، برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ملاقات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو پاکستان کے کاروباری اور صنعتی شعبے کو عالمی مارکیٹ میں زیادہ مسابقتی بنانے میں مدد دیں۔
توانائی اور غذائی تحفظ بھی ترجیحات میں شامل
پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان مستقبل کے تعاون کے حوالے سے توانائی اور غذائی تحفظ کو بھی اہم ترجیح قرار دیا گیا۔
توانائی کا شعبہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ غذائی تحفظ ملک کی سماجی اور معاشی پائیداری سے براہ راست منسلک ہے۔
ملاقات میں ان شعبوں میں مشترکہ تعاون اور ترقیاتی اقدامات کے امکانات پر غور کیا گیا تاکہ مستقبل میں پاکستان کی اقتصادی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
برآمدات کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے پر غور
ملاقات میں پاکستان کی برآمدی صلاحیت اور عالمی منڈی میں مسابقتی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کو اپنی معیشت میں برآمدات کا حجم بڑھانے، پیداواری صلاحیت بہتر بنانے اور عالمی ویلیو چینز میں زیادہ مؤثر انداز میں شامل ہونے کی ضرورت ہے۔
اس مقصد کے لیے بنیادی ڈھانچے، توانائی، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کو اہم قرار دیا گیا۔
مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی کے شعبوں میں نئے امکانات
ملاقات میں مصنوعی ذہانت (AI) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ تعاون کے امکانات بھی زیر غور آئے۔
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تیزی سے معاشی ترقی کے اہم محرکات بن رہے ہیں۔ پاکستان بھی آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں اپنی صلاحیت بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے۔
ملاقات میں اس بات پر غور کیا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی کو ترقیاتی منصوبوں، عوامی خدمات، معاشی سرگرمیوں اور پیداواری شعبوں کے ساتھ کس طرح مربوط کیا جا سکتا ہے۔
اے ڈی بی کے ساتھ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ترقی کے شعبوں میں ممکنہ تعاون پاکستان میں جدید معیشت کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی 2026-2030
ملاقات کا ایک اہم موضوع کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی 2026-2030 تھا، جس کے تحت پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان مستقبل کی ترقیاتی شراکت داری کی ترجیحات طے کی جائیں گی۔
اس حکمت عملی کا مقصد پاکستان کی ترقیاتی ضروریات اور معاشی ترجیحات کے مطابق ایسے منصوبوں اور پروگراموں کو آگے بڑھانا ہے جو طویل مدتی اور پائیدار ترقی میں مددگار ثابت ہوں۔
ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حکمت عملی میں شامل ترجیحات کو محض پالیسی دستاویز تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اور قابلِ پیمائش اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
عوامی معیار زندگی میں بہتری کا ہدف
ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے درمیان ترقیاتی شراکت داری کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی 2026-2030 کی ترجیحات کو ٹھوس اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا۔
اس تعاون کا بنیادی مقصد پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوام کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری لانا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں میں شہری بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ، توانائی، غذائی تحفظ، برآمدات، ٹیکنالوجی اور عوامی خدمات کو اہمیت دینے سے پاکستان کی معاشی بنیاد کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب سفر
وزیراعظم شہباز شریف کی اے ڈی بی کے نائب صدر کے ساتھ ملاقات کو پاکستان کے معاشی استحکام کے بعد پائیدار ترقی کی جانب بڑھنے کی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کے بعد اب بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری، نجی شعبے، برآمدات اور جدید ٹیکنالوجی کو معاشی ترقی کے اگلے مرحلے کے اہم ستونوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایسے میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک جیسے کثیرالجہتی ترقیاتی ادارے کے ساتھ مؤثر شراکت داری پاکستان کے لیے مالی معاونت کے ساتھ ساتھ تکنیکی مہارت، منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی صلاحیت میں بہتری کے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔
مجموعی طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور اے ڈی بی کے نائب صدر ینگ منگ یانگ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاکستان کے موجودہ معاشی استحکام کو طویل مدتی ترقی میں تبدیل کرنے، بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور نئی معیشت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
ایم ایل-1 ریلوے کوریڈور کی اپ گریڈیشن، نجی شعبے کی معاونت، توانائی و غذائی تحفظ، برآمدات کی مسابقتی صلاحیت، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان اور اے ڈی بی اپنی شراکت داری کو روایتی ترقیاتی منصوبوں سے آگے بڑھا کر مستقبل کی معاشی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی 2026-2030 کو مؤثر انداز میں عملی جامہ پہنایا جائے گا تاکہ پاکستان میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ، بنیادی ڈھانچے کو استحکام، سرمایہ کاری کو تحریک اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں۔



