
سید عاطف ندیم-ادارت
قلات: بلوچستان کے ضلع قلات میں سیکیورٹی فورسز نے 2 ستمبر 2026 کو انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک کامیاب آپریشن کرتے ہوئے بھارتی سرپرستی سے منسوب عسکریت پسند گروہ فتنہ الہندوستان سے وابستہ 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد کی گئی۔
حکام کے مطابق انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانے کا سراغ لگایا، علاقے کی مؤثر نگرانی کی گئی اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی تصدیق کے بعد فوری اور محدود نوعیت کی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
کارروائی کے نتیجے میں تمام 12 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جبکہ دہشت گردوں کے قبضے میں موجود گولہ بارود کے ذخیرے اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات بھی موقع پر ہی تباہ کر دیے گئے۔
انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق معلومات موصول ہونے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے میں نگرانی اور انٹیلی جنس کارروائی کا آغاز کیا۔
دہشت گردوں کے ٹھکانے کی نشاندہی کے بعد علاقے کا جائزہ لیا گیا اور ان کی موجودگی کی تصدیق کی گئی۔ اس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے ایک فوری اور مؤثر سرجیکل کارروائی کی، جس میں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
کارروائی کے دوران فورسز نے اس امر کو یقینی بنایا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے میں موجود بارودی مواد اور دیگر خطرناک اشیا مزید کسی نقصان کا باعث نہ بن سکیں۔ اسی سلسلے میں گولہ بارود کے ذخیرے اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات کو بھی موقع پر ہی تباہ کر دیا گیا۔
12 دہشت گرد ہلاک
سیکیورٹی حکام کے مطابق آپریشن میں مجموعی طور پر 12 دہشت گرد مارے گئے۔ حکام نے ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کو بھارتی سرپرستی سے منسوب فتنہ الہندوستان سے وابستہ قرار دیا ہے۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دہشت گرد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بدامنی پیدا کرنے، سیکیورٹی صورتحال کو متاثر کرنے اور تخریبی کارروائیوں کے لیے سرگرم تھے۔
کارروائی میں دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی جانب سے استعمال کیے جانے والے گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات کو بھی تلف کیا گیا، جس سے ممکنہ دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والے ایک اہم نیٹ ورک اور ذخیرے کو نقصان پہنچا ہے۔
علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائی کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن بھی جاری ہے۔
حکام کے مطابق کارروائی کا مقصد صرف دہشت گردوں کے ایک گروہ کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ علاقے میں موجود کسی بھی دوسرے دہشت گرد یا ان کے ممکنہ سہولت کاروں کا سراغ لگانا بھی ہے۔
سیکیورٹی فورسز علاقے کے مختلف مقامات کی مکمل تلاشی لے رہی ہیں تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ دہشت گردوں کا کوئی اور گروہ یا ان کا معاون نیٹ ورک وہاں موجود نہ ہو۔
کلیئرنس کارروائی کے دوران مشتبہ مقامات، راستوں اور ممکنہ ٹھکانوں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
بلوچستان میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی
بلوچستان طویل عرصے سے مختلف نوعیت کے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صوبے کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر رکھا ہے۔
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں انٹیلی جنس معلومات، جدید نگرانی اور مقامی سطح پر حاصل ہونے والی اطلاعات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
قلات میں ہونے والا حالیہ آپریشن بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا سراغ لگا کر انہیں کارروائی سے قبل ہی نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جامع حکمت عملی
حکام کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف ایک جامع اور مسلسل مہم پر عمل پیرا ہیں۔
اس حکمت عملی کا مقصد دہشت گرد گروہوں کے مسلح نیٹ ورکس کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں، معاون ڈھانچوں اور لاجسٹک سپورٹ کو بھی ختم کرنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے تاکہ دہشت گردوں کی منصوبہ بندی اور کارروائی کی صلاحیت کو ابتدائی مرحلے ہی میں ناکام بنایا جا سکے۔
’’اعظمی استحکام‘‘ کے تحت کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم
سیکیورٹی حکام کے مطابق ملک میں غیر ملکی سرپرستی یا معاونت سے ہونے والی دہشت گردی کے خطرے کے خاتمے کے لیے انسداد دہشت گردی کی مہم پوری رفتار سے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام نے نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی سپریم کمیٹی کی منظوری سے منسوب وژن ’’اعظمی استحکام‘‘ کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
اس حکمت عملی کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ کاری، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف مربوط کارروائیوں کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے دہشت گردی کے تمام ذرائع اور معاون ڈھانچوں کا خاتمہ ضروری ہے۔
غیر ملکی معاونت سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف
پاکستانی حکام کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے بعض واقعات کے پیچھے بیرونی معاونت اور سرپرستی کے عناصر موجود ہیں۔
قلات آپریشن کے حوالے سے بھی سیکیورٹی حکام نے ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کو بھارتی سرپرستی سے منسوب فتنہ الہندوستان سے وابستہ قرار دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کو کسی بھی دہشت گرد گروہ یا اس کے سہولت کار کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا اور ملک میں امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔
بلوچستان کے امن و استحکام کے لیے اہم کارروائی
قلات میں ہونے والی کارروائی کو بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
12 دہشت گردوں کی ہلاکت اور بڑی مقدار میں گولہ بارود و دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات کی تباہی سے نہ صرف دہشت گردوں کی آپریشنل صلاحیت کو نقصان پہنچا بلکہ علاقے میں ممکنہ تخریبی کارروائیوں کے خطرے کو بھی کم کرنے میں مدد ملی ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے دہشت گرد عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
سیکیورٹی فورسز کا عزم
سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
حکام کے مطابق دہشت گردوں کو کسی بھی علاقے میں دوبارہ منظم ہونے یا اپنی سرگرمیاں بحال کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے ٹھکانوں اور سہولت کاروں کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
قلات آپریشن کے بعد بھی علاقے میں کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں تاکہ کسی ممکنہ خطرے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
قومی سلامتی کے لیے مسلسل کوششیں
پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کا بنیادی مقصد شہریوں کے جان و مال کا تحفظ، قومی سلامتی کو یقینی بنانا اور ملک میں پائیدار امن قائم کرنا ہے۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مسلسل عمل ہے جس میں فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس اداروں اور ریاستی مشینری کے درمیان مربوط تعاون ضروری ہے۔
قلات میں ہونے والی کارروائی اسی مربوط حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشت گردوں کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی اور فوری کارروائی کے ذریعے انہیں ہلاک کیا گیا۔
کارروائی کا خلاصہ
2 ستمبر 2026 کو ضلع قلات میں ہونے والے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران:
- فتنہ الہندوستان سے وابستہ قرار دیے گئے 12 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
- دہشت گردوں کے ٹھکانے کی نشاندہی اور نگرانی کے بعد کارروائی کی گئی۔
- دہشت گردوں کے پاس موجود گولہ بارود کے ذخیرے کو تباہ کیا گیا۔
- دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (IEDs) کو بھی موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔
- علاقے میں موجود دیگر ممکنہ دہشت گردوں کی تلاش کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
- سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جاری قومی مہم کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
مجموعی طور پر قلات میں سیکیورٹی فورسز کی یہ کارروائی بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے تسلسل کی ایک اہم کڑی ہے۔ حکام کے مطابق کارروائی کا مقصد دہشت گرد عناصر کی موجودگی کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے نیٹ ورک اور معاون ڈھانچے کو بھی غیر مؤثر بنانا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ ملک میں غیر ملکی سرپرستی یا معاونت سے ہونے والی دہشت گردی کے خطرے کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ بلوچستان سمیت ملک کے دیگر حساس علاقوں میں امن و استحکام یقینی بنانے کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر مزید اقدامات کیے جائیں گے۔



