
اولیوور پیپر
جرمن مرکز برائے انضمام و مہاجرتی تحقیق (DeZIM) کے مطابق 2023 میں جرمنی کے تقریباً 12 فیصد اہل ووٹرز، یعنی 70 لاکھ سے زائد افراد، کا تعلق مہاجرت کا پس منظر رکھنے والوں پر مشتمل ووٹر بینک سے تھا اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے ان ووٹروں کی سیاسی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
تحقیق کے مطابق ایس پی ڈی اب بھی تارکینِ وطن باشندوں اور ان کی دوسری نسل میں سب سے زیادہ مقبول جماعت ہے۔ ہجرت کا پس منظر رکھنے والے ہر تین میں سے دو ووٹر ایس پی ڈی کو ووٹ دینے پر غور کر سکتے ہیں، جبکہ CDU/CSU معمولی فرق سے دوسرے نمبر پر ہے۔
تاہم مطالعے کی شریک مصنفہ فریڈریکے رؤمر کے مطابق صورتحال بدل رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں مہاجر پس منظر رکھنے والے ووٹروں اور ایس پی ڈی کے درمیان مضبوط تعلق تھا، لیکن نوجوان نسلیں اب اس روایتی وابستگی سے دور ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

اے ایف ڈی کی توجہ تارکین وطن ووٹرز پر کیوں مبذول؟
جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) کو مہاجرت کا پس منظر رکھنے والے ووٹروں میں سب سے زیادہ مخالفت کا سامنا ہے، خصوصاً ترکی، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی بڑی تعداد اسے ووٹ دینے سے انکار کرتی ہے۔ تاہم جماعت نے اس ووٹر گروپ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے انہیں براہِ راست مخاطب کرنا شروع کر دیا ہے۔
جرمنی میں آباد ترک کمیونٹی کی تنظیم (TGD) کے جنرل سکریٹری مارٹن گیرلاخ کے مطابق اے ایف ڈی طویل عرصے تک ایسی پہلی جماعت رہی ہے جس نے تارکینِ وطن کی مادری زبانوں میں مؤثر پیغامات کی رسانی کی۔ انہوں نے 2021 کے وفاقی انتخابات کے دوران برلن کے علاقے نوئی کُلن میں چلائی گئی انتخابی مہم کا حوالہ دیا، جس کا نعرہ تھا، ”اتاترک اے ایف ڈی کو ووٹ دیتے۔‘‘
گیرلاخ کے مطابق دیگر جماعتیں اکثر ہجرت کے پس منظر رکھنے والے ووٹروں تک پہنچنے اور ان کی ضروریات کو سمجھنے میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں لیتیں، حالانکہ اس بڑے ووٹ بینک کی حمایت انتخابی نتائج پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
تارکین وطن پس منظر والے باشندوں کی سلامتی و تحفظ
فروری 2025 میں ہونے والے آخری وفاقی انتخابات سے پہلے، جرمنی میں ترک کمیونٹی 60 جرمن شہروں میں سرگرم تھی، جو ترک مہاجرت کے پس منظر کے حامل ووٹروں کو ووٹ دینے کی ترغیب دینے کے لیے مہم چلا رہی تھی۔

ترک کمیونٹی کی تنظیم (TGD) کے جنرل سکریٹری مارٹن گیرلاخ کا مشاہدہ ہے کہ جرمنی میں تارکین وطن کی کمیونٹیز موروثی طور پر تارکین وطن کا خیرمقدم نہیں کر رہی ہیں۔ اس کے برعکس، نئے آنے والے تارکین وطن یا پناہ گزینوں کے بارے میں ان میں کافی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ جسے اے ایف ڈی سیاسی موضوع کے طور پر استعمال کرتی ہے۔
گیرلاخ کا کہنا ہے کہ روایتی سیاسی جماعتیں ہجرتی پس منظر رکھنے والے افراد کی سلامتی کے خدشات کو مناسب اہمیت نہیں دیتیں، حالانکہ یہ ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ان کے بقول کمیونٹی کے بہت سے افراد خود کو مختلف مقامات پر غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں اور بعض اوقات نسل پرستانہ حملوں کے خوف سے مخصوص علاقوں کا رخ بھی نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان مخالف تعصب اور نسل پرستی اس طبقے کو خاص طور پر متاثر کرتی ہے، لیکن سیاسی جماعتیں اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتیں۔ گیرلاخ کے مطابق جرمنی میں انسدادِ امتیازی سلوک کی پالیسی کو عموماً ایک ترقی پسند یا بائیں بازو کے ایجنڈے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ ترک نژاد کمیونٹی کے لیے یہ دراصل بنیادی حقوق اور تحفظ کا معاملہ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں اس نقطہ نظر کو اپنائیں تو وہ تارکین وطن یا ہجرت کے پس منظر رکھنے والے ووٹروں میں اپنی حمایت بڑھا سکتی ہیں۔

کیا سیاسی جماعتیں معاشرتی تبدیلی کو نظرانداز کر رہی ہیں؟
کے پس منظر کے حامل افراد پر مشتمل ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ اپنی کتاب میں انہوں نے روایتی سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تارکینِ وطن ووٹروں کو نہ تو پارٹی رکنیت، رضاکارانہ سرگرمیوں یا انتخابی حمایت کے لیے مؤثر انداز میں مخاطب کر رہی ہیں اور نہ ہی جرمنی میں تیزی سے بدلتی سماجی حقیقت کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔
ان کے بقول جرمنی اس بڑھتی ہوئی طلب اور معاشرتی تبدیلی کو نظرانداز کرنے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔ اوزواتان کا کہنا ہے کہ غیر جمہوری یا آمرانہ ممالک سے آ کر جرمنی میں آباد ہونے والے افراد میں جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے کی بڑی صلاحیت موجود ہے، جس سے فائدہ اسی صورت میں اٹھایا جا سکتا ہے جب انہیں جلد از جلد شہریت اور ووٹ کا حق دیا جائے۔



