
جرمن آٹو موبائل کمپنی فوکس ویگن نے اعلان کیا ہے کہ وہ سن 2030 تک دنیا بھر میں ایک لاکھ ملازمتیں ختم کرے گی۔ یہ اقدام کار سازی کی عالمی صنعت کی تاریخ میں سب سے بڑی تنظیم نو قرار دیا جا رہا ہے۔
کمپنی کے مطابق انتظامیہ اور ٹریڈ یونینز نے مزید 50 ہزار ملازمتوں میں کمی کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے جبکہ 50 ہزار ملازمتوں کے خاتمے پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا تھا۔
فوکس ویگن کا کہنا ہے کہ بدلتی معاشی صورتحال کے پیش نظر افرادی قوت کو کاروباری ضروریات کے مطابق ڈھالنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ آؤڈی اور پورشے جیسے معروف برانڈز کی مالک اس کار ساز کمپنی کے مطابق یہ اقدام مستقبل میں اپنی مسابقتی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
ایک لاکھ ملازمتوں میں کمی فوکس ویگن کی عالمی ورک فورس کا تقریباً 15 فیصد بنتی ہے۔ یہ تعداد جنرل موٹرز کی جانب سے سن 2009 میں دیوالیہ پن کے بعد ختم کی جانے والی 50 ہزار ملازمتوں سے بھی زیادہ ہے۔
فوکس ویگن کو امریکی ٹیرف، چینی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی مسابقت اور الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
تاہم کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو اولیور بلوم کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ ملازمتوں میں کمی کا فیصلہ ’’فوکس ویگن گروپ کے مستقبل کے لیے ایک مضبوط سگنل ہے۔‘‘
کمپنی نے ملازمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ آنے والے برسوں میں کھربوں یورو کے برابر سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد تحقیق و ترقی کو فروغ دینا، نئی ٹیکنالوجی اپنانا اور کمپنی کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔
اس منصوبے میں انتظامی ڈھانچے کو سادہ بنانا، فیصلوں کی رفتار تیز کرنا اور کمپنی کے زیر انتظام کاروباری یونٹس کی تعداد میں تقریباً ایک تہائی کمی بھی شامل ہے۔



