مشرق وسطیٰتازہ ترین

امریکی پابندیوں کو ایران کیسے بائی پاس کرتا ہے؟

ایران  بظاہر آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی ترسیل کو محفوظ اور جاری رکھنے کے لیے کرپٹو کرنسیوں کے استعمال کے امکانات پر بھی غور کر رہا ہے۔

شبنم فون ہائن

امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایران نے کئی دہائیوں کے دوران کاروباری افراد اور کمپنیوں کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک قائم کیا ہے۔ ایک ایسے ارب پتی تاجر، جنہیں کبھی سزائے موت سنائی گئی تھی، اب دوبارہ منظرِ عام پر آئے ہیں۔

”اقتصادی ڈی ڈے‘‘ کے نام سے متعارف کرائی گئی ان پابندیوں کا مقصد تہران کو مذاکرات اور  امریکی  مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہے، جو کئی ماہ سے جاری فوجی دباؤ کے باوجود ممکن نہیں ہو سکا۔

ان پابندیوں کا دائرہ  ایران کی آمدنی اور تجارت کے اہم شعبوں تک پھیلا ہوا ہے، جن میں تیل، بینکاری، سونے کی تجارت، بحری جہاز رانی، ہوا بازی اور بعض ٹیکنالوجی کے شعبے بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی حکام اب کرپٹو کرنسیوں پر بھی توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

بٹ کوائن جیسی ڈیجیٹل کرنسیاں، جو روایتی بینکاری نظام اور امریکی ڈالر پر مبنی مالیاتی نیٹ ورکس سے باہر کام کرتی ہیں، ایران کے لیے رقوم کی منتقلی، بین الاقوامی لین دین اور بڑھتے ہوئے پیمانے پر تیل کی تجارت میں ایک اہم ذریعہ بنتی جا رہی ہیں۔

تہران کا خفیہ نیٹ ورک

ایران  بظاہر آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی ترسیل کو محفوظ اور جاری رکھنے کے لیے کرپٹو کرنسیوں کے استعمال کے امکانات پر بھی غور کر رہا ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ، یہ تجویز بابک زنجانی نے پیش کی تھی۔

53 سالہ ارب پتی زنجانی گزشتہ سال جیل سے رہا ہوئے تھے اور وہ اب بھی اس نیٹ ورک کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جو کئی دہائیوں میں تشکیل پایا اور  ایران کو بین الاقوامی پابندیوں کے اثرات سے نمٹنے میں مدد دیتا رہا ہے۔

ان نیٹ ورکس سے وابستہ افراد کو اسلامی جمہوریہ ایران کے اندر بااثر شخصیات کی حمایت اور تحفظ حاصل رہتا ہے۔ بدلے میں یہ افراد اپنے منافع کا ایک حصہ نظام کے طاقتور سرپرستوں کے ساتھ بانٹتے ہیں۔

قبرص میں مقیم ایرانی نژاد صحافی اور تیل و توانائی کے شعبے کے ماہر بہزاد احمدی نیا نے کہا، ”زنجانی ان لوگوں میں شامل ہیں، جو  ایک بااثر معاشی اشرافیہ کا ایسا حصہ سمجھے جاتے ہیں، جو نئے اور اختراعی خیالات رکھتے ہیں اور ماضی میں متعدد بار اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔‘‘

 تہران 2025 | معاشی بحران کے شکار ایرانی عوام  بند دکانوں کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں
امریکہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کا دائرہ ایران کی آمدنی اور تجارت کے اہم شعبوں تک پھیلا ہوا ہےتصویر: Social Media/ZUMA/IMAGO

انہوں نے مزید کہا، ”ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے اندرونی رقابتوں سے بالاتر ہو کر ایسے پیشہ ور افراد اور ماہرین پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکتے ہیں اور اہم عہدوں کی ذمہ داریاں سنبھال سکتے ہیں۔‘‘

بلیک مارکیٹ میں ایرانی تیل کی فروخت

ایران کو پابندیوں کے سائے میں معیشت چلانے کا کئی دہائیوں پر محیط تجربہ حاصل ہے۔ یہ نظام چند کاروباری شخصیات تک محدود نہیں بلکہ کمپنیوں، مالیاتی ذرائع، درمیانی رابطہ کاروں اور ذاتی تعلقات پر مشتمل ایک وسیع اور منظم نیٹ ورک کے ذریعے کام کرتا ہے۔

بدعنوانی اور شفافیت کا فقدان ایران کے سیاسی اور معاشی نظام کے بنیادی مسائل میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشنز انڈیکس 2025 میں ایران کو 100 میں سے 23 پوائنٹس ملے اور 182 ممالک کی رینکنگ میں 153ویں نمبر پر رکھا گیا، جو سرکاری شعبے میں بدعنوانی کی انتہائی بلند سطح کی عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بابک زنجانی تقریباً 60 کمپنیوں پر مشتمل ایک کاروباری نیٹ ورک  کے سربراہ تھے، جس میں ملائیشیا، تاجکستان،  ترکی  اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک میں قائم کمپنیاں شامل تھیں۔

بعد ازاں ان میں سے کئی کمپنیوں پر امریکہ نے پابندیاں عائد کر دیں۔ اسی نیٹ ورک کے ذریعے زنجانی نے محمود احمدی نژاد کے دورِ حکومت میں ایرانی تیل کی بڑے پیمانے پر بلیک مارکیٹ میں فروخت کا انتظام کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ہوائی جہازوں سمیت مختلف اشیا کی ایران درآمد میں بھی کردار ادا کرتے رہے۔

تاہم سن 2016 میں وہ ایران کے اندر اقتدار کی کشمکش کا شکار ہو گئے۔ حکام نے ان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی تقریباً 2.6 ارب ڈالر (2.24 ارب یورو) کی رقم ایرانی حکومت کو واپس نہیں کی۔ اسی الزام میں ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی۔

ایران میں بدعنوانی کے سب سے بڑے مقدمات میں شمار ہونے والے اس کیس میں  طویل عدالتی کارروائی کے بعد بابک زنجانی کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ زنجانی کئی برس تک لاپتا رقوم سے متعلق الزامات کی تردید کرتے رہے اور ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات بھی کرتے رہے۔

 واشنگٹن ڈی سی 2026 | امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ ایران کے خلاف مزید پابندیوں کا اعلان کر تے ہوئے
امریکی اقتصادی پابندیوں سے ایران کے تیل، بینکاری، سونے کی تجارت، بحری جہاز رانی، ہوا بازی اور بعض ٹیکنالوجی کے شعبے بھی شدید متاثر ہوئے ہیںتصویر: Evelyn Hockstein/REUTERS

امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے والے نیٹ ورکس کی معلومات کیسے ملیں؟

اس نیٹ ورک کی ایک اہم کڑی ترک نژاد ایرانی تاجر رضا ضراب تھے، جنہیں سن 2016 میں امریکہ میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان پر منی لانڈرنگ اور ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے گئے۔

رضا ضراب نے ترکی میں ایک وسیع کاروباری اور مالیاتی نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا اور انہیں ان طریقوں کی گہری سمجھ تھی، جن کے ذریعے ایران پابندیوں کو بائی پاس کرتا تھا۔

رضا ضراب کا مقدمہ اور ایسے دیگر مقدمات نے امریکی حکام کو یہ سمجھنے میں مدد دی کہ ایران پابندیوں سے بچنے کے لیے قائم اپنے مالیاتی اور کاروباری نیٹ ورکس کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ ان معلومات کی بدولت واشنگٹن ایسے نیٹ ورکس کی نشاندہی اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کے قابل ہو گیا۔ بعد ازاں ضراب نے امریکی حکام سے تعاون کیا اور رہائی پا گئے۔ رپورٹس کے مطابق وہ اب نئی شناخت کے ساتھ امریکہ میں مقیم ہیں۔

فرانس میں مقیم ماہرِ معاشیات جمشید اسدی کے مطابق، ”ضراب اور زنجانی جیسے افراد نظام کے اندر ہی پروان چڑھتے ہیں اور اقتدار کے مختلف مراکز سے روابط رکھتے ہیں۔‘‘

رپورٹس کے مطابق بابک زنجانی کا عروج تقریباً 30 برس قبل فوجی خدمت کے دوران شروع ہوا۔ تب وہ ایرانی مرکزی بینک کے گورنر کے ڈرائیور تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس عہدے نے انہیں بااثر حلقوں تک رسائی اور اہم کاروباری روابط فراہم کیے۔ تاہم ان کے  نیٹ ورک کے ذریعے کتنے ارب ڈالر کا لین دین ہوا اور انہوں نے ذاتی طور پر کتنا منافع کمایا، یہ اب بھی واضح نہیں۔

فروری سن 2024 میں ایرانی ذرائع ابلاغ نے خبر دی کہ زنجانی سے منسلک اثاثے بیرونِ ملک سے واپس ایران منتقل کر دیے گئے ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق ان کی دولت اب ان پر واجب الادا قرضوں کی مجموعی مالیت سے بھی زیادہ ہو چکی تھی۔

ایران تہران 2025 |اس تصویر میں پس منظر میں امریکہ اور اسرائیل مخالف بینرز لگے ہیں اور ایک ایرانی مذہبی شخصیت  اور ایک کم سن بچی ایرانی ساختہ بیلسٹک میزائلوں کے ماڈلز کے ساتھ کھڑے ہیں
بٹ کوائن جیسی ڈیجیٹل کرنسیاں ایران کے لیے رقوم کی منتقلی کا اہم ذریعہ بنتی جا رہی ہیںتصویر: Morteza Nikoubazl/NurPhoto/picture alliance

سن 2025 میں انہیں جیل سے رہا کر دیا گیا اور وہ تیزی سے دوبارہ کاروباری دنیا میں سرگرم ہو گئے۔ ان کی ایک کمپنی نے ایران کے سرکاری ریلوے ادارے کے ساتھ اربوں ڈالر مالیت کے ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے۔

اسی دوران زنجانی نے اپنی نئی شناخت بنانے کی کوشش بھی کی۔ امریکی کاروباری شخصیت ایلون مسک کے نام ایک کھلے خط میں انہوں نے اپنی کمپنی کو ایران اور امریکہ کے درمیان اقتصادی تعاون کے لیے ایک پل  کے طور پر پیش کیا۔ اب وہ خود کو ایک کاروباری شخصیت، ثالث اور مذاکرات و مکالمے کے حامی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

تاہم جنوری سن 2026 میں امریکہ نے زنجانی کو دوبارہ اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد جولائی میں واشنگٹن نے پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے ان سے منسلک کمپنیوں اور کاروباری شراکت داروں کے ایک بڑے نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنایا۔

کیا امریکہ ایران کے خفیہ معاشی نیٹ ورکس کو مفلوج کر سکتا ہے؟

اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ کی تازہ پابندیاں واقعی ان نیٹ ورکس تک پہنچ سکتی ہیں جو ایران کی خفیہ یا متوازی معیشت کو سہارا دیتے ہیں۔

جمشید اسدی کے مطابق پابندیوں سے بچنے کے بہت سے روایتی راستے اب امریکی حکام کے علم میں آ چکے ہیں اور تہران کے لیے ان کا استعمال پہلے کی نسبت زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ امریکہ متعدد ممالک کو خبردار کر چکا ہے کہ اگر ان کی کمپنیاں، بینک یا نجی شعبے ایران کو پابندیوں سے بچنے میں مدد دیں گے تو انہیں بھی سزاؤں  یا پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے کئی دہائیوں کے دوران معاشی دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے اس سے  نمٹنے اور نئے راستے تلاش کرنے کی صلاحیت پیدا کر لی ہے۔ اس لیے یہ ابھی واضح نہیں کہ واشنگٹن کی نئی پابندیاں ان نیٹ ورکس کو کس حد تک کمزور کر سکیں گی۔

تاہم بابک زنجانی کی واپسی سے اشارہ ملتا ہے کہ تہران ایک بار پھر انہی کاروباری شخصیات پر بھروسا کر رہا ہے، جنہوں نے ماضی میں پابندیوں اور اقتصادی تنہائی کے دور میں ایران کی مدد کی تھی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button