
جرمن کمپنی کا خلائی راکٹ پہلی بار مدار میں پہنچ گیا، یورپ کے لیے اہم پیش رفت
’’لانچ کی صلاحیت اس وقت پوری خلائی صنعت کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔‘‘
جواد احمد-ادارت
جرمن اسٹارٹ اپ کمپنی Isar Aerospace نے اتوار کو کہا ہے کہ وہ سیٹلائٹس کی خلا میں ترسیل کا عمل تیز کرے گی۔ کمپنی کے ’اسپیکٹرم‘ راکٹ نے پہلی مرتبہ آرکٹک ناروے سے کامیابی کے ساتھ مدار میں پہنچ کر یورپ کے لیے خلا تک آزادانہ رسائی کے حصول کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔
بغیر انسان کے روانہ کیا گیا راکٹ ’اسپیکٹرم‘ براعظم یورپ سے مدار میں پہنچنے والا پہلا تجارتی راکٹ بن گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یورپ کے متعدد ممالک سیٹلائٹ لانچنگ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسار ایئرو اسپیس کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈینیئل میٹزلر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ’’لانچ کی صلاحیت اس وقت پوری خلائی صنعت کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ نجی ملکیت میں موجود اسار ایئرو اسپیس کو مناسب مالی وسائل حاصل ہیں اور کمپنی کی جانب سے فی الحال ابتدائی عوامی حصص کی پیشکش (IPO) کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
جرمن چانسلرفریڈرش میرس نے ہفتے کو ہونے والی لانچ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ’’ایک نئے دور کا آغاز‘‘ قرار دیا۔ میرس نے مارچ میں اسار کے لانچنگ مرکز کا دورہ بھی کیا تھا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں عالمی نظام میں تبدیلیاں آ رہی ہیں اور یورپ اپنی دفاعی اور تزویراتی خودمختاری بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

’ہنگامہ خیز دور‘ میں سکیورٹی
اسپیکٹرم راکٹ نے ناروے کے آرکٹک علاقے میں واقع ’آندویہ اسپیس پورٹ‘ سے پرواز کی۔ کمپنی کے مطابق راکٹ اپنے ساتھ پانچ چھوٹے سیٹلائٹس لے کر گیا۔
اس راکٹ کو خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے حجم کے پے لوڈز کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
یورپی یونین کے دفاع اور خلائی امور کے کمشنر آندریئس کوبیلیئس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ’’یورپ کی خلا تک آزادانہ رسائی کو بڑی تقویت ملی ہے۔‘‘
یہ اسار کا دوسرا راکٹ لانچ تھا۔ کمپنی کا پہلا راکٹ تقریباً 18 ماہ قبل اسی مقام سے پرواز کے کچھ ہی دیر بعد سمندر میں گر کر دھماکے سے تباہ ہو گیا تھا۔ اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا تھا۔
اسار کے مطابق اس وقت مزید پانچ راکٹ تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں اور کمپنی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ طویل مدت میں کمپنی کا ہدف سالانہ تقریباً 40 راکٹ لانچ کرنا ہے۔
کمپنی نے ہفتے کی لانچ کو ’’راکٹ کی صلاحیت کی جانچ اور پے لوڈ لے کر اس کی پہلی پرواز‘‘ قرار دیا۔
ناروے کی وزیر صنعت و تجارت سیسیلی میرسیتھ نے کہا، ’’اب ہم آندویہ سے سیٹلائٹس لانچ کر سکتے ہیں، جو ان ہنگامہ خیز حالات میں ناروے اور یورپ کی سلامتی کو مضبوط بناتا ہے۔‘‘



