بین الاقوامیاہم خبریں

یونان اسرائیل سے دفاعی تعاون برقرار رکھنے اور عرب ممالک سے قربت کا خواہاں

انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حال ہی میں طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ یونان اور سعودی عرب کے تعلقات پر کوئی اثر ڈالے گا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

یونان کے وزیرِاعظم کیریاکوس متسوتاکیس نے کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ اسٹریٹیجک دفاعی تعاون کو جاری رکھے گا، تاہم مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی مزید گہرا بنانے کا خواہاں ہے۔
اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے متسوتاکیس نے کہا کہ یونان اسرائیل کے ساتھ دفاع، سلامتی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو اہمیت دیتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں قربت آئی ہے، جبکہ یونانی وزیرِاعظم اور اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان بھی دوستانہ روابط پائے جاتے ہیں۔
یونان اور اسرائیل نے 31 اگست کو 3 ارب یورو (تقریباً 3.5 ارب ڈالر) مالیت کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت اسرائیل یونان کے لیے فضائی دفاعی نظام تیار کرے گا۔
متسوتاکیس نے کہا کہ یونان نیٹو کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا کم از کم 3.5 فیصد بنیادی دفاعی اخراجات پر خرچ کرتے ہیں۔
یونان کے دفاعی بجٹ میں اضافے کی ایک بڑی وجہ پڑوسی ملک ترکی کے ساتھ اس کی دیرینہ کشیدگی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بحیرہ ایجیئن اور مشرقی بحیرہ روم میں سمندری حدود اور خودمختاری سے متعلق اختلافات موجود ہیں۔ یونان کا مؤقف ہے کہ مذاکرات یا بین الاقوامی ثالثی کے لیے صرف سمندری حدود کا تعین ہی قابلِ بحث مسئلہ ہے۔
وزیرِاعظم سے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جدید ایف-35 لڑاکا طیاروں کی ترکی کو فروخت کی خواہش کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ کو اس حوالے سے ہدایات دینے کے بجائے یونان کے قومی مفادات کے تحفظ پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔
یونانی وزیرِاعظم کیریاکوس متسوتاکیس نے یہ بھی کہا کہ وہ جلد سعودی عرب کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حال ہی میں طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ یونان اور سعودی عرب کے تعلقات پر کوئی اثر ڈالے گا۔
متسوتاکیس کے مطابق ریاض کے ساتھ یونان کے تعلقات مضبوط اور مستحکم ہیں اور نئے دفاعی معاہدے کے باوجود دونوں ممالک کے باہمی روابط اور تعاون میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button