پاکستانتازہ ترین

اسحاق ڈار اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے، اہم عالمی و علاقائی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے

پاکستان کشمیر کے مسئلے پر اپنے مؤقف اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کو اجاگر کرے گا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

نیویارک: پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اہم عالمی، علاقائی اور دوطرفہ امور پر اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں اور اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار کے نیویارک پہنچنے پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد، امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ، نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل عامر احمد آتوزئی اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مشن و قونصلیٹ کے دیگر افسران نے ان کا استقبال کیا۔

اسحاق ڈار کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کا اعلیٰ سطحی ہفتہ شروع ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنرل ڈیبیٹ 22 ستمبر سے شروع ہوگی، جس میں رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت اور اعلیٰ سطحی نمائندے عالمی اور علاقائی معاملات پر اپنے مؤقف پیش کریں گے۔

وسیع سفارتی اور سیاسی مصروفیات

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا دورہ نیویارک وسیع سفارتی مصروفیات پر مشتمل ہوگا۔ وہ اقوام متحدہ کے اجلاسوں کے علاوہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے، جن میں باہمی تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی سطح پر درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اسحاق ڈار وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کے ہمراہ بھی مختلف اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور سرگرمیوں میں شریک ہوں گے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق ان ملاقاتوں کے ذریعے پاکستان علاقائی اور عالمی امن و استحکام، سفارتی تعاون اور بین الاقوامی مسائل کے حل کے لیے اپنے مؤقف اور ترجیحات کو اجاگر کرے گا۔

کشمیر اور فلسطین کے معاملات اہم ایجنڈے میں شامل

وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ پروگرام کے مطابق اسحاق ڈار او آئی سی کے رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، جہاں پاکستان کشمیر کے مسئلے پر اپنے مؤقف اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کو اجاگر کرے گا۔

اس کے علاوہ فلسطین کے معاملے پر بھی متعدد اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں اسحاق ڈار کی شرکت متوقع ہے۔ ان میں عرب اور اسلامی ممالک کے گروپ آف ایٹ کا اجلاس اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے عالمی اتحاد کا وزارتی سطح کا اجلاس شامل ہے۔ پاکستان نے طویل عرصے سے فلسطینی عوام کے حق میں اپنے سفارتی مؤقف کو عالمی فورمز پر اجاگر کیا ہے اور نیویارک میں بھی اس معاملے کو اہمیت دی جائے گی۔

مصنوعی ذہانت اور عالمی چیلنجز پر بھی پاکستان کا مؤقف

اسحاق ڈار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مصنوعی ذہانت سے متعلق اعلیٰ سطحی بریفنگ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بیان بھی دیں گے۔ اس کے علاوہ وہ وبائی امراض کی روک تھام، تیاری اور عالمی ردعمل سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اقتصادی تعاون کی تنظیم (ECO) کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی صدارت بھی کریں گے۔ اس دوران علاقائی تعاون اور باہمی اقتصادی روابط سے متعلق معاملات زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔

علاقائی اور عالمی امن پر پاکستان کا مؤقف

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اپنے دورے کے دوران علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کریں گے اور مختلف علاقائی و بین الاقوامی چیلنجز پر عالمی رہنماؤں اور وزرائے خارجہ کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔

وزارتِ خارجہ نے اس دورے کو پاکستان کی کثیرالجہتی سفارت کاری کے تناظر میں اہم قرار دیا ہے، کیونکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس دنیا کے مختلف ممالک کو عالمی مسائل پر براہِ راست اپنے مؤقف کے اظہار اور دوطرفہ و کثیرالجہتی سفارتی رابطوں کا موقع فراہم کرتا ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف بھی نیویارک میں اعلیٰ سطحی سرگرمیوں میں شریک ہوں گے

وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیرِاعظم محمد شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے، جبکہ اسحاق ڈار سمیت دیگر وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام ان کے ہمراہ ہوں گے۔

وزارتِ خارجہ نے بتایا ہے کہ وزیرِاعظم اپنے خطاب میں علاقائی اور عالمی صورتحال کے حوالے سے پاکستان کا نقطۂ نظر پیش کریں گے اور پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی کے خلاف اقدامات، اسلاموفوبیا، عالمی اقتصادی چیلنجز، اقوام متحدہ میں اصلاحات اور گلوبل ساؤتھ کو درپیش مسائل سمیت مختلف معاملات کو اجاگر کریں گے۔

دوطرفہ تعلقات اور سفارتی رابطوں کا موقع

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس پاکستان کو مختلف ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں کا بھی موقع فراہم کرے گا۔ اسحاق ڈار اپنے ہم منصبوں سے ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی سلامتی، باہمی تعاون اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والے مسائل پر بات چیت کریں گے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق نائب وزیرِاعظم کی مختلف ممالک کے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتوں کا بنیادی مقصد باہمی تعاون کو آگے بڑھانا، اہم علاقائی معاملات پر رابطہ برقرار رکھنا اور عالمی مسائل کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس 8 ستمبر 2026 کو شروع ہوا، جبکہ اس کا عمومی مباحثہ 22 ستمبر سے شروع ہو رہا ہے۔ جنرل اسمبلی اقوام متحدہ کا مرکزی نمائندہ اور پالیسی سازی کا ادارہ ہے، جس میں تمام 193 رکن ممالک کو نمائندگی حاصل ہے۔

اسحاق ڈار کی نیویارک میں موجودگی اور اعلیٰ سطحی سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب عالمی سطح پر علاقائی تنازعات، فلسطین، کشمیر، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی، عالمی اقتصادی مسائل اور بین الاقوامی امن و سلامتی جیسے معاملات اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں نمایاں ہیں۔ پاکستان ان موضوعات پر جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم کو اپنے سفارتی مؤقف کے اظہار اور عالمی برادری کے ساتھ رابطوں کے لیے استعمال کرے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button