
ڈی پی اے کے ساتھ
جرمن کے سرکردہ اقتصادی تحقیقی اداروں نے سال رواں کے لیے ملکی معیشت میں ترقی کی متوقع شرح سے متعلق اپنی پیش گوئی بڑھا کر دو گنا کر دی ہے۔
ان اداروں کے مطابق سال 2026ء میں جرمنی میں، جو یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہے اور جس کا شمار دنیا کی بڑی معیشتوں میں ہوتا ہے، اقتصادی شرح نمو 1.3 فیصد تک رہے گی۔
ان تحقیقی اداروں کی طرف سے جمعرات 24 ستمبر کو مشترکہ طور پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ جرمن معیشت کافی عرصے تک سست روی کا شکار رہنے کے بعد اب مسلسل بہتری کی طرف گامزن ہے اور سال رواں کے دوران ملک کی مجموعی اقتصادی پیداوار میں 1.3 فیصد تک اضافے کی توقع ہے۔
اس سے قبل اس سال کے اوائل میں ان اداروں نے گزشتہ برس کے رجحان کے پیش نظر اپنی پیش گوئی میں کہا تھا کہ ملکی معیشت میں ترقی کی شرح بہت کم ہی رہے گی، جو تب 0.6 فیصد بتائی گئی تھی۔ اب لیکن یہی متوقع شرح نمو 1.3 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

جرمنی کے ان سرکردہ اقتصادی تحقیقی اداروں نے اپنے مشترکہ بیان میں مزید کہا کہ سال رواں کی پہلی ششماہی میں ملکی معیشت نے کئی مختلف عوامل کی وجہ سے سال کے شروع میں لگائے گئے اندازوں کے برعکس واضح طور پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
ان عوامل میں سے نمایاں ترین جرمن برآمدات میں اضافہ اور پروسیسنگ انڈسٹری کی کارکردگی میں نظر آنے والی ’غیر متوقع بہتری‘ نمایاں تھے۔
اس کے علاوہ ملکی شرح نمو میں بہتری کے لیے موافق دیگر عوامل میں سے عالمی معیشت میں ہونے والی بہتری اور مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی عالمی سطح پر ترقی کے باعث پیدا شدہ صورت حال نے بھی اہم کردار اد اکیا۔


