
ملک وقوم کو گروی رکھنے والے حکمران !!……پیر مشتاق رضوی
حکومت نے سینیٹ کو بتایا کہ اس نے 42.1 ڈالر کا بیرونی قرضہ لیا اور اس میں سے 20 ارب ڈالر واپس کیا۔ آئی ایم ایف سے اس دور میں چھ ارب اڑتالیس کروڑ ڈالر لیے گئے اور پانچ ارب بانوے کروڑ ڈالر واپس بھی کیے گئے
پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک ملکی معیشت کا سب سے بڑا اور پیچیدہ مسئلہ قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ رہا ہے۔ ہر آنے والی حکومت پچھلی حکومت پر یہ الزام عائد کرتی ہے کہ اس نے ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ قرض لیا، لیکن جب ہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان، وزارت خزانہ اور وزارت اقتصادی امور کے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیتے ہیں تو تصویر کافی حد تک واضح ہو جاتی ہے۔ مجموعی ملکی قرضے یعنی اندرونی اور بیرونی قرضوں کو ملا کر دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دور 2018ء سے 2022ء تک ایک غیر معمولی اضافے کا دور تھا۔ جولائی 2018ء میں جب تحریک انصاف نے اقتدار سنبھالا تو ملک پر کل قرضہ تقریباً24 ہزار 953ارب روپے تھا جو مارچ 2022ء تک بڑھ کر44 ہزار 366 ارب روپے سے تجاوز کر گیا، اور اگر واجبات کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ حجم 53 ہزار 544 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف تین سال اور نو ماہ کے مختصر عرصے میں تقریباً 39ہزار چھ سو 65ارب روپے کا اضافہ ہوا جو 78سے 79 فیصد بنتا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق یہ اضافہ پچھلے 75سالوں کے کسی بھی دور سے زیادہ تھا۔ تاہم جب ہم صرف عالمی مالیاتی ادارے یعنی آئی ایم ایف سے لیے گئے قرضوں کو دیکھتے ہیں تو ترتیب بدل جاتی ہے۔ وزارت اقتصادی امور نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا تھا کہ آئی ایم ایف سے ایک حکومت کے طور پر سب سے زیادہ قرض پاکستان پیپلز پارٹی نے 2008ء سے 2013ء کے دوران لیا جو پانچ ارب 30 کروڑ ایس ڈی آر یعنی 772کروڑ 59 لاکھ ڈالر بنتا ہے، اس کے بعد مسلم لیگ ن کا 2013ء سے 2018ء کا دور ہے جس میں چھ ارب اڑتالیس کروڑ ڈالر لیے گئے، جبکہ تحریک انصاف نے 2018ھ سے 2022ھ تک تقریباً چھ ارب ڈالر لیے جو مسلم لیگ ن سے صرف 48کروڑ ڈالر کم ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر مسلم لیگ ن کے تمام ادوار کو ملا لیا جائے تو پاکستان کے آئی ایم ایف سے لیے گئے کل قرض کا 41 فیصد ن لیگ کے ادوار میں لیا گیا۔ میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کے ادوار کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔ میاں نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم بنے۔ ان کے پہلے دو ادوار 1990ء سے 1993ء اور 1997ھ سے 1999ء تک میں بیرونی قرضوں میں بتدریج اضافہ ہوا اور 1999ء تک ملک پر بیرونی قرضہ تقریباً 39 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ لیکن ان کا اصل معاشی دور ان کا تیسرا دور 2013ء سے 2018ء تھا۔ اس پانچ سالہ دور میں جب ن لیگ نے حکومت سنبھالی تو کل ملکی قرضہ صرف14 ہزار تین سو اٹھارہ ارب روپے تھا جو 2018ء میں اٹھائیس ہزار ارب سے بڑھ گیا، یعنی پانچ سال میں تقریباً14 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا جو قیام پاکستان سے 2013ء تک کے تمام قرضوں کے برابر تھا۔ اسی دور میں حکومت نے سینیٹ کو بتایا کہ اس نے 42.1 ڈالر کا بیرونی قرضہ لیا اور اس میں سے 20 ارب ڈالر واپس کیا۔ آئی ایم ایف سے اس دور میں چھ ارب اڑتالیس کروڑ ڈالر لیے گئے اور پانچ ارب بانوے کروڑ ڈالر واپس بھی کیے گئے۔ اس دور کی ایک خاص بات یہ تھی کہ مالی سال 17-2016ء کے نو ماہ میں اوسطاً تین ارب روپے روزانہ قرض لیا گیا۔میاں شہباز شریف کے دونوں ادوار کے اعداد و شمار اسٹیٹ بینک نے ستمبر 2026ء میں جاری کیے ہیں جو انتہائی حیران کن ہیں۔ ان کے دونوں ادوار جو مجموعی طور پر تقریباً تین سال اور نو ماہ پر محیط ہیں، ان میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں37 ہزار تین سو سات ارب روپے کا تاریخی اضافہ ہوا۔ یہ اسی دورانیے میں تحریک انصاف کے اٹھارہ ہزار تین سو تئیس ارب کے اضافے سے ایک سو چار فیصد زیادہ ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ان کے پہلے دور اپریل 2022ء سے جولائی 2023ء تک کے سولہ ماہ میں قرض تینتالیس ہزار ارب سے بڑھ کر61 ہزار777 ارب ہو گیا یعنی 18 ہزار 764 ارب کا اضافہ ہوا۔ جبکہ ان کے دوسرے دور مارچ 2024ء سے جولائی 2026ء تک کے 29 ماہ میں مزید 18ہزار پانچ543 ارب کا اضافہ ہوا اور جولائی 2026ء تک وفاقی حکومت کا کل قرض 83ہزار 883 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ صرف موجودہ حکومت کے پہلے دو سالوں میں ہی15 ہزار72ارب روپے کا اضافہ ہوا جو روزانہ اوسطاً 21 ارب روپے بنتا ہے ۔اگر قرض لینے کی رفتار کو دیکھا جائے تو شہباز شریف کے دونوں ادوار میں سب سے تیز رفتاری سے قرض بڑھا ہے، جبکہ ایک مکمل پانچ سالہ مدت میں نواز شریف کا 2013ء سے 2018ء کا دور قرضوں کو دوگنا کرنے والا دور تھا۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے دور میں مجموعی قرضوں میں اناسی فیصد اضافہ ہوا تھا۔ یہ اعداد و شمار ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ پاکستان میں قرضوں کا مسئلہ کسی ایک جماعت کا پیدا کردہ نہیں بلکہ یہ ایک تسلسل ہے جو ہر دور میں بڑھتا چلا گیا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کس نے زیادہ قرض لیا بلکہ یہ ہے کہ یہ قرض کہاں خرچ ہوا۔ اگر قرض صنعتوں، برآمدات اور تعلیم پر لگتا تو یہ بوجھ نہ بنتا، لیکن جب قرض پرانے قرض کا سود ادا کرنے کے لیے لیا جائے تو معیشت قرضوں کی دلدل میں دھنستی چلی جاتی ہے، اور بدقسمتی سے پاکستان کی تلخ تاریخ یہی کہانی دہراتی رہی ہے۔پاکستان نے صرف سود کی ادائیگی پر اس سال 8300 ارب روپے خرچ ہونا ہے جو ہمارے کل ٹیکس کا 70 فیصد ہے۔ مطلب جو کماتے ہیں وہ سیدھا سود میں چلا جاتا ہے، ترقی کے لیے پھر نیا قرض لینا پڑتا ہے۔ہم 60 سے 70 ارب ڈالر کی چیزیں باہر سے منگواتے ہیں، تیل، گیس، مشینری، موبائل، خوردنی تیل، اور بیچتے صرف 30 سے 32 ارب ڈالر کا ہیں۔ یہ 30 ارب ڈالر کا فرق ہر سال نیا قرض لے کر پورا کرنا پڑتا ہے۔ہر حکومت بجلی، گیس، پٹرول سستا رکھنے، نوکریاں دینے اور سڑکیں بنانے کے لیے قرض لیتی ہے تاکہ ووٹ برقرار رہے۔ اصلاحات جیسے ٹیکس بڑھانا، سرکاری ادارے بیچنا، بجلی چوری روکنا سیاسی طور پر مشکل فیصلے ہیں، اس لیے آسان راستہ قرض لینا ہوتا ہے۔پرانے قرض کا سود: اب ہم نیا قرض پرانے قرض کا سود دینے کے لیے لے رہے ہیں۔ یہ وہ دلدل ہے جسے معاشیات میں Debt Trap کہتے ہیں۔
حکمرانوں نے ملک قوم کو گروی رکھ دیاہے ہماری ساکھ کس حد تک گر چکی ہے کہ ہمیں اپنی قومی شاہراہیں تک کاغذوں میں گروی رکھنی پڑ رہی ہیں۔ ملک دیوالیہ نہیں ہوا لیکن معاشی خودمختاری ضرور کمزور ہوئی ہے، کیونکہ آئی ایم ایف کے ہر پروگرام کے ساتھ ہمیں بجلی مہنگی کرنا، ٹیکس لگانا، سبسڈی ختم کرنا جیسے فیصلے ان کی مرضی سے کرنے پڑتے ہیں۔ قومی خود کفالت بھی ممکن ہے اور پاکستان کے پاس اس کے تمام وسائل موجود ہیں، لیکن اس کے لیے بڑے فیصلے کرنا ہوں گے جو آج تک کسی حکومت نے مستقل مزاجی سے نہیں کیے۔جس دورحکومت میں فرضے لیے جائیں اس دور کے حکمران قرضوں کی واپسی کے ذمہ دار ٹھہراۓ جائیں قرضے لینے کے لیے اور خرچ کرنے کے لئے پارلیمنٹ سے منظوری لینا لازم قرار دیا جاۓ اشرافیہ کی عیاشیانہ مراعات کو فی الفور ختم کرناہو گا ملک میں روزانہ اربوں روپے کی کرپشن کو روکنا ہوگا ٹیکس کا نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں اربوں روپے ٹیکسز اور بجلی کی چوری کا مکمل سدباب کیا جاۓ دکاندار، بڑے زمیندار اور پراپرٹی سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا۔ اگر ہم ٹیکس ٹو جی ڈی پی 9 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر لیں تو ہمیں قرض کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ برآمدات اور زراعت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے بنگلہ دیش نے صرف گارمنٹس سے 50 ارب ڈالر کمانا شروع کر دیا۔ ہمارے پاس کپاس، چاول، آئی ٹی، چمڑا ہے۔ اگر ہم صرف زرعی پیداوار میں جدید بیج استعمال کر لیں تو ہم 10 ارب ڈالر کا خوردنی تیل منگوانا بند کر سکتے ہیں۔ تھر کا کوئلہ، سولر اور پانی سے بجلی بنا کر تیل کا 20 ارب ڈالر کا بل آدھا کیا جا سکتا ہے۔ نقصان والے اداروں کا خاتمہ کیا جاۓ پی آئی اے، اسٹیل مل، ڈسکوز ہر سال 1000 ارب روپے کا نقصان کر رہے ہیں۔ ان کو نجی شعبے کو دینا ہی خود کفالت کی پہلی سیڑھی ہے۔
خود کفالت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دنیا سے الگ ہو جائیں۔ خود کفالت کا مطلب ہے کہ ہم قرض روٹی کھانے کے لیے نہیں، بلکہ فیکٹری لگانے کے لیے لیں۔ آج ہم قرض لے کر آٹا اور بجلی پر سبسڈی دے رہے ہیں، کل یہ قرض فیکٹری اور ایکسپورٹ پر لگانا ہوگا۔
اللہ نے پاکستان کو ہر نعمت دی ہے، 60 فیصد نوجوان آبادی، دنیا کا بہترین نہری نظام، سمندر، پہاڑ، ایٹمی طاقت۔ کمی صرف ایک چیز کی ہے، مستقل پالیسی اور قومی اتفاق رائے کی۔ اگر 10 سال کے لیے کوئی بھی حکومت آئے اور ایک ہی معاشی پالیسی پر چلے تو پاکستان قرض لینے والا نہیں، قرض دینے والا ملک بن سکتا ہے۔ ان شاء اللہ !!



