
درازندہ چیک پوسٹ پر دھماکا، 11 جاں بحق؛ ریسکیو ایمبولینس پر فائرنگ، 2 اہلکار شہید
مبینہ خودکش حملے میں 13 افراد جاں بحق، 30 سے زائد زخمی؛ سیکیورٹی فورسز کا علاقے میں سرچ آپریشن جاری
سید عاطف ندیم-ادارت
ڈیرہ اسماعیل خان: خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں دہشت گردی کے ایک واقعے کے بعد زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس پر مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 2 ریسکیو اہلکار شہید ہوگئے۔ اس سے قبل ڈی آئی خان-کوئٹہ روڈ پر واقع انسدادِ اسمگلنگ امن میلہ پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکے میں ذرائع کے مطابق 11 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
ذرائع کے مطابق درازندہ میں امن میلہ پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والے دھماکے کے بعد زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا جارہا تھا کہ راستے میں ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کو مسلح افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔
فائرنگ کے نتیجے میں ایمبولینس میں موجود دو ریسکیو اہلکار شہید ہوگئے۔ واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں کارروائی شروع کردی اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔
امن میلہ پولیس چیک پوسٹ پر شدید دھماکا,11 افراد جاں بحق، 30 سے زائد زخمی
اس سے قبل درازندہ میں ڈی آئی خان-کوئٹہ روڈ پر واقع انسدادِ اسمگلنگ امن میلہ پولیس چیک پوسٹ پر ایک شدید دھماکا ہوا تھا۔
ذرائع کے مطابق دھماکا مبینہ طور پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرائی گئی، جس کے بعد زوردار دھماکا ہوا اور قریبی علاقے میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ پولیس، سیکیورٹی فورسز، ریسکیو اہلکار اور دیگر امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں دھماکے کے نتیجے میں 11 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد میں 6 پولیس اہلکار، 2 کسٹمز اہلکار، 2 خواتین اور ایک 2 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ تاہم واقعے کے حتمی جانی نقصانات کی تصدیق متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے ہونا باقی ہے۔
زخمیوں میں پولیس اہلکاروں، کسٹمز حکام اور عام شہریوں کے شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔
دھماکے کے بعد ریسکیو 1122 سمیت دیگر امدادی اداروں نے زخمیوں کو جائے وقوعہ سے منتقل کرنے کا عمل شروع کیا۔ شدید زخمیوں کو بہتر طبی سہولیات کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا جارہا تھا۔
اسی دوران ایک ریسکیو ایمبولینس کو مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دو ریسکیو اہلکار شہید ہوگئے۔
ریسکیو اہلکاروں پر حملے کے بعد علاقے کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی جبکہ سیکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کردی۔
دھماکے اور بعد ازاں ریسکیو ایمبولینس پر فائرنگ کے واقعات کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ اور ملحقہ علاقوں کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا ہے۔ حملہ آوروں کی موجودگی اور ان کے ممکنہ فرار کے راستوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
سیکیورٹی ادارے واقعے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کررہے ہیں جبکہ دھماکے کی نوعیت، استعمال کیے گئے بارودی مواد اور حملے میں ملوث عناصر کے بارے میں مزید معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں۔
چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کا پہلو
درازندہ میں واقع امن میلہ پولیس چیک پوسٹ ڈی آئی خان-کوئٹہ روڈ پر انسدادِ اسمگلنگ کارروائیوں کے حوالے سے اہم مقام پر قائم ہے۔ ذرائع کے مطابق حملے میں پولیس اور کسٹمز اہلکاروں کے ساتھ عام شہری بھی متاثر ہوئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی میں بڑی مقدار میں بارودی مواد موجود تھا۔ تاہم حملے کی مکمل نوعیت اور ذمہ دار عناصر کے بارے میں حتمی تعین متعلقہ سیکیورٹی اداروں کی تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
ذرائع نے حملے کو سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی کارروائی قرار دیا ہے۔ بعض ذرائع کی جانب سے حملے کے پس منظر میں دہشت گرد عناصر اور جرائم پیشہ گروہوں کے ممکنہ روابط کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے آزادانہ یا سرکاری طور پر حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
سیکیورٹی ادارے واقعے کے محرکات، منصوبہ بندی، حملہ آوروں کی شناخت اور سہولت کاری کے ممکنہ نیٹ ورک سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
دھماکے کے زخمیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے والے ریسکیو اہلکاروں پر فائرنگ نے واقعے کی سنگینی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
ریسکیو اہلکار ہنگامی حالات میں زخمیوں اور متاثرہ افراد کو طبی امداد کی فراہمی اور اسپتالوں تک منتقلی کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اسی دوران ایمبولینس کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں دو اہلکاروں کی جان چلی گئی۔
واقعے کے بعد امدادی سرگرمیوں میں مصروف اہلکاروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی سوالات پیدا ہوئے ہیں، جبکہ علاقے میں جاری سیکیورٹی آپریشن کے باعث صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے۔
مقامی آبادی میں خوف اور بے چینی
درازندہ میں دھماکے اور اس کے بعد ریسکیو ایمبولینس پر فائرنگ کے واقعات کے باعث مقامی آبادی میں خوف و ہراس اور بے چینی پائی جاتی ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کے باعث شہریوں کو پہلے ہی سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے۔ واقعے کے بعد مقامی سطح پر حکومت اور متعلقہ اداروں سے سیکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔
دوسری جانب مقامی حلقوں میں خیبر پختونخوا حکومت کے دہشت گردی سے متعلق مؤقف اور حکومتی ردعمل پر بھی غم و غصے اور بے چینی کی اطلاعات ہیں۔ تاہم حکومت کا مؤقف اور اس واقعے پر اس کا باضابطہ ردعمل سامنے آنے کے بعد ہی اس پہلو کی مکمل تصویر واضح ہوسکے گی۔
ذرائع کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے بعض افراد کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ زخمیوں کو مختلف طبی مراکز منتقل کیا جارہا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن کے ساتھ ساتھ دھماکے کے مقام سے شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں تاکہ حملے میں ملوث عناصر تک پہنچا جاسکے۔
درازندہ میں پیش آنے والے دونوں واقعات—امن میلہ پولیس چیک پوسٹ پر دھماکے اور زخمیوں کی منتقلی کے دوران ریسکیو ایمبولینس پر فائرنگ—نے علاقے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی کارروائی جاری ہے اور حملہ آوروں کی گرفتاری یا ہلاکت، حملے کے مکمل محرکات اور واقعے میں سہولت کاری کے حوالے سے حتمی معلومات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔



