
رائٹرز کے ساتھ
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یمن میں حوثی حملوں کے تناظر میں فرانس نے سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے واضح کیا ہے کہ یہ معاونت ’’مکمل طور پر دفاعی‘‘ نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد سعودی عرب کے خلاف ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں سے اہم تنصیبات کا تحفظ ہے۔
بارو نے اتوار کو فرانسیسی سرکاری ٹیلی ویژن فرانس 2 سے گفتگو کرتے ہوئے اس تاثر کو مسترد کیا کہ سعودی عرب کو فرانسیسی فوجی مدد فراہم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ فرانس یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی جنگ میں براہِ راست فریق بن گیا ہے۔ ان کے مطابق فرانس اپنے اتحادی اور شراکت دار ملک کے دفاع میں مدد فراہم کر رہا ہے، نہ کہ یمن کے تنازع میں کسی جارحانہ فوجی کارروائی کا حصہ بن رہا ہے۔
ینبع کی اہمیت، فرانس کا فوجی اقدام
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ فرانس سعودی عرب کے اہم بحیرۂ احمر کے بندرگاہی شہر ینبع کے تحفظ کے لیے فوجی وسائل فراہم کرے گا۔ ان وسائل میں فوجی اہلکاروں کے علاوہ ریڈار اور دفاعی نظام شامل ہوں گے۔
ینبع سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ بحیرۂ احمر پر واقع ملک کی اہم تیل برآمدی تنصیبات میں شامل ہے اور مشرقی سعودی عرب کے تیل پیدا کرنے والے علاقوں سے آنے والی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کا مغربی اختتامی مرکز بھی ہے۔ اس راستے کے ذریعے سعودی تیل کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر بحیرۂ احمر کے راستے عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاسکتا ہے۔
فرانسیسی صدر کے مطابق موجودہ حالات میں اس اہم توانائی کے راستے اور متعلقہ تنصیبات کا تحفظ ضروری ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس سعودی عرب کے ساتھ مل کر اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے فوجی وسائل فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کی تشویش میں اضافہ
فرانس کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں حوثی جنگجوؤں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں دوبارہ شدت آئی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی جانب میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ بحیرۂ احمر میں بحری راستوں کو متاثر کرنے کی کارروائیوں نے ریاض اور اس کے اتحادیوں کے لیے سکیورٹی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
حالیہ دنوں میں سعودی عرب نے حوثیوں کی جانب سے ینبع اور دیگر مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ینبع کی اہمیت صرف سعودی عرب کی تیل برآمدات تک محدود نہیں بلکہ اس کی جغرافیائی پوزیشن بحیرۂ احمر کی بحری تجارت کے لیے بھی اہم ہے۔
رپورٹس کے مطابق حوثیوں کی جانب سے سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کوششوں نے عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کیے ہیں۔ سعودی عرب کے لیے ینبع ایک متبادل برآمدی راستہ فراہم کرتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خلیج اور آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی غیر یقینی ہے۔
’’فرانس جنگ میں شریک نہیں ہوگا‘‘
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا سعودی عرب کو فوجی معاونت دینے کا فیصلہ فرانس کو حوثیوں کے خلاف جنگ میں فریق بنا دیتا ہے تو انہوں نے اس امکان کو مسترد کیا۔
بارو کے مطابق فرانس کی فوجی موجودگی کا بنیادی مقصد سعودی عرب کے دفاع اور اہم بنیادی ڈھانچے کی حفاظت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس نے ایران کے ساتھ جاری علاقائی کشیدگی کے دوران بھی اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے تحفظ کے لیے فوجی وسائل تعینات کیے ہیں، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ فرانس ہر اس تنازع میں براہِ راست جنگی فریق بن جاتا ہے۔
فرانسیسی حکومت پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ ینبع اور ایسٹ ویسٹ کوریڈور کی توانائی تنصیبات کے تحفظ میں فرانس کا کردار ’’سختی سے دفاعی‘‘ ہوگا اور اس کا مقصد حوثیوں کے خلاف جنگی کارروائیوں میں شامل ہونا نہیں ہے۔
خطے میں مغربی دفاعی تعاون کا وسیع ہوتا دائرہ
فرانس کا فیصلہ کسی ایک ملک کی جانب سے سعودی عرب کو دفاعی معاونت تک محدود نہیں ہے۔ حالیہ دنوں میں برطانیہ نے بھی سعودی عرب کی درخواست پر محدود دفاعی فوجی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی حکومت کے مطابق سعودی عرب کی دفاعی سرگرمیوں میں مدد کے لیے رائل ایئر فورس کا وویجر طیارہ فضائی ایندھن بھرنے کے لیے تعینات کیا جائے گا۔ برطانیہ پہلے ہی سعودی فضائی دفاع میں تعاون کرتا رہا ہے اور سعودی عرب میں فضائی دفاعی نظام اور برطانوی اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ اٹلی کے جنگی طیارے بھی خلیج میں دفاعی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب اپنے فضائی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو میزائل اور ڈرون خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف بین الاقوامی شراکت داروں سے تعاون حاصل کررہا ہے۔
فرانس اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات
فرانس اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور ان میں دفاع، توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں نے دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے کی کوششیں کی ہیں۔
ستمبر 2026 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر فرانس اور خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ اجلاس بھی ہوا، جس میں خلیج اور بحیرۂ احمر کی سلامتی سمیت خطے میں جاری تنازعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فرانس کے پاس خطے میں پہلے سے فوجی موجودگی بھی موجود ہے۔ اس کا جبوتی میں ایک اہم فوجی اڈہ ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں بھی فرانسیسی فوجی موجود ہیں۔ اس جغرافیائی موجودگی کے باعث فرانس بحیرۂ احمر، خلیج عدن اور خلیجی خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ دفاعی تعاون کے لیے نسبتاً بہتر پوزیشن رکھتا ہے۔
آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر کی صورتحال کا باہمی تعلق
سعودی عرب کو درپیش موجودہ سکیورٹی صورتحال کو صرف یمن تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ ایک جانب آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے خطرہ بن رہی ہے، جبکہ دوسری جانب بحیرۂ احمر اور باب المندب کے اطراف حوثی کارروائیوں نے متبادل بحری راستوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔
ینبع کی اہمیت اسی تناظر میں مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہ سعودی عرب کو تیل برآمد کرنے کے لیے بحیرۂ احمر کی سمت ایک اہم راستہ فراہم کرتا ہے۔ اگر خلیج فارس اور بحیرۂ احمر دونوں میں بحری سکیورٹی متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تیل کی رسد، جہاز رانی کے اخراجات اور توانائی کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں خطے کی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں پہلے ہی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔
سعودی عرب کے دفاعی شراکت داروں میں اضافہ
فرانس کی حالیہ پیش رفت سعودی عرب کی وسیع تر دفاعی حکمت عملی کا بھی حصہ دکھائی دیتی ہے، جس میں ریاض مختلف ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے۔
22 ستمبر کو ترکی، مصر، سعودی عرب اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایک مشترکہ بیان میں سعودی عرب کے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی اور خطے میں محفوظ بحری نقل و حرکت کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
اسی وسیع تر علاقائی پس منظر میں فرانس کی جانب سے ینبع کے تحفظ کے لیے فوجی وسائل کی فراہمی سعودی عرب کے لیے ایک اہم دفاعی تعاون تصور کی جارہی ہے، تاہم فرانسیسی حکومت مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہے کہ اس کا کردار دفاعی تنصیبات کے تحفظ تک محدود رہے گا۔
خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں بھی جاری
اگرچہ مختلف ممالک سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی وسائل فراہم کررہے ہیں، لیکن خطے کے بحران کا مستقل حل صرف فوجی اقدامات سے ممکن نہیں سمجھا جارہا۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سمیت مختلف سطحوں پر علاقائی کشیدگی کم کرنے، بحری راستوں کو محفوظ بنانے اور تنازعات کے سفارتی حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
فرانسیسی حکومت بھی ایک جانب سعودی عرب کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دے رہی ہے اور دوسری جانب سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعلان کرتی رہی ہے۔ صدر میکرون نے حالیہ بیانات میں توانائی کی ترسیل کے راستے کھلے رکھنے اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یوں فرانس کی جانب سے سعودی عرب کو فوجی معاونت کا حالیہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن، بحیرۂ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز ایک دوسرے سے جڑے ہوئے علاقائی سکیورٹی بحران کا حصہ بن چکے ہیں۔ پیرس کے مطابق اس کا فوری مقصد ینبع اور دیگر اہم سعودی توانائی تنصیبات کا دفاع ہے، جبکہ اس اقدام کا وسیع تر اثر خطے میں اتحادیوں کے دفاعی تعاون اور عالمی بحری و توانائی سکیورٹی پر پڑ سکتا ہے۔



