
بھارت اور نیپال میں شدید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ، 70 افراد ہلاک، متعدد لاپتا
بھارت کی ریاست اترپردیش میں 56 اموات، 46 افراد زخمی اور ایک ہزار سے زائد مکانات متاثر؛ نیپال میں 14 ہلاکتیں، 11 افراد لاپتا، 49 اضلاع میں اچانک سیلاب کا انتباہ
جاوید اختر-دہلی
بھارت اور نیپال میں شدید بارش، طوفان، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق بھارت میں کم از کم 56 افراد ہلاک اور 46 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ نیپال میں 14 افراد جاں بحق اور 11 لاپتا ہیں۔ دونوں ممالک میں متعدد علاقے زیرِ آب آگئے، مکانات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور امدادی اداروں نے متاثرہ علاقوں میں کارروائیاں تیز کردی ہیں۔
نیپال میں صورتِ حال مزید تشویشناک ہوگئی ہے جہاں حکام نے ملک کے 77 میں سے 49 اضلاع میں ممکنہ اچانک سیلاب کا انتباہ جاری کیا ہے۔ بڑے دریاؤں اور ان کی معاون ندیوں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے باعث متعدد علاقوں میں سیلاب کا خطرہ برقرار ہے۔
اترپردیش میں معمول سے کئی گنا زیادہ بارش
بھارت کی شمالی ریاست اترپردیش حالیہ بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ ریاستی ریلیف کمشنر رشی کیش بھاسکر یشود کے مطابق 25 ستمبر سے 27 ستمبر کی صبح تک ریاست میں 66.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس عرصے میں معمول کی بارش تقریباً 7.6 ملی میٹر ہوتی ہے۔
حکام کے مطابق شدید بارش اور طوفانی موسم نے ریاست کے 63 اضلاع کو متاثر کیا۔ ہفتے تک ختم ہونے والے 24 گھنٹوں کے دوران بعض علاقوں میں بارش معمول سے تقریباً 19 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
شدید بارش کے نتیجے میں نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے جبکہ متعدد مقامات پر سڑکوں، رہائشی آبادیوں اور زرعی اراضی کو نقصان پہنچا۔ حکام نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کردی ہیں اور پانی میں گھرے لوگوں تک خوراک اور دیگر ضروری اشیا پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
ریاستی حکام نے متعلقہ افسران کو فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگانے اور متاثرہ کسانوں کو قواعد کے مطابق معاوضہ فراہم کرنے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔
56 ہلاکتیں، 46 زخمی، ایک ہزار سے زائد مکانات متاثر
بھارتی حکام کے مطابق شدید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے مختلف واقعات میں اب تک 56 افراد ہلاک اور 46 زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ ایک ہزار سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
ریسکیو اور امدادی ٹیمیں پانی میں گھرے علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور متاثرہ آبادیوں تک امداد پہنچانے میں مصروف ہیں۔ تاہم کئی علاقوں میں مسلسل بارش کے باعث امدادی کارروائیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
بھارت کے سینٹرل واٹر کمیشن نے بھی دریاؤں کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سات ریاستوں میں پانی کی نگرانی کرنے والے 30 اسٹیشنز پر صورتحال ’’شدید‘‘ نوعیت کی ریکارڈ کی گئی ہے۔
کمیشن کے مطابق گنگا، گنڈک، کوسی، باگمتی اور نرمدا سمیت متعدد بڑے دریا بعض مقامات پر خطرے کی سطح سے اوپر بہہ رہے ہیں، جس کے باعث دریا کے کناروں اور نشیبی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کے لیے خطرہ برقرار ہے۔
نیپال میں 49 اضلاع کے لیے فلیش فلڈ الرٹ
ادھر بھارت کے پڑوسی ملک نیپال میں بھی شدید بارش نے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی نے ملک کے 77 میں سے 49 اضلاع میں اچانک سیلاب کا انتباہ جاری کیا ہے۔
حکام کے مطابق ملک کے بڑے دریاؤں اور معاون ندیوں میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے اور نصف سے زیادہ اضلاع کو شدید سیلاب یا اچانک سیلاب کے خطرے کا سامنا ہے۔
نیپال میں 24 ستمبر سے ہونے والی شدید بارش کے نتیجے میں مختلف مقامات پر سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے ہیں۔ حکام کے مطابق کم از کم 14 افراد ہلاک جبکہ 11 لاپتا ہیں، تاہم مختلف مقامی رپورٹس میں ہلاکتوں اور لاپتا افراد کی تعداد میں معمولی فرق بھی سامنے آیا ہے۔
راسوا اور نواکوٹ میں خصوصی نگرانی
نیپالی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی ترجمان شانتی مہات نے کہا ہے کہ راسوا اور نواکوٹ کے علاقوں کو بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ وہی علاقے ہیں جو گزشتہ ماہ آنے والی انتہائی تباہ کن قدرتی آفت سے بری طرح متاثر ہوئے تھے۔
حکام کے مطابق ان علاقوں کو فی الحال موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ خطرے والے علاقوں میں شامل نہیں کیا گیا، تاہم وہاں کے رہائشیوں اور انتظامیہ کو مسلسل نگرانی اور احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔
گزشتہ ماہ کے بڑے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد نیپال پہلے ہی بڑے پیمانے پر بحالی کے مرحلے میں ہے، اس لیے نئی بارشوں نے متاثرہ علاقوں میں مزید خطرات پیدا کردیئے ہیں۔
بجلی کا نظام متاثر، پن بجلی منصوبے کو نقصان
شدید بارش اور سیلاب نے نیپال کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی متاثر کیا ہے۔ حکام کے مطابق مانانگ، مستنگ، میاگدی اور باگلونگ اضلاع میں بجلی کی فراہمی مکمل طور پر متاثر ہوئی ہے اور متعلقہ ادارے بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
آبی وسائل اور توانائی کے وزیر براج بھکتا شریستھا کے مطابق راہو گنگا دریا میں طغیانی کے باعث 40 میگاواٹ کے ایک پن بجلی منصوبے کے ڈھانچے اور بجلی کی ترسیلی لائنوں کے ٹاورز کو نقصان پہنچا ہے۔
حکام نے نقصان کا تکنیکی جائزہ لینے کے لیے ٹیمیں متحرک کردی ہیں تاکہ بجلی کی فراہمی جلد بحال کی جاسکے۔
مواصلاتی نظام بھی متاثر
سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نیپال کے بعض علاقوں میں مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا ہے۔ مواصلات کے وزیر بکرم تمیل سنہا کے مطابق بعض مقامات پر آپٹیکل فائبر لائنوں اور بجلی کے نظام کو پہنچنے والے نقصان کے باعث ٹیلی مواصلات کی سہولت متاثر ہوئی۔
اس صورتحال نے امدادی اداروں کے لیے بھی مشکلات پیدا کردی ہیں، کیونکہ قدرتی آفات کے دوران متاثرہ علاقوں سے رابطہ قائم رکھنا اور ریسکیو ٹیموں کو تازہ معلومات فراہم کرنا انتہائی اہم ہوتا ہے۔
ہمالیائی علاقے میں برفانی تودہ، کارکن لاپتا
نیپال میں بارش اور سیلاب کے ساتھ ساتھ بلند پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری نے بھی خطرات پیدا کردیئے ہیں۔ مانانگ ضلع میں 7,126 میٹر بلند ہملنگ ہمال کے بیس کیمپ پر برفانی تودہ گرنے سے متعدد مقامی کارکن لاپتا ہوگئے۔
ابتدائی اطلاعات میں لاپتا افراد کی تعداد 10 بتائی گئی تھی، تاہم بعد کی مقامی رپورٹس میں تعداد اور صورتحال میں تبدیلی سامنے آئی۔ تازہ رپورٹ کے مطابق برفانی تودے کے مقام سے دو لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں جبکہ مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔
یہ کارکن غیر ملکی کوہ پیماؤں کے لیے بیس کیمپ پر خیمے اور دیگر انتظامات تیار کررہے تھے۔ برفانی تودہ گرنے کے وقت غیر ملکی کوہ پیما وہاں موجود نہیں تھے۔ خراب موسم اور دشوار گزار پہاڑی علاقے کے باعث امدادی کارروائیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
موسمی حالات نے ریسکیو آپریشن مشکل بنا دیا
ہملنگ ہمال کے علاقے میں خراب موسم، شدید برفباری اور مسلسل بارش کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیدا ہوئیں۔ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے متاثرہ علاقے تک پہنچانے کی کوششیں کی گئیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق نیپال نیشنل ماؤنٹین گائیڈز ایسوسی ایشن کی ٹیم نے متاثرہ مقام پر تلاش کا عمل شروع کردیا ہے اور دو افراد کی لاشیں بھی برآمد کی گئی ہیں۔
قدرتی آفات کا ایک اور سلسلہ
نیپال اس وقت گزشتہ ماہ کی تباہ کن قدرتی آفت کے اثرات سے بھی مکمل طور پر نہیں نکل سکا۔ اگست میں آنے والے بڑے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 1,400 سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ ہزاروں افراد لاپتا ہوئے تھے۔ اس تباہی نے کئی دیہات، سڑکوں، پلوں اور پن بجلی منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔
تازہ بارشوں نے ان علاقوں میں دوبارہ خطرات پیدا کردیئے ہیں جہاں پہلے ہی بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ چکا ہے۔ ایسے علاقوں میں معمولی نوعیت کی مزید بارش بھی بعض اوقات مٹی کے تودے گرنے، دریا میں طغیانی اور اچانک سیلاب کا سبب بن سکتی ہے۔
امدادی کارروائیاں جاری، مزید بارش کا خطرہ برقرار
بھارت اور نیپال دونوں میں حکام نے عوام کو دریا کے کناروں، نشیبی علاقوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے دوچار پہاڑی مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
بھارت میں امدادی ٹیمیں سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے اور نقصان کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں، جبکہ نیپال میں 49 اضلاع کے لیے فلیش فلڈ الرٹ جاری رہنے کے باعث ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
مجموعی طور پر دونوں ممالک میں حالیہ قدرتی آفات سے کم از کم 70 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ متعدد افراد لاپتا، درجنوں زخمی اور ہزاروں مکانات و بنیادی تنصیبات متاثر ہوئے ہیں۔ دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے اور مزید بارش کے خدشے کے باعث حکام نے واضح کیا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے اور ہنگامی صورتِ حال پیدا ہونے کی صورت میں مزید امدادی اقدامات کیے جائیں گے۔



