انٹرٹینمینٹتازہ ترین

بلی رے سائرس نے ڈولی پارٹن کا 1992 کا نجی خط پہلی بار منظرِ عام پر لے آئے

تین دہائیوں سے محفوظ یادگار خط میں ڈولی پارٹن نے سائرس کو کامیابی پر مبارک باد دی اور پہلی ملاقات پر شرمانے کا دلچسپ اعتراف کیا؛ دونوں کی دوستی بعد میں موسیقی، ٹیلی وژن اور خاندانی تعلق تک جا پہنچی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

امریکی کنٹری موسیقی کے معروف گلوکار بلی رے سائرس نے اپنی دیرینہ دوست اور کنٹری موسیقی کی عالمی شہرت یافتہ فنکارہ ڈولی پارٹن سے وابستہ ایک انتہائی ذاتی اور قیمتی یاد پہلی مرتبہ عوام کے ساتھ شیئر کردی۔ سائرس نے 25 ستمبر کو ’’ڈولی پارٹن ڈے‘‘ کے موقع پر سوشل میڈیا پر وہ ہاتھ سے لکھا ہوا خط جاری کیا جو پارٹن نے انہیں 1992 میں پہلی ملاقات کے چند ہفتوں بعد لکھا تھا۔

یہ خط اس وقت لکھا گیا تھا جب بلی رے سائرس کا موسیقی کی دنیا میں سفر تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا اور ان کا گانا ’’Achy Breaky Heart‘‘ مقبولیت حاصل کرنا شروع ہی ہوا تھا۔ ان کا پہلا البم Some Gave All بھی اس وقت تک ریلیز نہیں ہوا تھا۔ سائرس کے مطابق وہ اس خط کو تین دہائیوں سے زائد عرصے سے سنبھال کر رکھے ہوئے تھے اور اسے اپنی زندگی کی انتہائی قیمتی یادگاروں میں شمار کرتے ہیں۔

ڈولی پارٹن کا محبت بھرا پیغام

1992 میں لکھے گئے خط میں ڈولی پارٹن نے بلی رے سائرس کے ساتھ کام کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی ابتدائی کامیابیوں پر فخر کا اظہار کیا۔

پارٹن نے سائرس کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے کئی ہفتوں سے منتظر تھیں اور انہیں سائرس کی پیش رفت پر خوشی تھی۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ وہ سائرس کو ایک خاص انسان سمجھتی ہیں اور مستقبل میں ان کے لیے مزید کامیابیوں کی خواہش رکھتی ہیں۔

خط کا سب سے دلچسپ حصہ وہ تھا جہاں پارٹن نے دونوں کی پہلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے اپنے انداز میں مزاحیہ اعتراف کیا۔ انہوں نے لکھا کہ جب وہ سائرس سے پہلی بار ملیں تو وہ کچھ جھجک گئی تھیں اور ان کی گفتگو میں ہچکچاہٹ بھی محسوس ہوئی، پھر شوخ انداز میں وضاحت کی کہ وہ بھی ان دنوں دوسری لڑکیوں جیسی ہیں، بس عمر میں کچھ بڑی ہیں۔

یہ جملہ پارٹن کی اس شخصیت کی بھی عکاسی کرتا ہے جس کے باعث وہ موسیقی کی دنیا میں اپنی گلوکاری اور نغمہ نگاری کے ساتھ ساتھ اپنے مزاحیہ اور بے تکلف انداز کے لیے بھی جانی جاتی تھیں۔

خط تین دہائیوں تک نجی خزانہ بنا رہا

بلی رے سائرس نے بتایا کہ ڈولی پارٹن نے یہ خط انہیں شکاگو میں 1992 کے موسمِ بہار میں ہونے والی پہلی ملاقات کے چند ہفتوں بعد دیا تھا۔

سائرس کے مطابق انہوں نے اس خط کو کبھی عوامی سطح پر شیئر نہیں کیا تھا۔ ان کے لیے یہ صرف ایک معروف فنکارہ کا پیغام نہیں بلکہ ان کے کیریئر کے انتہائی ابتدائی دور کی ایک ایسی یادگار تھی جس میں انہیں ایک عالمی شہرت یافتہ فنکار کی حوصلہ افزائی حاصل ہوئی تھی۔

سائرس نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں بتایا کہ ان کی قیمتی یادگاروں میں ایک اور اہم چیز کنٹری موسیقی کے لیجنڈ جانی کیش کا ہاتھ سے لکھا ہوا خط ہے، جبکہ ڈولی پارٹن کا خط وہ اسی کے ساتھ محفوظ رکھتے ہیں۔

انہوں نے دونوں فنکاروں کو اپنے ہیروز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک جانی کیش اور ڈولی پارٹن کے خطوط ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، کیونکہ دونوں نے اپنے مصروف اوقات میں سے وقت نکال کر ایک نوجوان فنکار کے لیے ذاتی پیغام لکھا تھا۔

ایک خط سے شروع ہونے والا طویل رشتہ

1992 کا یہ خط بلی رے سائرس اور ڈولی پارٹن کے درمیان بننے والے اس تعلق کی ابتدائی یادگار تھا جو بعد میں تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک قائم رہا۔

خط ملنے کے کچھ ہی عرصے بعد دونوں نے ’’Romeo‘‘ گانے پر ایک ساتھ کام کیا۔ اس منصوبے میں تانیا ٹکر، کیتھی میٹیا اور میری چیپِن کارپینٹر بھی شامل تھیں۔

یہ تعاون دونوں فنکاروں کے درمیان موسیقی کے رشتے کو مزید مضبوط کرنے کا سبب بنا اور آنے والے برسوں میں وہ مختلف میوزیکل اور ٹیلی وژن منصوبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ نظر آتے رہے۔

ڈولی پارٹن صرف دوست نہیں، سائرس خاندان کا حصہ بن گئیں

وقت گزرنے کے ساتھ بلی رے سائرس اور ڈولی پارٹن کی دوستی نے ایک خاندانی شکل بھی اختیار کرلی۔

ڈولی پارٹن نے بلی رے سائرس کی بیٹی مائلی سائرس کی گاڈ مدر کا کردار قبول کیا۔ بعد میں پارٹن مائلی سائرس کے ساتھ بھی کئی مواقع پر نظر آئیں اور ڈزنی چینل کی مقبول سیریز ’’Hannah Montana‘‘ میں بھی نمودار ہوئیں۔

یوں ڈولی پارٹن کا تعلق صرف بلی رے سائرس تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ سائرس خاندان کی کئی اہم یادوں اور مواقع کا حصہ بن گئیں۔

بلی رے سائرس نے اپنے حالیہ پیغام میں بھی ان برسوں کی مختلف یادوں کا ذکر کیا، جن میں ٹیلی وژن اسپیشلز سے لے کر Hannah Montana تک کے لمحات شامل ہیں۔

سائرس اور پارٹن کے درمیان موسیقی کا تعلق بھی کئی دہائیوں تک جاری رہا۔ دونوں نے بعد کے برسوں میں بھی مختلف منصوبوں میں ایک ساتھ کام کیا۔

بلی رے سائرس نے اپنے خراجِ تحسین میں بتایا کہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط اس تعلق کے دوران دونوں نے متعدد یادگار لمحات شیئر کیے اور ان کا آخری مشترکہ گانا ’’Christmas Where We Are‘‘ تھا۔

اس طرح 1992 میں ایک ابتدائی کیریئر والے گلوکار کو لکھے گئے ذاتی خط سے شروع ہونے والا تعلق کئی نسلوں تک پھیلی موسیقی اور ٹیلی وژن کی دنیا کا حصہ بن گیا۔

ڈولی پارٹن کا انتقال اور یادوں کا سلسلہ

ڈولی پارٹن 25 اگست 2026 کو 80 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ ان کے انتقال کا اعلان ان کے خاندان کی جانب سے کیا گیا، جس کے مطابق وہ نیش وِل، ٹینیسی میں انتقال کرگئیں۔ پارٹن کے انتقال کے بعد دنیا بھر سے ان کے ساتھی فنکاروں، مداحوں اور موسیقی سے وابستہ شخصیات نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

ان کے انتقال کے تقریباً ایک ماہ بعد بلی رے سائرس کی جانب سے 1992 کا خط سامنے آنا ان کے باہمی تعلق کی ایک ذاتی اور نسبتاً کم معروف یادگار کے طور پر سامنے آیا ہے۔

سائرس نے اس خط کو شیئر کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ فیصلہ ان کے لیے محض ایک پرانی دستاویز جاری کرنا نہیں تھا بلکہ ڈولی پارٹن کے ساتھ اپنے طویل تعلق کی ایک محفوظ یاد کو ان کے مداحوں کے ساتھ بانٹنا تھا۔

’’آج اسے شیئر کرنے کا صحیح دن محسوس ہوا‘‘

بلی رے سائرس نے اپنے پیغام میں لکھا کہ خط کو عوام کے سامنے لانے کے لیے 25 ستمبر کا دن انہیں مناسب محسوس ہوا۔ انہوں نے ڈولی پارٹن کے ساتھ گزرے ہوئے برسوں کو یاد کرتے ہوئے ان کے لیے محبت اور احترام کا اظہار کیا اور آخر میں مختصر مگر جذباتی الفاظ میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا:

’’Shine on, Dolly‘‘

سائرس کے لیے 1992 کا یہ خط اب صرف ماضی کی ایک یادگار نہیں بلکہ ان کے بقول دو ایسے فنکاروں کی یاد سے جڑا ہوا ہے جنہیں وہ اپنے ہیروز سمجھتے ہیں۔ ایک طرف جانی کیش کا ہاتھ سے لکھا ہوا خط اور دوسری جانب ڈولی پارٹن کا پیغام—دونوں ان کے ابتدائی موسیقی کے سفر اور ان فنکاروں کی ذاتی حوصلہ افزائی کی یاد دلاتے ہیں جنہوں نے ان کے کیریئر کے اہم ابتدائی مرحلے میں انہیں وقت دیا۔

ڈولی پارٹن کے انتقال کے بعد سامنے آنے والی یہ یاد ان کے اور بلی رے سائرس کے درمیان تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط تعلق کی ایک نجی جھلک فراہم کرتی ہے—ایسا تعلق جو موسیقی کے تعاون سے شروع ہوا، دوستی میں بدلا اور بالآخر سائرس خاندان کے ساتھ ایک قریبی خاندانی رشتے تک جا پہنچا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button