
سید عاطف ندیم-ادارت
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے واضح کیا ہے کہ حکومت پاکستان نجکاری کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے لیے نئے طیارے خود خرید رہی ہے اور نہ ہی طیاروں کی خریداری کے لیے ٹیکس دہندگان کے پیسے سے قرض فراہم کرنے یا کسی خودمختار حکومتی ضمانت کا اعلان کیا گیا ہے۔
خرم شہزاد نے یہ وضاحت ایسے وقت میں کی ہے جب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (یو ایس ایگزم) کے چیئرمین جان جووانووچ کے درمیان نیویارک میں ہونے والی ملاقات کے بعد پی آئی اے کے لیے ممکنہ طیارہ فنانسنگ کے حوالے سے مختلف تبصرے سامنے آئے۔ یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی۔
مشیر خزانہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ گردش کرنے والے بعض تبصروں میں پی آئی اے کی نجکاری اور ایکسپورٹ کریڈٹ ایجنسی کے کردار کو درست طور پر نہیں سمجھا گیا۔ ان کے مطابق امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک سے ہونے والی بات چیت کو حکومت پاکستان کی جانب سے پی آئی اے کے لیے سرکاری قرض یا ضمانت کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
امریکی ایگزم بینک سے ممکنہ فنانسنگ پر بات چیت
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق محمد اورنگزیب نے امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے چیئرمین سے ملاقات میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے لیے ممکنہ طیاروں کی خریداری کی فنانسنگ کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔
مذاکرات میں خاص طور پر بوئنگ طیاروں، بالخصوص بوئنگ 787 ڈریم لائنر کے حصول کے لیے ممکنہ مالیاتی پیکیج پر بات ہوئی۔ پاکستان کی جانب سے طیاروں اور انجنوں کے لیے فنانسنگ کے ساتھ ساتھ پہلے سے گراؤنڈ کیے گئے بوئنگ 777 طیاروں کو دوبارہ آپریشنل بنانے کے لیے اسپیئر پارٹس کی ضرورت بھی زیر بحث آئی۔
سرکاری بیان کے مطابق فریقین نے وسیع تر تعاون کے فریم ورک پر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ طیاروں کی خریداری اور ممکنہ طور پر پری ڈلیوری ادائیگیوں کے لیے مالی معاونت سمیت مخصوص لین دین کو ترجیح دینے پر بھی بات ہوئی۔
حکومت طیارے خریدنے کے بجائے سہولت کاری کرے گی
خرم شہزاد کے مطابق امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کا بنیادی مقصد امریکی مصنوعات کی برآمدات اور امریکی روزگار کو فروغ دینا ہے۔ چونکہ بوئنگ طیارے امریکی ساختہ مصنوعات ہیں، اس لیے امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک اپنے طے شدہ مالیاتی طریقہ کار کے تحت ایسے غیر ملکی خریداروں، جن میں ایئرلائنز بھی شامل ہیں، کو مالی معاونت فراہم کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق ممکنہ فنانسنگ کا بنیادی تصور یہ ہے کہ طیارہ خود مالیاتی سہولت کے لیے اثاثہ اور ضمانتی حیثیت رکھ سکتا ہے، جبکہ متعلقہ مالیاتی ادارہ ایئرلائن، لیز لینے والے ادارے یا دیگر متعلقہ فریق کی مالی ساکھ اور قرض واپس کرنے کی صلاحیت کا بھی جائزہ لے سکتا ہے۔
اس لیے، مشیر خزانہ کے مطابق، کسی بھی ممکنہ طیارہ فنانسنگ کے لیے حکومت پاکستان کی خودمختار ضمانت لازمی قرار نہیں دی جا سکتی۔
حکومت پر مالی بوجھ کے دعووں کی تردید
خرم شہزاد نے ان تبصروں کو بھی مسترد کیا جن میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ پی آئی اے کے نئے طیاروں کی خریداری سے حکومت پر براہ راست مالی بوجھ پڑے گا یا قومی خزانے سے ایئرلائن کے تجارتی خطرات کو پورا کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ فی الوقت حکومت کی جانب سے پی آئی اے کے لیے کسی سرکاری قرض، خودمختار ضمانت یا ٹیکس دہندگان کے پیسے سے طیاروں کی خریداری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ان کے مطابق امریکی ایگزم بینک سے ممکنہ مالی معاونت کا ذکر صرف ایک ممکنہ مالیاتی آپشن کی نشاندہی کرتا ہے اور اسے حکومت پاکستان کی جانب سے ضمانت شدہ قرض کی منظوری یا حتمی مالیاتی معاہدہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
مذاکرات صرف پی آئی اے تک محدود نہیں
مشیر خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے درمیان ہونے والی بات چیت کا دائرہ صرف پی آئی اے تک محدود نہیں تھا۔
مذاکرات میں پاکستان کے ایوی ایشن شعبے کے علاوہ ریفائنریوں کی توسیع و جدید کاری اور بلوچستان میں ریکو ڈک معدنی منصوبے کے لیے ممکنہ مالی معاونت کے امور بھی شامل تھے۔
وزارت خزانہ کے مطابق ریکو ڈک کو پاکستان کی مستقبل کی برآمدات کے لیے اہم منصوبہ قرار دیا گیا، جبکہ وزیر خزانہ نے اس منصوبے میں تاخیر کی لاگت اور اس کی بروقت تکمیل کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
نجکاری کے بعد پی آئی اے کا نیا انتظامی ڈھانچہ
پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کے حوالے سے سرکاری ریکارڈ کے مطابق دسمبر 2025 میں ایئرلائن کے حصص اور انتظامی کنٹرول کی منتقلی کے لیے نجی سرمایہ کار کنسورشیم کی پیشکش کو آگے بڑھایا گیا تھا۔
نجکاری کمیشن کے مطابق 23 دسمبر 2025 کو ہونے والی بولی میں عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے 135 ارب روپے کی بولی دی تھی، جبکہ بعد کے مرحلے میں انتظامی کنٹرول کی منتقلی اور سرمایہ کاری سے متعلق اقدامات مکمل کیے گئے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق نجکاری کے پہلے مالیاتی اختتام کے بعد کنسورشیم کی جانب سے پی آئی اے میں نئی ایکویٹی کے طور پر 80 ارب روپے داخل کیے گئے، جس کا مقصد ایئرلائن کی مالی پوزیشن مضبوط کرنا، فضائی بیڑے میں توسیع و جدید کاری، روٹس میں اضافہ اور آپریشنل کارکردگی بہتر بنانا تھا۔ مزید 45 ارب روپے کی سرمایہ کاری بھی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں متوقع ہے۔
نجکاری کا مطلب حکومتی سہولت کاری کا خاتمہ نہیں
خرم شہزاد نے کہا کہ نجکاری کا بنیادی مطلب کسی ادارے کی ملکیت، تجارتی انتظام اور آپریشنز کو نجی شعبے کے سپرد کرنا ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت پاکستانی کمپنیوں کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ٹیکنالوجی یا عالمی سپلائرز تک رسائی آسان بنانے میں اپنا کردار مکمل طور پر ختم کر دے۔
ان کے مطابق حکومت کی پالیسی ریاست کے براہ راست تجارتی کردار کو محدود کرتے ہوئے نجی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا کردار کاروبار چلانے کے بجائے ایسے مواقع پیدا کرنا اور بین الاقوامی اداروں و سرمایہ کاروں تک رسائی میں سہولت دینا ہے جن سے پاکستانی نجی شعبہ فائدہ اٹھا سکے۔
پی آئی اے کے مستقبل کے لیے فنانسنگ کا معاملہ
پی آئی اے کے لیے نئے طیاروں کا حصول قومی ایئرلائن کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم تجارتی معاملہ ہے، تاہم موجودہ سرکاری وضاحت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ طیاروں کی ممکنہ خریداری کے لیے امریکی ایگزم بینک سے مالی معاونت کے امکانات پر بات چیت ابھی حکومتی قرض یا خودمختار ضمانت کے اعلان کے مترادف نہیں ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق بات چیت کا مقصد ممکنہ مالیاتی ڈھانچوں اور بین الاقوامی تعاون کے راستے تلاش کرنا تھا، جبکہ خرم شہزاد نے واضح کیا ہے کہ حکومت پاکستان نے فی الحال پی آئی اے کے لیے نہ کوئی طیارہ خریدنے کا اعلان کیا ہے، نہ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے قرض دینے اور نہ ہی کسی خودمختار حکومتی ضمانت کی منظوری دی ہے۔
یوں پی آئی اے کے نئے طیاروں کی ممکنہ فنانسنگ اور حکومت پاکستان کی براہ راست مالی ذمہ داری، دونوں کو الگ الگ معاملات کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔



