
روئٹرز اور اے ایف پی کے ساتھ
پنٹ لینڈ کی وزارت اطلاعات نے ایک بیان میں کہا کہ امدادی کارروائی کے دوران جہاز کو کامیابی سے آزاد کرا لیا گیا اور 16 قزاقوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
بیان کے مطابق، ”کارروائی شروع ہونے سے قبل جہاز پر موجود قزاقوں نے عملے کے پانچ ارکان کو ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں تین پاکستانی، ایک میانمار کا باشندہ اور ایک بھارتی شہری شامل تھے۔‘‘
حکام نے بتایا کہ عملے کے مزید چار ارکان، جن میں تین پاکستانی اور ایک بھارتی شہری شامل ہیں، زخمی بھی ہوئے۔
پاکستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق پاکستانی شہریوں کے اس کارروائی کے دوران مارے جانے کی تصدیق غیر سرکاری تنظیم انصار برنی ٹرسٹ نے بھی کی ہے تاہم پاکستانی حکام نے تاحال ملکی شہریوں کے س واقعے میں مارے جانے کی تصدیق نہیں کی۔
پاکستانی میڈیا نے پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان نقل کیا ہے، ”پاکستانی مشن حقائق جاننے اور صورت حال کی تصدیق کے لیے متعلقہ حکام سے قریبی رابطے میں ہے، سرکاری تصدیق ہوتے ہی مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔‘‘

اس سلسلے میں ہمیں اور کیا معلوم ہے
یہ کارروائی گزشتہ ہفتے کی ایک اور امدادی کارروائی کے بعد کی گئی، جس میں پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس فورس نے امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے ٹینکر سیبو 1 کو آزاد کرایا تھا۔ صومالی قزاقوں نے اسے اگست میں اغوا کیا تھا۔
پالاؤ کے پرچم بردار ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کو 21 اپریل کو صومالیہ کے شمال مشرقی علاقے پنٹ لینڈ کے قریب سے قبضے میں لے لیا گیا تھا۔ اس پر 17 افراد سوار تھے، جن میں 10 پاکستانی سیلرز بھی شامل تھے۔
ان کے اہل خانہ پانچ ماہ سے زائد عرصے سے اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور ان کی رہائی کی اپیلیں کر رہے تھے۔
صومالی بحری قزاقی میں حالیہ اضافے کو ماہرین نے جزوی طور پر ایران جنگ کے اثرات سے جوڑا ہے، جن میں تیل کی بلند قیمتیں بھی شامل ہیں، جس کے باعث ٹینکرز قزاقوں کے لیے زیادہ پرکشش اہداف بن گئے ہیں۔
رواں سال صومالیہ اور خلیج عدن کے اطراف قزاقوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اگست میں بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن نے کہا تھا کہ خطے میں 90 سے زیادہ سیلرز قید ہیں اور خبردار کیا تھا کہ ان میں سے بعض کو مناسب خوراک، پانی اور طبی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔

ایک اور جہاز کو بازیاب کرایا گیا
پنٹ لینڈ میری ٹائم پولیس فورس (پی ایم پی ایف) نے منگل کی رات ایک بیان میں بتایا کہ اس نے ایم ٹی یوریکا نامی ایک دوسرے آئل ٹینکر کو بھی بازیاب کرا لیا ہے، جسے مئی میں اغوا کیا گیا تھا۔ سمندری پولیس کے جہاز کے قریب پہنچنے پر قزاق جہاز چھوڑ کر ساحل کی جانب فرار ہوگئے اور اندرون علاقے چلے گئے۔
بیان کے مطابق، ”پی ایم پی ایف کی فورسز ملوث افراد کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہیں اور فرار ہونے والے افراد کو گرفتار کرنے کے لیے مزید کارروائیاں کر رہی ہیں۔‘‘
ان دو امدادی کارروائیوں کے بعد اگست کے آخر تک صومالی ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں موجود چھ میں سے اب تک پانچ بحری جہاز واگزار کرائے جا چکے ہیں۔
صومالیہ میں 2008 سے 2014 تک قزاقی کی ایک بڑی لہر نے دنیا کی مصروف ترین بحری تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک کو شدید متاثر کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں عالمی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا اور قزاقوں کو تاوان کی مد میں کروڑوں ڈالر ادا کیے گئے تھے۔



