پاکستاناہم خبریں

عالمی امن، استحکام اور ترقی میں چین کا کردار انتہائی اہم ہے: وزیراعظم شہباز شریف

پاک چین تعلقات کی 75ویں سالگرہ، سی پیک 2.0 میں صنعت، زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور معدنیات ترجیح ہوں گے، چینی سفیر کا دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 77ویں سالگرہ کے موقع پر چین کے صدر شی جن پنگ اور چینی عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی امن، استحکام اور ترقی میں چین کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ ایسے وقت میں منا رہے ہیں جب دونوں ممالک باہمی تعاون کو ایک نئے اور وسیع مرحلے میں داخل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

وزیراعظم نے بدھ کو اسلام آباد میں عوامی جمہوریہ چین کے قومی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین کا قومی دن عظیم چینی قوم کی ثابت قدمی، اتحاد، محنت اور ترقی کے سفر کو خراج تحسین پیش کرنے کا موقع ہے۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ اور چین کے عوام کو قومی دن کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے عوام کے درمیان تعلقات محض سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی، باہمی اعتماد اور عوامی سطح پر مضبوط وابستگی موجود ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین نے انسانی ترقی، سائنس و ٹیکنالوجی، جدت اور معاشی ترقی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جبکہ عالمی امن، استحکام اور ترقی کے لیے بھی چین کی شراکت مسلسل اہمیت اختیار کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2026 پاکستان اور چین کے مشترکہ سفر کے حوالے سے خصوصی اہمیت کا حامل سال ہے، کیونکہ دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ وزیراعظم کے مطابق پاک چین دوستی نے وقت کے مختلف امتحانات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی مضبوطی ثابت کی ہے اور دونوں ممالک قدرتی آفات سمیت مشکل مواقع پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

سی پیک 2.0 میں نئے شعبوں پر توجہ

وزیراعظم نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی اور مشترکہ معاشی ترقی کے عزم کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین اب سی پیک 2.0 کے نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے نئے مرحلے میں صنعتکاری، خصوصی اقتصادی زونز، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، زراعت، کان کنی اور معدنیات سمیت ایسے شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی جو پاکستان کی معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور برآمدی صلاحیت میں اضافے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے زرعی شعبے میں پاک چین تعاون کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار زرعی گریجویٹس کے پہلے گروپ نے چین میں اپنی تربیت مکمل کر لی ہے، جبکہ مزید ایک ہزار افراد پر مشتمل اگلا گروپ چین جانے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی اور مہارتوں سے آراستہ کرنا پاکستان کے مستقبل میں ایک اہم سرمایہ کاری ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے رواں سال مئی میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی اور باہمی تعاون کے عزم کی تجدید کا باعث بنی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان طے پانے والی اہم مفاہمت اور فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

وزیراعظم نے چینی زبان کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دور دیس میں موجود مخلص دوست دور کی سرزمین کو قریب کر دیتا ہے، اور یہ قول پاکستان اور چین کے درمیان موجود دوستی اور قربت کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان چین کے ساتھ مل کر نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی حامل مزید قریبی پاک چین کمیونٹی کی تعمیر کی جانب پیش رفت جاری رکھے گا۔

چینی سفیر کا پاکستان کے ساتھ تعاون مزید بڑھانے کا اعلان

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ نے کہا کہ چین اور پاکستان ہر موسم کے تزویراتی تعاون کے شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور دوستی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔

چینی سفیر نے پاکستان کے بین الاقوامی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف، وسیع عالمی وژن اور سفارتی بصیرت کے باعث بین الاقوامی سطح پر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کثیرالجہتی اور بین الاقوامی تعاون کی حمایت کی ہے اور خطے سمیت عالمی سطح پر امن و سلامتی کے لیے بھی کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے پاکستان کے قومی مفادات اور بین الاقوامی و علاقائی معاملات پر ملک کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا۔

عالمی امن، استحکام اور ترقی میں چین کا کردار انتہائی اہم ہے: وزیراعظم شہباز شریف

چینی سفیر نے کہا کہ چین اور پاکستان ایک نئے تاریخی مرحلے پر کھڑے ہیں اور چین پاکستان کے ساتھ مل کر مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے پر عملدرآمد کیا جائے گا اور نئے دور میں چین پاکستان مشترکہ مستقبل کے مزید قریبی معاشرے کی تعمیر کے ایکشن پلان میں عملی پیش رفت کی جائے گی۔

جیانگ زائیڈونگ نے کہا کہ چین سیاسی باہمی اعتماد کو معاشی تعاون اور ترقی کے لیے پائیدار محرک میں تبدیل کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت، زراعت اور کان کنی کے تین ترجیحی شعبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سی پیک 2.0 کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھایا جائے گا۔

ان کے مطابق چین پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے جدید اور بہتر ورژن کی تیاری میں بھی تیزی لائی جائے گی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کا تعاون مزید وسیع اور گہرا ہو سکے۔

بلوچستان میں عوامی فلاح کے منصوبے

چینی سفیر نے کہا کہ پاک چین تعاون کا ایک اہم مقصد عوام کی فلاح و بہبود اور عام شہریوں کی ضروریات پوری کرنا بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں صاف پانی کے 100 مراکز کی تعمیر، 1,000 سمارٹ کلاس رومز کی اپ گریڈیشن اور ایک لاکھ سکول کٹس کی تقسیم کے منصوبوں کو تیز کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان صحت، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں، تھنک ٹینکس، نوجوانوں اور خواتین کے درمیان تبادلوں کو وسعت دی جائے گی تاکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط مزید مضبوط ہوں۔

دفاع اور انسداد دہشت گردی میں تعاون بڑھانے پر زور

چینی سفیر نے کہا کہ چین اور پاکستان دفاع، سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون کو بھی مزید گہرا کریں گے۔ دونوں ممالک ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری رکھیں گے تاکہ اپنے اپنے ممالک کی ترقی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سازگار ماحول کو مضبوط بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر قائم ہے اور بدلتے ہوئے عالمی حالات میں بھی پاک چین تعاون کی اہمیت برقرار رہے گی۔

چینی سفیر نے پاک چین سفارتی روابط کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بین الاقوامی سطح پر بھی قریبی رابطہ اور تعاون موجود ہے۔ انہوں نے مارچ میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بیجنگ دورے اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ مذاکرات کا حوالہ دیا، جن کے دوران خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے مشترکہ پانچ نکاتی اقدام جاری کیا گیا۔

انہوں نے ستمبر میں نیویارک میں چین کی میزبانی میں منعقدہ عالمی ترقیاتی اقدام سے متعلق اعلیٰ سطحی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت کا بھی ذکر کیا۔

چینی سفیر کے مطابق وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت اور عالمی اقدامات کو سراہا اور مشترکہ عالمی مستقبل کی تعمیر کے لیے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

تقریب کے اختتام پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاک چین دوستی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے "پاک چین دوستی زندہ باد” کا نعرہ لگایا۔ دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ دور میں پاک چین تعاون کو روایتی شعبوں سے آگے بڑھاتے ہوئے صنعت، تجارت، زراعت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، معدنیات، تعلیم، صحت اور سلامتی سمیت وسیع شعبوں تک پھیلایا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button