پاکستاناہم خبریں

نورستان کی لڑائی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانے کے طالبان الزامات بے بنیاد ہیں:پاکستانی موئقف

افغان طالبان کے ترجمانوں کے بیانات اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں، پاکستان مخالف پروپیگنڈا خطے کے امن کے لیے نقصان دہ قرار

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت،حقائق کی جانچ | وزارتِ اطلاعات و نشریات کے ساتھ

اسلام آباد: پاکستان نے نورستان میں جاری لڑائی سے متعلق افغان طالبان حکومت کے بعض عہدیداروں اور ترجمانوں کی جانب سے پاکستان پر عائد کیے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق افغان طالبان حکومت کے نام نہاد ’وزیر برائے امورِ سرحد‘ اور دیگر ترجمانوں کی جانب سے نورستان میں جاری لڑائی کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرنے کی کوششیں حقائق کے منافی ہیں۔ پاکستانی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایسے بیانات کا مقصد افغانستان کے اندر موجود سیاسی، انتظامی اور سکیورٹی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔

پاکستانی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان ایک غیر شمولی اور غیر نمائندہ حکومتی نظام چلا رہے ہیں اور افغانستان میں اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے طاقت اور جبر پر انحصار کر رہے ہیں۔ بیان میں طالبان حکومت کو درپیش مبینہ اندرونی اختلافات اور عدم استحکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان مسائل کی ذمہ داری بیرونی فریقوں پر ڈالنے کے بجائے افغانستان کے اندرونی حالات کا جائزہ لینا چاہیے۔

پاکستان مخالف الزامات مسترد

پاکستانی جانب سے کہا گیا کہ نورستان میں جاری لڑائی سے متعلق پاکستان کو ذمہ دار قرار دینا ایک ایسا بیانیہ ہے جس کے لیے قابلِ اعتماد شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ مؤقف کے مطابق افغان طالبان کے بعض عہدیدار اپنے داخلی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے پاکستان کے خلاف الزامات عائد کر رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان مخالف بیانات اور الزام تراشیوں سے نہ تو افغانستان کے داخلی مسائل حل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی خطے میں امن و استحکام کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق افغانستان میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ افغان حکام اپنی سرزمین سے پیدا ہونے والے سکیورٹی چیلنجز، داخلی سیاسی اختلافات اور دیگر مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کریں۔

دہشت گردی کے معاملے پر سخت مؤقف

پاکستانی بیان میں افغان طالبان پر دہشت گردی کے معاملے میں دوہرے معیار کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ بیان کے مطابق طالبان حکومت کو افغانستان سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے معاملے پر واضح اور مؤثر اقدامات کرنا چاہییں۔

پاکستانی جانب سے کہا گیا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی یا تشدد کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان پہلے بھی متعدد مواقع پر افغانستان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

بیان میں افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردی سے متعلق مؤقف پر بھی سخت تنقید کی گئی اور الزام عائد کیا گیا کہ طالبان قیادت اپنے بعض رہنماؤں کے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کے لیے خطے میں موجود طاقتوں کے مفادات کا حصہ بن رہی ہے۔

’ہندوتوا ایجنڈے کے لیے آلہ کار بننے‘ کا الزام

پاکستانی مؤقف میں افغان طالبان پر مزید الزام عائد کیا گیا کہ وہ بعض بیرونی عناصر کے مفادات کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں اور خطے کو غیر مستحکم کرنے والی سرگرمیوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

تاہم ان الزامات کے حوالے سے بیان میں کوئی مخصوص ثبوت یا قابلِ تصدیق تفصیلات پیش نہیں کی گئیں۔ اسی طرح افغانستان میں جاری لڑائی اور مختلف فریقوں کے باہمی الزامات کے بارے میں بھی آزادانہ طور پر تمام دعوؤں کی تصدیق ضروری ہے۔

پاکستانی جانب سے کہا گیا کہ کسی بھی ریاست کے داخلی مسائل کا الزام کسی دوسرے ملک پر عائد کرنے کے بجائے سیاسی مکالمے، مؤثر حکمرانی اور سکیورٹی کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

خطے کے امن کے لیے ذمہ دارانہ طرزِ عمل پر زور

پاکستانی مؤقف کے مطابق خطے میں موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر تمام فریقوں کو اشتعال انگیز بیانات اور الزام تراشی سے گریز کرنا چاہیے۔ افغانستان میں امن اور استحکام نہ صرف افغان عوام بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کا خواہاں ہے، تاہم اس کے لیے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں کی روک تھام اور دونوں ممالک کے درمیان مؤثر سکیورٹی تعاون ضروری ہے۔

پاکستانی جانب سے اس امر پر زور دیا گیا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں موجود مسائل کو الزام تراشی کے بجائے سفارتی ذرائع، باہمی رابطے اور قابلِ تصدیق حقائق کی بنیاد پر حل کیا جانا چاہیے۔

نورستان میں جاری لڑائی کے حوالے سے افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان سامنے آنے والے متضاد دعووں کے باعث صورتِ حال پر مزید آزادانہ اور قابلِ اعتماد معلومات کی ضرورت ہے۔ فریقین کے بیانات کے علاوہ زمینی صورتِ حال اور واقعات کی آزادانہ تصدیق ہی اس تنازعے کے مختلف دعوؤں کی حقیقت واضح کر سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button