
سید عاطف ندیم-ادارت
لندن: برطانوی پاکستانی کنسلٹنٹ گائناکولوجسٹ اور روبوٹک سرجن ڈاکٹر عامر رضا نے سنگل پورٹ روبوٹک گائناکولوجیکل سرجری کے شعبے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے جدید روبوٹک تکنیک کے استعمال کو پیچیدہ اینڈومیٹریوسس کے کیسز تک وسعت دی ہے۔ ان کی قیادت میں روبوٹک سرجری پروگرام اب تک 400 سے زائد آپریشنز مکمل کر چکا ہے۔
ڈاکٹر عامر رضا اور ان کی ٹیم کی جانب سے سنگل پورٹ روبوٹک سرجری کا استعمال روایتی غیر سرطانی گائناکولوجیکل آپریشنز سے آگے بڑھاتے ہوئے پیچیدہ اینڈومیٹریوسس کے مریضوں تک کیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کو خواتین کے پیچیدہ امراض کے علاج میں جدید کم سے کم چیرا لگانے والی سرجری کے استعمال کے حوالے سے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
سنگل پورٹ روبوٹک سرجری کیا ہے؟
سنگل پورٹ روبوٹک سرجری میں روایتی ملٹی پورٹ روبوٹک طریقۂ کار کے مقابلے میں پیٹ پر متعدد چھوٹے چیروں کے بجائے ایک ہی راستے سے کیمرہ اور روبوٹک آلات داخل کیے جاتے ہیں۔ سرجن روبوٹک نظام کو کنٹرول کرتے ہوئے آپریشن کے دوران انتہائی باریک اور پیچیدہ حرکات انجام دیتا ہے۔
اس تکنیک کا بنیادی مقصد کم سے کم چیرا لگا کر سرجری انجام دینا ہے، تاہم اس کے استعمال اور موزونیت کا فیصلہ مریض کی بیماری، پیچیدگی اور طبی صورتحال کے مطابق کیا جاتا ہے۔ پیچیدہ گائناکولوجیکل کیسز میں سرجری کی نوعیت کے باعث ماہر اور تربیت یافتہ ٹیم کی ضرورت بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔
پیچیدہ اینڈومیٹریوسس کے علاج میں توسیع
ڈاکٹر عامر رضا کی ٹیم نے سنگل پورٹ روبوٹک سرجری کے دائرہ کار کو پیچیدہ اینڈومیٹریوسس کے کیسز تک بڑھایا ہے۔ اینڈومیٹریوسس خواتین میں ایک ایسی کیفیت ہے جس میں رحم کی اندرونی تہہ سے مشابہ ٹشو رحم کے باہر موجود ہوتا ہے اور بعض مریضوں میں شدید درد، دیگر پیچیدگیاں اور زرخیزی سے متعلق مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر رضا کے مطابق پیچیدہ اینڈومیٹریوسس کا علاج صرف آپریشن تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ مریضہ کی مجموعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تشخیص، درد کے انتظام، زرخیزی سے متعلق مشاورت، آپریشن کے بعد صحتیابی اور طویل مدتی معاونت کو بھی علاج کے جامع منصوبے کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
ان کے مطابق پیچیدہ اینڈومیٹریوسس کے مریضوں کے لیے علاج کا انتخاب انفرادی طبی صورتحال کے مطابق ہونا چاہیے، کیونکہ ہر مریضہ کی علامات، بیماری کی شدت اور علاج کی ضروریات مختلف ہو سکتی ہیں۔
400 سے زائد روبوٹک آپریشنز
ڈاکٹر عامر رضا کی قیادت میں روبوٹک سرجری پروگرام 400 سے زائد آپریشنز مکمل کر چکا ہے۔ اس تجربے کے نتیجے میں ان کی ٹیم نے گائناکولوجیکل سرجری میں روبوٹک ٹیکنالوجی کے استعمال کے مختلف پہلوؤں پر کام کیا ہے۔
ڈاکٹر رضا کے مطابق ان کے مرکز میں روبوٹک سرجری کے طریقۂ کار کو دیکھنے اور اس ٹیکنالوجی سے متعلق عملی تجربہ حاصل کرنے کے لیے برطانیہ اور دیگر ممالک سے 100 سے زائد سرجن بھی دورہ کر چکے ہیں۔
ان سرجنز نے پیچیدہ روبوٹک آپریشنز کا مشاہدہ کیا اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، جراحی تکنیک اور مریضوں کے انتخاب سمیت مختلف پہلوؤں کے بارے میں تجربات حاصل کیے۔
روبوٹک سرجری میں بین الاقوامی تربیتی کردار
ڈاکٹر عامر رضا کو روبوٹک سرجری اور جدید اینڈومیٹریوسس کیئر کے شعبوں میں دو ماسٹر سرجن ایکریڈیٹیشنز بھی حاصل ہوئی ہیں۔ یہ تربیتی اور پیشہ ورانہ شناخت ان کی روبوٹک گائناکولوجیکل سرجری اور پیچیدہ اینڈومیٹریوسس کے علاج میں دلچسپی اور تجربے کی عکاسی کرتی ہے۔
ان کے مرکز میں دیگر سرجنز کی جانب سے روبوٹک آپریشنز کا مشاہدہ اور تربیتی سرگرمیوں میں شرکت اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید جراحی ٹیکنالوجی میں عملی تربیت اور تجربات کے تبادلے کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
پاکستان سے تعلق اور طبی خدمات
ڈاکٹر عامر رضا نشتَر میڈیکل کالج ملتان سے فارغ التحصیل ہیں اور گزشتہ 25 برس سے زائد عرصے سے برطانیہ میں طبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کے دوران روبوٹک سرجری، کم سے کم چیرا لگانے والی جراحی اور اینڈومیٹریوسس کے علاج کے شعبوں میں کام کیا ہے۔
برطانیہ میں جدید طبی ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر رضا پاکستان کے ساتھ بھی اپنے طبی اور پیشہ ورانہ روابط برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔
پاکستان میں طبی ٹیکنالوجی اور تربیت منتقل کرنے کا عزم
ڈاکٹر عامر رضا کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ طبی اور پیشہ ورانہ تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔ ان کے مطابق روبوٹک سرجری، خواتین کی جدید صحت اور طبی تربیت کے شعبوں میں برطانیہ میں حاصل ہونے والے تجربات اور جدید ٹیکنالوجی سے پاکستان کے طبی شعبے کو بھی فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جدید طبی سہولیات کے ساتھ ساتھ ماہرین کی تربیت، تجربات کا تبادلہ اور نئی جراحی تکنیکوں سے آگاہی بھی طبی نظام کی بہتری کے لیے اہم ہے۔
ڈاکٹر عامر رضا کی پیشہ ورانہ سرگرمیاں اس حوالے سے بھی اہمیت رکھتی ہیں کہ پاکستانی نژاد طبی ماہرین بیرون ملک جدید طبی شعبوں میں حاصل ہونے والے تجربات کو پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے اور طبی تعلیم و تربیت کے شعبے میں تعاون بڑھانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سنگل پورٹ روبوٹک گائناکولوجیکل سرجری میں ہونے والی یہ پیش رفت جدید کم سے کم چیرا لگانے والی جراحی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی جانب اشارہ کرتی ہے، جبکہ پیچیدہ اینڈومیٹریوسس جیسے کیسز میں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جامع اور مریض مرکوز علاج کی ضرورت بھی بدستور اہم ہے۔



