پاکستاناہم خبریں

پاکستان نے آئی پی یو ایگزیکٹو کمیٹی میں بنگلہ دیشی امیدوار کی حمایت کر دی، بشارت ادیب چوہدری کامیاب

ان کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کو مشترکہ چیلنجز کے حل کے لیے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

اروشا- تنزانیہ

پاکستان نے انٹر پارلیمنٹری یونین (IPU) کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکنیت کے لیے بنگلہ دیش کی امیدوار محترمہ بشارت ادیب چوہدری کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے پارلیمانی سفارت کاری اور ایشیا پیسیفک خطے میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت تنزانیہ کے شہر اروشا میں جاری 153ویں انٹر پارلیمنٹری یونین اسمبلی کے موقع پر ایشیا پیسیفک گروپ کے اجلاس کے دوران سامنے آئی، جہاں پاکستان نے بنگلہ دیشی امیدوار کی حمایت میں اپنا واضح مؤقف پیش کیا۔

پاکستانی پارلیمانی وفد کی قیادت یوسف رضا گیلانی نے کی

ایشیا پیسیفک گروپ کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے پارلیمانی وفد کی قیادت سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے کی۔

پاکستانی وفد نے آئی پی یو کی ایگزیکٹو کمیٹی میں بنگلہ دیش کی امیدوار بشارت ادیب چوہدری کی امیدواری کی مکمل حمایت کی۔ اس موقع پر پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ ایشیا پیسیفک خطے کی پارلیمانوں کے درمیان باہمی تعاون اور رابطوں کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پاکستانی وفد کی جانب سے حمایت کو دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی روابط کو مزید فروغ دینے کی کوششوں کے تسلسل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

بشارت ادیب چوہدری آئی پی یو ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن منتخب

پاکستان کی حمایت سمیت ایشیا پیسیفک گروپ کے اجلاس میں مختلف پارلیمانی وفود کے درمیان ہونے والی مشاورت کے بعد بنگلہ دیش کی امیدوار بشارت ادیب چوہدری نے اکثریت سے ووٹ حاصل کیے اور انٹر پارلیمنٹری یونین کی ایگزیکٹو کمیٹی کے لیے منتخب ہو گئیں۔

ان کی کامیابی پر پاکستانی وفد نے بنگلہ دیشی وفد کو مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی موجودگی آئی پی یو میں ایشیا پیسیفک خطے کی مؤثر نمائندگی اور علاقائی پارلیمانی تعاون کو مزید مستحکم کرنے میں مدد دے گی۔

یوسف رضا گیلانی کی بنگلہ دیشی وفد کو مبارکباد

سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے بشارت ادیب چوہدری اور بنگلہ دیشی پارلیمانی وفد کو کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی روابط کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔

ان کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پارلیمانی سطح پر رابطوں میں اضافے سے دونوں ممالک کے نمائندوں کو مشترکہ مسائل پر تبادلہ خیال، تجربات کے تبادلے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ایشیا پیسیفک خطے کی اجتماعی آواز کو مؤثر بنانے پر زور

سینیٹ چیئرمین نے اس موقع پر ایشیا پیسیفک خطے کی پارلیمانوں کے درمیان تعاون کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے کے پارلیمانی اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے پر یقین رکھتا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی پارلیمانی فورمز پر ایشیا پیسیفک خطے کے ممالک کی اجتماعی آواز کو مؤثر انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کو مشترکہ چیلنجز کے حل کے لیے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے پارلیمانی سفارت کاری کو علاقائی اور عالمی سطح پر باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانیں صرف قانون سازی کے ادارے نہیں بلکہ مختلف ممالک کے درمیان رابطوں اور مکالمے کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ان کے مطابق مشترکہ علاقائی اور عالمی چیلنجز پر بات چیت کے لیے پارلیمانی سفارت کاری ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، جہاں مختلف ممالک کے منتخب نمائندے براہ راست ایک دوسرے کے تجربات اور نقطہ نظر سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے پارلیمانی روابط

پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیشی امیدوار کی حمایت دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی سطح پر رابطوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

پاکستانی قیادت کی جانب سے بارہا اس بات پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پارلیمانی رابطوں کو مؤثر بنایا جائے۔ آئی پی یو جیسے بین الاقوامی فورمز دونوں ممالک کے ارکان پارلیمنٹ کو براہ راست رابطے اور مشترکہ امور پر تبادلہ خیال کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

بشارت ادیب چوہدری کی ایگزیکٹو کمیٹی میں کامیابی سے بنگلہ دیش کو آئی پی یو کے فیصلہ سازی کے ایک اہم فورم میں نمائندگی حاصل ہوگی، جبکہ پاکستان نے اس انتخاب میں حمایت کے ذریعے اپنے علاقائی تعاون کے مؤقف کا اظہار کیا ہے۔

آئی پی یو میں ایشیا پیسیفک گروپ کا کردار

انٹر پارلیمنٹری یونین دنیا بھر کی پارلیمانوں کے درمیان تعاون اور مکالمے کے فروغ کا ایک اہم عالمی فورم ہے۔ اس کے تحت مختلف جغرافیائی گروپس اپنے علاقائی مفادات اور ترجیحات کو اجاگر کرتے ہیں۔

ایشیا پیسیفک خطہ آبادی، معیشت اور جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے دنیا کا ایک اہم خطہ ہے۔ اس خطے کو موسمیاتی تبدیلی، معاشی ترقی، امن و سلامتی، انسانی ترقی، غذائی تحفظ اور دیگر مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان مسائل پر مؤثر پیش رفت کے لیے خطے کے ممالک کے درمیان پارلیمانی اور سفارتی روابط کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

علاقائی تعاون کے فروغ کا عزم

اروشا میں ہونے والے اجلاس کے دوران پاکستان نے ایشیا پیسیفک خطے کے اندر تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستانی وفد کی جانب سے بنگلہ دیشی امیدوار کی حمایت اس وسیع تر مؤقف کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان علاقائی پارلیمانوں کے درمیان روابط، باہمی مشاورت اور مشترکہ اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

سینیٹ چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف ممالک کی پارلیمانیں اپنے تجربات اور بہترین طریقہ کار ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرکے عوام کو درپیش مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

عالمی چیلنجز کے حل میں پارلیمانوں کا کردار

سید یوسف رضا گیلانی نے مشترکہ علاقائی اور عالمی چیلنجز کے تناظر میں پارلیمانی سفارت کاری کی اہمیت کو نمایاں کیا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو اس وقت متعدد پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے، جن میں تنازعات، موسمیاتی تبدیلی، معاشی عدم مساوات، ترقیاتی مسائل اور دیگر چیلنجز شامل ہیں۔ ایسے حالات میں پارلیمانوں کے درمیان براہ راست رابطہ اور مکالمہ باہمی افہام و تفہیم کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پارلیمانی سطح پر ہونے والی بات چیت سیاسی اختلافات کے باوجود ممالک کے درمیان رابطے کے دروازے کھلے رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

بنگلہ دیشی وفد کا خیرمقدم

پاکستانی وفد نے بشارت ادیب چوہدری کی کامیابی پر بنگلہ دیشی وفد کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ آئی پی یو ایگزیکٹو کمیٹی میں ایشیا پیسیفک خطے کے مفادات اور ترجیحات کو مؤثر انداز میں اجاگر کریں گی۔

بنگلہ دیشی امیدوار کی کامیابی کو خطے کی پارلیمانی نمائندگی کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا، جبکہ پاکستان نے مستقبل میں بھی ایشیا پیسیفک ممالک کے درمیان تعاون اور مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

153ویں آئی پی یو اسمبلی کی اہمیت

تنزانیہ کے شہر اروشا میں منعقد ہونے والی 153ویں آئی پی یو اسمبلی دنیا بھر کے پارلیمانی نمائندوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے، جہاں عالمی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی پارلیمانی وفد کی شرکت کے دوران نہ صرف آئی پی یو کے ادارہ جاتی معاملات بلکہ علاقائی تعاون، پارلیمانی سفارت کاری اور ایشیا پیسیفک خطے کے مفادات سے متعلق امور بھی زیر بحث آ رہے ہیں۔

ایسے عالمی پارلیمانی پلیٹ فارمز پاکستان کو اپنے قومی اور علاقائی نقطہ نظر کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے ساتھ پارلیمانی روابط مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان کا واضح پیغام

اروشا اجلاس میں پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیشی امیدوار کی حمایت نے یہ واضح کیا کہ اسلام آباد ایشیا پیسیفک خطے میں پارلیمانی تعاون اور باہمی رابطوں کو اہمیت دیتا ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی کے بیان کے مطابق پاکستان بین الاقوامی پارلیمانی فورمز پر خطے کی اجتماعی آواز کو مؤثر بنانے اور مشترکہ چیلنجز پر مکالمے کو فروغ دینے کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔

بشارت ادیب چوہدری کی آئی پی یو ایگزیکٹو کمیٹی میں کامیابی کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پارلیمانی رابطوں کو مزید وسعت دینے اور دونوں ممالک کے منتخب نمائندوں کے درمیان باہمی مشاورت بڑھانے کے امکانات بھی روشن ہوئے ہیں۔

اہم نکات

  • پاکستان نے آئی پی یو ایگزیکٹو کمیٹی کے لیے بنگلہ دیشی امیدوار بشارت ادیب چوہدری کی مکمل حمایت کی۔
  • پاکستانی پارلیمانی وفد کی قیادت سینیٹ چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے کی۔
  • بشارت ادیب چوہدری نے اکثریت سے ووٹ حاصل کرکے آئی پی یو ایگزیکٹو کمیٹی کی رکنیت حاصل کرلی۔
  • یوسف رضا گیلانی نے کامیاب امیدوار اور بنگلہ دیشی وفد کو مبارکباد دی۔
  • پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ پارلیمانی روابط مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
  • ایشیا پیسیفک خطے کی پارلیمانوں کے درمیان تعاون اور مشترکہ آواز کو مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔
  • پارلیمانی سفارت کاری کو علاقائی و عالمی چیلنجز پر مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا۔
مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button