
سید عاطف ندیم-ادارت
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگنے کے بعد خیبر پختونخوا عوام کی جانب سے جو رسپانس سامنے آیا ہے وہ سب کے سامنے ہے کیونکہ وہ امن چاہتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ایپکس کمیٹی کا پہلا اجلاس پیر کو پشاور کے گورنر ہاؤس میں منعقد ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی جبکہ اس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے علاوہ صوبے کے دیگر حکام نے شرکت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ جس حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کو لیڈ کرنا چاہیے تھا وہ ایسا نہیں کر رہی تھی اور اس کے ارکان قربانیاں دینے والوں کے جنازوں تک میں شریک نہیں ہوتے تھے۔
ان کے مطابق ’اب جب حکومت انہی لوگوں کو لیڈ کرے گی تو یہ آپ کو رزلٹ دیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں کہ ایک دن میں سب بدل جائے، اپس اینڈ ڈاؤنز آئیں گے، ہم نے مل کر مشکلات کا مقابلہ کرنا اور ان کو ہرانا ہے۔
اس موقع پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ’امن کی بحالی کے لیے سب ایک پیج پر ہیں اور صوبے سے دہشت گردی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ڈیمانڈز پوری کی جائیں گے، ہم ترقی پر تو قربانی دے سکتے ہیں مگر سکیورٹی پر نہیں۔‘

سکیورٹی سخت، راستے اور تعلیمی ادارے
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیے جانے کے بعد آج پورے صوبے میں سکیورٹی کافی سخت ہے جبکہ تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔
صدر مملکت نے 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی تھی اور سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج کی تعیناتی کا باضابطہ حکم نامہ جاری کیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے اتوار کو رات گئے ایکس پر شیئر کیے گئے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ ’12 اکتوبر بروز پیر تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔‘
اسی طرح ضلعی انتظامیہ سوات کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ضلع میں پیر کو سکولوں کے علاوہ کالجز، ہائیر سیکنڈری سکولز اور یونیورسٹیز بنر رہیں گی۔
احکامات کے تحت مذکورہ تاریخ کو متاثرہ تعلیمی اداروں میں شیڈول تمام امتحانات اور پرچے بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

خیال رہے ملک کے شمال مغربی حصے میں واقع صوبہ خیبر پختونخوا کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے اور سنیچر تک وہاں اسی جماعت کی حکومت بھی تھی۔
پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان قریباً تین سال سے جیل میں ہیں جن کو مختلف مقدمات میں عدالتوں کی جانب سے سزائیں سنائی گئی ہیں تاہم پی ٹی آئی کی لیڈرشپ ان کو ’سیاسی‘ قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کے لیے مہم چلاتی رہی ہے۔
علی امین گنڈاپور کی وزارت اعلیٰ کے دوران بھی پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی طرف تین مارچ کیے جبکہ ان کے بعد آنے والے سہیل آفریدی نے بھی 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا جسے بعد میں ایک ہفتے کے لیے موخر کیا گیا اور چار اکتوبر سے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا گیا۔
دوسری جانب وفاق اس سرگرمی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے صوبے میں امن و امان کی صورت حال پر بھی تشویش کا اظہار کرتی رہی ہے اور امن و امان کی یہی صورت حال ہی کل لگائی گئی ایمرجنسی اور گورنر راج کی بنیادی وجہ بھی قرار دیا گیا ہے۔
سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج کی تعیناتی
اتوار کو وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج کی تعیناتی کا باضابطہ حکم نامہ بھی جاری کیا تھا۔
آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت خیبر پختونخوا میں فوج کے دستوں اور وسائل کی تعیناتی کی منظوری دی گئی اور فوج کی تعیناتی کا مقصد شہریوں کی جان و مال اور سرکاری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
حکم نامے کے مطابق خیبر پختونخوا میں امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کے لیے فوج سول انتظامیہ کی معاونت کرے گی۔ گورنر خیبر پختونخوا، جی ایچ کیو کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ سے مشاورت کے بعد تعینات کیے جانے والے فوجی دستوں اور وسائل کی تعداد کا تعین کریں گے۔
خیبر پختونخوا میں 11 رکنی مشاورتی کونسل
اتوار کو ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیے جانے کے بعد وفاقی حکومت نے ایک 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جن میں مشیر برائے داخلہ و وفاقی امور کفایت اللہ خان، مشیر برائے قانونی و پارلیمانی امور امیر جاوید اور ثمر ہارون بلور مشیر برائے اطلاعات و نشریات سمیت دیگر عہدے اور نام شامل ہیں۔
تحریک انصاف کا ردعمل
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ بیرسٹر گوہر نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی مذمت کی ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ’ہم صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اس اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔‘
’یہ ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین سیاسی غلطی اور غیر جمہوری اقدام ہے- عوام اپنے حقوق کے خلاف ایسے اقدامات کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’خیبرپختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ اس مینڈیٹ کو نظر انداز کرکے، صوبائی خودمختاری کو کمزور کر کے اور وفاق و صوبے کے درمیان تصادم پیدا کرکے نہ امن قائم کیا جا سکتا ہے اور نہ استحکام لایا جاسکتا ہے۔‘



