کاروبارتازہ ترین

گوادر پورٹ کے ذریعے ایران کے ساتھ تجارت کے فروغ پر زور، گبد۔ریمدان بارڈر کوریڈور کو فعال بنانے کے لیے اقدامات پر غور

چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ سے گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد کی ملاقات، ٹرانزٹ ٹریڈ، کسٹمز، ٹرانسپورٹیشن، سیکیورٹی اور ٹی آئی آر نظام سے متعلق امور زیرِ بحث

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
احسان احمد-ادارت پاکستان

چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ سے گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک وفد نے ملاقات کی، جس میں گوادر پورٹ کے ذریعے ایران کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو وسعت دینے، گبد۔ریمدان بارڈر کوریڈور کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے نظام کو مزید فعال بنانے سمیت اہم تجارتی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں سرحدی تجارت کو درپیش عملی مشکلات، کسٹمز کلیئرنس، ٹرانسپورٹیشن، سیکیورٹی انتظامات، کنٹینرز کی نقل و حرکت اور بین الاقوامی ٹی آئی آر (TIR) نظام کے تحت تجارتی سرگرمیوں کو آسان بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل گوادر پورٹ داؤد کلمتی بھی موجود تھے۔ گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد میں ایکسپورٹر تفتان امان اللہ جمالدینی، چیمبر کے سابق صدور جہیند ہوت اور شمس الحق کلمتی، جبکہ سابق جنرل سیکریٹری خالد سیف شامل تھے۔ ملاقات کا بنیادی مقصد گوادر پورٹ کی تجارتی صلاحیت سے بھرپور استفادہ کرنے، ایران کے ساتھ زمینی تجارت کے راستوں کو مؤثر بنانے اور تاجروں کو درپیش رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے حل کے لیے متعلقہ حکام تک تجاویز پہنچانا تھا۔

گوادر پورٹ اور ایران کے درمیان تجارتی روابط بڑھانے پر زور

ملاقات کے دوران اس امر پر زور دیا گیا کہ گوادر پورٹ کی جغرافیائی اہمیت اور ایران کے سرحدی علاقوں تک مختصر ترین زمینی راستے سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ گبد۔ریمدان بارڈر کوریڈور کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے سے نہ صرف دونوں جانب تجارتی روابط کو فروغ دینے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں بلکہ سامان کی نقل و حمل، کاروباری سرگرمیوں اور متعلقہ شعبوں میں تعاون کو بھی وسعت دی جا سکتی ہے۔

شرکاء نے اس بات پر تبادلۂ خیال کیا کہ گوادر پورٹ کو ایران کے ساتھ زمینی تجارت کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے سلسلے میں عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے بندرگاہ، سرحدی گزرگاہ، کسٹمز حکام، ٹرانسپورٹ کمپنیوں، کلیئرنگ ایجنٹس اور تاجر برادری کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانا اہم قرار دیا گیا۔

اجلاس میں اس پہلو پر بھی توجہ دی گئی کہ تجارتی راستوں کی دستیابی کے ساتھ ساتھ ان پر سامان کی بروقت ترسیل، کلیئرنس کے مراحل میں سہولت، ضروری دستاویزات کی تکمیل اور ٹرانسپورٹ کے انتظامات کو مؤثر بنانا بھی ضروری ہے۔ ان معاملات میں بہتری سے تاجروں کو درپیش مشکلات کم کرنے اور سرحد پار تجارت کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

گبد۔ریمدان بارڈر پر بنیادی سہولیات کی فراہمی اہم قرار

اجلاس کے دوران گبد۔ریمدان بارڈر پر پارکنگ، گاڑیوں کا وزن کرنے کے لیے کانٹوں اور دیگر ضروری سرحدی سہولیات کی عدم دستیابی یا ان سے متعلق مسائل کو بھی زیرِ غور لایا گیا۔ شرکاء نے اس امر کی نشاندہی کی کہ سرحدی گزرگاہ پر تجارتی گاڑیوں کی آمدورفت کو منظم بنانے کے لیے مناسب بنیادی ڈھانچے اور سہولتوں کی فراہمی ناگزیر ہے۔

سرحدی علاقوں میں پارکنگ کی مناسب جگہ، وزن کرنے کے جدید انتظامات اور گاڑیوں کی نقل و حرکت کے لیے منظم طریقۂ کار نہ ہونے یا ان میں مسائل کی صورت میں تجارتی سرگرمیوں کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ اس لیے ان معاملات کو متعلقہ حکام کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھانا ضروری ہے، تاکہ سامان کی نقل و حمل اور گاڑیوں کی آمدورفت کو زیادہ منظم بنایا جا سکے۔

ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ سرحدی تجارت سے متعلق انتظامی مسائل کو محض نشاندہی تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے حل کے لیے قابلِ عمل تجاویز تیار کی جائیں۔ اس سلسلے میں متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ کاری، سہولتوں کی دستیابی اور موجودہ انتظامات میں بہتری کے امکانات کا جائزہ لینا اہم ہوگا۔

کسٹمز، ٹرانسپورٹیشن اور کنٹینرز کی نقل و حرکت پر تبادلۂ خیال

اجلاس میں کسٹمز کلیئرنس اور ٹرانسپورٹیشن سے متعلق امور کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ شرکاء نے اس بات پر غور کیا کہ گوادر پورٹ سے گبد۔ریمدان بارڈر کے ذریعے ایران کی جانب سامان کی ترسیل کے عمل کو کس طرح مزید سہل بنایا جا سکتا ہے اور کن انتظامی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ بندرگاہ سے سرحدی علاقے تک سامان کی منتقلی، کنٹینرز کی آمدورفت، کسٹمز کارروائی اور سیکیورٹی انتظامات کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم ہو۔ اس حوالے سے متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششیں تجارتی عمل کو منظم بنانے اور کاروباری برادری کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

شرکاء نے اس بات پر بھی توجہ دی کہ تجارتی گاڑیوں اور کنٹینرز کی نقل و حرکت کے دوران پیدا ہونے والی مشکلات کی نشاندہی کرکے متعلقہ حکام کے ساتھ ان کے حل کے لیے بات چیت کی جائے۔ اس سے تجارتی سامان کی ترسیل میں پیش آنے والی ممکنہ تاخیر اور غیر ضروری انتظامی پیچیدگیوں کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ٹی آئی آر نظام کے مؤثر استعمال پر توجہ

ملاقات میں بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ کے نظام، یعنی ٹی آئی آر (TIR)، سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔ ٹی آئی آر ایک بین الاقوامی نظام ہے جس کا مقصد مقررہ شرائط کے تحت سرحد پار سڑک کے ذریعے سامان کی نقل و حمل کو سہل بنانا اور مختلف ممالک میں ٹرانزٹ کے عمل کو منظم کرنا ہے۔

اجلاس میں اس نظام کے تحت گوادر پورٹ اور ایران کے درمیان تجارتی نقل و حمل کے امکانات اور اس سلسلے میں درپیش عملی مسائل کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس نظام سے مؤثر استفادے کے لیے متعلقہ قواعد و ضوابط، کسٹمز کارروائی، دستاویزی تقاضوں اور سرحدی انتظامات میں ہم آہنگی ضروری ہے۔

تاجر برادری کے نقطۂ نظر سے ٹی آئی آر نظام کے مؤثر استعمال، کسٹمز حکام کے ساتھ رابطہ کاری اور ٹرانسپورٹ کے انتظامات میں بہتری کے ذریعے بین الاقوامی تجارتی نقل و حمل کے عمل کو زیادہ منظم بنانے کے امکانات موجود ہیں۔ تاہم، اس حوالے سے پیش رفت کے لیے متعلقہ حکام کی مشاورت اور طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق اقدامات کی ضرورت ہوگی۔

متعلقہ حکام کے اجلاس میں تجارتی مسائل اٹھانے کا فیصلہ

اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ گبد۔ریمدان بارڈر پر سہولیات، کسٹمز، ٹرانسپورٹیشن، سیکیورٹی، کنٹینرز کی نقل و حرکت اور ٹی آئی آر نظام سے متعلق مسائل کو دور کرنے کے لیے کسٹمز سمیت دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں تفصیلی طور پر اجاگر کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں تاجر برادری کو درپیش مشکلات اور سرحدی تجارت کے فروغ کے لیے درکار اقدامات پر متعلقہ اداروں کی توجہ مبذول کرانے کا فیصلہ کیا گیا، تاکہ مسائل کے حل کے لیے مؤثر اور قابلِ عمل تجاویز سامنے لائی جا سکیں۔

توقع ہے کہ متعلقہ حکام، تاجر برادری اور کلیئرنگ ایجنٹس کے درمیان مشاورت کے ذریعے سرحدی تجارت کے انتظامات کو بہتر بنانے، بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل کی نشاندہی اور تجارتی نقل و حمل کے عمل کو سہل بنانے کے لیے پیش رفت کی جا سکے گی۔

کراچی میں 8 اکتوبر کے اجلاس کا تسلسل

واضح رہے کہ گوادر میں مجوزہ اجلاس 8 اکتوبر 2026ء کو کراچی میں ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ اینڈ ٹریڈ کسٹمز کی زیرِ صدارت منعقد ہونے والے ٹرانزٹ ٹریڈ اجلاس کا تسلسل ہوگا۔ کراچی میں ہونے والے اجلاس میں گوادر پورٹ کے ذریعے ایران کے ساتھ زمینی تجارت، ٹی آئی آر نظام اور تجارتی سرگرمیوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔

اس اجلاس میں عملی پیش رفت یقینی بنانے اور تاجروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے دوسرا اجلاس گوادر میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاکہ مقامی سطح پر تجارتی معاملات کا تفصیلی جائزہ لے کر متعلقہ حکام، تاجر برادری اور کلیئرنگ ایجنٹس کی مشاورت سے مسائل کے حل کی جانب پیش رفت کی جا سکے۔

گوادر میں ہونے والی آئندہ مشاورت کو اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد زمینی تجارت کے لیے موجود امکانات سے فائدہ اٹھانا اور ان انتظامی و بنیادی مسائل کی نشاندہی کرنا ہے جو تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

گوادر کی تجارتی اہمیت اور مستقبل کے امکانات

گوادر پورٹ پاکستان کے ساحلی اور تجارتی ڈھانچے میں اہم مقام رکھتا ہے۔ ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کے لیے گبد۔ریمدان کوریڈور کی مؤثر فعالیت، کسٹمز کے نظام میں سہولت، مناسب ٹرانسپورٹیشن اور ضروری سرحدی بنیادی ڈھانچے کی فراہمی اس خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے لیے اہم عوامل ہیں۔

تاجر برادری کے مطابق، بندرگاہ اور سرحدی گزرگاہ کے درمیان بہتر رابطہ کاری سے سامان کی ترسیل کے عمل کو منظم بنانے اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل مشاورت، انتظامی رکاوٹوں کا خاتمہ اور بنیادی سہولیات کی بہتری ضروری ہوگی۔

گوادر پورٹ کے ذریعے ایران کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لیے جاری مشاورت اس بات کی عکاس ہے کہ تاجر برادری اور متعلقہ حکام سرحدی تجارت کے عملی مسائل کو حل کرنے اور دستیاب تجارتی راستوں کو زیادہ مؤثر بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ آئندہ اجلاس میں ان امور پر ہونے والی پیش رفت اہم ہوگی، کیونکہ اس سے گبد۔ریمدان بارڈر کوریڈور کے استعمال، ٹرانزٹ ٹریڈ اور گوادر کی تجارتی صلاحیت سے استفادے کے لیے آئندہ اقدامات کی سمت متعین کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button