
چی یوکو سلاونچ
ان فوجی تربیتی مشقوں کے لیے ایک منظر نامہ تیار کیا گیا ہے جو نیٹو کے مشرقی محاذ پر بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے گرد گھومتا ہے۔ مشق کے دوران نیٹو افواج، جن کی نمائندگی جرمن فوجی کرتے ہیں، جرمنی کی سب سے بڑی بندرگاہ ہیمبرگ پہنچتی ہیں اور وہاں سے شہری راستے کے ذریعے مشرق کی جانب پیش قدمی کرتی ہیں۔
منظرنامے میں تخریب کاری کی کارروائیاں اور احتجاجی مظاہرے بھی شامل ہیں، جو ان کی پیش رفت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ستمبر 2026 کے اواخر میں منعقد ہونے والی اس مشق میں تقریباً 1,700 افراد نے حصہ لیا، جن میں 500 فوجی بھی شامل تھے، اور یہ اپنی نوعیت کی اب تک کی سب سے بڑی مشق تھی۔

جنگ یا کسی بڑے بحران کی صورت میں نہ صرف ہیمبرگ شہر بلکہ پورا جرمنی نیٹو کے لاکھوں فوجیوں، ہتھیاروں اور بھاری فوجی سازوسامان کی نقل و حمل کے لیے ایک کلیدی لاجسٹک مرکز کی حیثیت اختیار کر لے گا۔
جرمن کونسل آن فارن ریلیشنز (DGAP) کی سکیورٹی ماہر آئلن میٹلے نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”یہ ایک انتہائی تفصیلی اور سخت رازدارانہ منصوبہ ہے، جس میں واضح طور پر درج ہے کہ نیٹو کے اتحادی جرمنی میں کہاں پہنچیں گے، کن بندرگاہوں کا استعمال کریں گے اور ملک کے اندر نقل و حرکت کے لیے کون سے راستے اختیار کیے جائیں گے۔‘‘
جرمنی نیٹو کا اہم لاجسٹک مرکز
جرمنی کو نیٹو افواج کی نقل و حرکت کے لیے ایک اہم راہداری ملک سمجھا جاتا ہے۔ بالٹک ریاستوں کو وہ خطہ تصور کیا جاتا ہے جہاں نیٹو کے نزدیک روسی حملے کا خدشہ سب سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں 32 رکنی نیٹو اتحاد اپنے رکن ممالک کی بڑی فوجی نفری اس علاقے میں تعینات کرے گا۔
اس مقصد کے لیے جنوبی اور مغربی یورپ سے آنے والے فوجیوں کو بالٹک خطے تک پہنچنے کے لیے جرمنی سے گزرنا پڑے گا۔ بنڈس ویئر یعنی جرمن فوج کے ایک افسر مارسل بوہنرٹ، جو آپریشنز پلان جرمنی کے ابتدائی مسودے کی تیاری میں شامل تھے، کے مطابق منصوبے کے تحت چھ ماہ کے اندر تقریباً آٹھ لاکھ فوجیوں اور دو لاکھ فوجی و امدادی گاڑیوں کی جرمنی کے راستے نقل و حرکت ممکن بنانا ہوگی۔ ان کے بقول یہ وہ اعداد و شمار ہیں جن کی بنیاد پر منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جرمنی اپنی دفاعی اور لاجسٹک تیاریوں کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہا ہے تاکہ کسی ممکنہ بحران یا جنگی صورتِ حال میں نیٹو افواج کی تیز اور مؤثر نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔
روس کی طرف سے خطرات بڑھ رہے ہیں
جرمنی کے وزیرِ دفاع بورس پسٹوریئس نے کہا ہے کہ روس سے لاحق خطرہ اب زیادہ واضح، سنگین اور فوری نوعیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگست کے آغاز میں لیپزگ/ہالے ہوائی اڈے پر دھماکا خیز مواد سے لدا ایک ڈرون حملہ محض خوش قسمتی سے ناکام ہوا، جس کا ذمہ دار جرمن حکومت روس کو ٹھہراتی ہے۔

پسٹوریئس نے 23 ستمبر کو جرمن پارلیمان (بنڈسٹاگ) میں کہا، ”خطرہ اب زیادہ نمایاں ہو چکا ہے۔ یہ سنجیدہ، فوری اور بڑھتا ہوا ہے۔ روسی صدر یہی چاہتے ہیں۔ ماسکو ہمارے ردعمل کو جانچ رہا ہے۔‘‘
جرمن فوج اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ”آپریشنز پلان جرمنی‘‘ پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اسے بہتر بنا رہی ہے۔ ”ریڈ اسٹورم چارلی‘‘ جیسی فوجی مشقوں سے حاصل ہونے والے تجربات بھی اس منصوبے میں شامل کیے جا رہے ہیں۔
سڑکوں اور پلوں کی اپ گریڈنگ ضروری
جرمنی اپنی فوجی لاجسٹک ذمہ داریوں کے لیے کس حد تک تیار ہے؟ سکیورٹی ماہر آئلن میٹلے کے مطابق اس حوالے سے سب سے بڑی کمزوری ملک کا پرانا اور بعض جگہوں پر بوسیدہ ہوتا ہوا بنیادی ڈھانچہ ہے۔
ان کے بقول، جرمنی کو فوجیوں کی نقل و حرکت کے لیے درکار پلوں، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ راستوں کی مرمت اور جدید کاری پر ”زیادہ تیزی اور جامع انداز‘‘ میں کام کرنا ہوگا۔
میٹلے نے نشاندہی کی کہ اس بنیادی ڈھانچے کا ایک حصہ سرد جنگ کے دور کا ہے اور اسے بھاری وزن یا جدید فوجی سازوسامان کی آمد و رفت کو مدنظر رکھ کر تعمیر نہیں کیا گیا تھا۔
اس منصوبے کو کامیاب بنانے میں ایک بڑا چیلنج رازداری اور عوامی شمولیت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔ ممکنہ تخریب کاری سے بچنے کے لیے نیٹو افواج کی نقل و حرکت سے متعلق حساس معلومات، جیسے مخصوص راستے، خفیہ رکھنا ضروری ہیں۔ تاہم اس منصوبے کی کامیابی کے لیے جرمن فوج، مقامی و علاقائی حکام، پولیس، امدادی اداروں اور عوام یا شہریوں کے درمیان قریبی تعاون بھی ناگزیر ہے۔ جرمن فوجی امور کے ماہرین کے مطابق، منصوبے کے بعض حصوں کو عوامی طور پر دستیاب رکھنا ضروری ہے تاکہ معاشرے، عوام ، وزارتوں اور حکومتوں سب کی حمایت حاصل کی جا سکے۔

مشرقی جرمن ریاست سیکسنی انہالٹ کے حالیہ انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کی کامیابی کے بعد ایک ہزار صفحات پر مشتمل ”آپریشنز پلان جرمنی‘‘ کی رازداری پر بحث دوبارہ شروع ہوگئی۔ بعض سکیورٹی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ روس نواز سمجھی جانے والی جماعت حساس معلومات ماسکو تک پہنچا سکتی ہے، تاہم جرمن وزارتِ دفاع نے واضح کیا کہ کسی صوبے کو مکمل دستاویز تک رسائی حاصل نہیں، بلکہ حساس معلومات ضرورت کے مطابق محدود حصوں میں ہی فراہم کی جاتی ہیں۔
مبصرین کے مطابق ہائبرڈ خطرات میں اضافے نے فوجی منصوبوں کی رازداری کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ ہیمبرگ میں ہونے والی ”ریڈ اسٹورم چارلی‘‘ مشق کے دوران بھی تخریب کاری یا ممکنہ رکاوٹوں کے خدشے کے باعث منظور شدہ صحافیوں کو راستوں اور مقامات کی معلومات آخری وقت تک فراہم نہیں کی گئیں۔



