
کھیلوں کے فروغ کے لیے جامع حکمت عملی ناگزیر، نوجوانوں کو یکساں مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے: وزیراعظم شہباز شریف
ایشین گیمز میں دو چاندی اور آٹھ کانسی کے تمغے جیتنے والے پاکستانی کھلاڑیوں کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں تقریب؛ کھلاڑیوں میں انعامی چیکس تقسیم، کھیلوں کے مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے جلد قومی سپورٹس کانفرنس بلانے کا اعلان
رانا ذاہد اشفاق-پاکستان
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں کھیلوں کے فروغ، قومی کھلاڑیوں کی سرپرستی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کو کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت ملک کے ہر علاقے میں موجود کھیلوں کے ٹیلنٹ کو سامنے لانے، نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں مناسب سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں، تاہم ان صلاحیتوں کو نکھارنے اور عالمی سطح پر کامیابیوں میں تبدیل کرنے کے لیے تربیت یافتہ کوچز، جدید تربیتی سہولیات، مناسب وسائل اور مسلسل سرپرستی ضروری ہے۔ کھیلوں کا فروغ کسی ایک ادارے یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس مقصد کے حصول کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں، کھیلوں کی تنظیموں، سابق قومی کھلاڑیوں، نجی شعبے اور متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ کھیلوں کے شعبے میں مزید اقدامات، کھلاڑیوں کو درپیش مسائل اور پاکستان میں کھیلوں کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے جلد ایک سپورٹس کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں وفاقی و صوبائی حکام، ماضی کے نامور کھلاڑیوں اور کھیلوں کی دنیا کے نمایاں ستاروں کو مدعو کیا جائے گا۔ کانفرنس کا مقصد کھیلوں کے فروغ کے لیے قابلِ عمل تجاویز مرتب کرنا اور پاکستان کو عالمی مقابلوں میں دوبارہ نمایاں مقام دلانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ہوگا۔
وزیراعظم ان خیالات کا اظہار ایشین گیمز میں تمغے جیتنے والے پاکستانی کھلاڑیوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کر رہے تھے۔ تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان، قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اور اولمپئن حسن سردار، سابق عالمی اسکواش چیمپئن جہانگیر خان اور دیگر متعلقہ شخصیات بھی موجود تھیں۔ اس موقع پر وزیراعظم نے میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں کو مبارکباد دی اور ان میں انعامی چیکس تقسیم کیے۔
ایشین گیمز میں پاکستانی کھلاڑیوں کی کامیابیوں کو سراہا
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایشین گیمز میں دو چاندی اور آٹھ کانسی کے تمغے جیتنے والے پاکستانی کھلاڑیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کھلاڑیوں نے شبانہ روز محنت، عزم، لگن اور اپنے والدین کی دعاؤں کے نتیجے میں ملک کا نام روشن کیا اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا پرچم بلند کیا۔
انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کی کامیابیاں قابلِ ستائش ہیں، تاہم پاکستان میں کھیلوں کے شعبے میں ترقی اور بہتری کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ ان کے مطابق ملک میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے اور انہیں عالمی معیار کے مقابلوں کے لیے تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں پاکستان مزید تمغے حاصل کر سکے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کھلاڑیوں کی محنت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنے پر توجہ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں میں کامیابی صرف انفرادی صلاحیت کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے مؤثر تربیت، مستقل محنت، مناسب سہولیات، مضبوط ادارہ جاتی نظام اور مالی معاونت بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ملک میں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان صلاحیتوں کو مسلسل سرپرستی، بہتر تربیتی نظام اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے ذریعے مزید نکھارا جائے۔
ہاکی، کرکٹ اور اسکواش میں پاکستان کا شاندار ماضی
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ماضی میں ملک کو مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں عطا کیں اور کھیلوں کے میدان میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب عالمی ہاکی میں پاکستان کا نمایاں مقام تھا اور قومی کھلاڑیوں نے اپنی شاندار کارکردگی سے ملک کو بین الاقوامی سطح پر شناخت دلائی۔ حسن سردار، شہناز شیخ، شہباز سینئر، شہباز جونیئر، اختر رسول اور دیگر نامور کھلاڑیوں نے قومی ہاکی کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ کرکٹ کے میدان میں بھی پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور قومی ٹیم نے کئی مواقع پر دنیا کی بہترین ٹیموں کے خلاف اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح اسکواش میں جہانگیر خان اور جان شیر خان کی کامیابیاں پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ کا سنہرا باب ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے ان عظیم کھلاڑیوں کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی نوجوانوں میں عالمی سطح پر بہترین کارکردگی دکھانے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان کامیابیوں کو محض ماضی کی یادوں تک محدود رکھنے کے بجائے مستقبل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنانا چاہیے۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو ہاکی، اسکواش اور کرکٹ سمیت دیگر کھیلوں میں بھی اپنی سابقہ ساکھ بحال کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کرنا ہوں گی۔ اس مقصد کے لیے کھلاڑیوں کی تربیت، کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
خواتین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور تمام کھیلوں پر توجہ دینے کی ضرورت
وزیراعظم نے خواتین کھلاڑیوں کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی خواتین کرکٹ اور ہاکی سمیت مختلف کھیلوں میں آگے بڑھ رہی ہیں، جو حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ خواتین کو بھی مرد کھلاڑیوں کی طرح اپنی صلاحیتوں کے اظہار، تربیت اور قومی و بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے یکساں مواقع فراہم کیے جانے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے فروغ کی حکمت عملی کسی ایک کھیل یا مخصوص علاقے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ فٹ بال، والی بال، کبڈی اور دیگر کھیلوں کو بھی مناسب توجہ دی جانی چاہیے۔ ملک میں مختلف کھیلوں کے لیے ٹیلنٹ کی تلاش، نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مقابلوں کے انعقاد کے ذریعے ایک مضبوط کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق جہاں بھی صلاحیت موجود ہو، حکومت کو اسے سامنے لانے اور آگے بڑھانے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔ نوجوان کھلاڑیوں کے انتخاب اور سرپرستی میں بلاامتیاز مواقع فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی علاقے، طبقے یا پس منظر سے تعلق رکھنے والا باصلاحیت نوجوان قومی نمائندگی کا موقع حاصل کر سکے۔
ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس کی بحالی پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ماضی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے)، پاکستان ریلویز، واپڈا اور دیگر سرکاری ادارے کھلاڑیوں کی سرپرستی کرتے تھے۔ ان اداروں کے ذریعے کھلاڑیوں کو ملازمت، تربیت اور کھیل جاری رکھنے کے مواقع میسر آتے تھے، جس سے انہیں اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد ملتی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت کے دوران ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس کی بحالی کا مطالبہ سامنے آیا تو انہوں نے اس نظام کی بحالی کے لیے فوری احکامات جاری کیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کھیلوں کے شعبے میں ادارہ جاتی سرپرستی کو مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ کھلاڑیوں کو اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جب کھلاڑیوں کو روزگار اور مالی تحفظ حاصل ہوگا تو وہ معاشی پریشانیوں سے کسی حد تک آزاد ہو کر اپنی تمام تر توجہ تربیت اور مقابلوں پر مرکوز کر سکیں گے۔
ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس کا نظام ماضی میں متعدد قومی کھلاڑیوں کی ترقی میں معاون رہا ہے۔ اس نظام کے ذریعے مختلف ادارے اپنی ٹیمیں تشکیل دیتے، کھلاڑیوں کو ملازمتیں فراہم کرتے اور انہیں قومی مقابلوں میں حصہ لینے کے مواقع دیتے تھے۔ اس کی بحالی اور مؤثر فعالیت سے کھیلوں کے شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور کھلاڑیوں کو طویل مدتی سرپرستی فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کے تمام حصوں میں موجود ٹیلنٹ کو سامنے لانا ضروری ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت ملک کے ہر علاقے میں باصلاحیت نوجوان موجود ہیں، جنہیں مناسب رہنمائی، تربیت اور وسائل فراہم کرکے قومی سطح پر آگے لایا جا سکتا ہے۔
انعامی چیکس کھلاڑیوں کا حق ہیں، احسان نہیں
وزیراعظم نے ایشین گیمز میں تمغے جیتنے والے کھلاڑیوں میں انعامی چیکس تقسیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقوم کھلاڑیوں پر حکومت کا کوئی احسان نہیں بلکہ ان کی محنت اور کامیابیوں کا اعتراف ہیں اور وہ ان کے حق دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کرنا، سخت تربیت سے گزرنا اور تمغے حاصل کرنا غیر معمولی محنت اور عزم کا تقاضا کرتا ہے۔ ایسے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
وزیراعظم کے مطابق کھلاڑیوں کو ان کی کامیابیوں کا مناسب اعتراف ملنا چاہیے اور انہیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ ملک ان کی محنت اور قربانیوں کی قدر کرتا ہے۔ انعامات کی تقسیم کے ساتھ ساتھ مستقل ملازمتوں، بہتر تربیتی سہولیات اور کھیلوں کے کیریئر کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات بھی اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے سے نہ صرف کھیلوں کے شعبے میں بہتری آئے گی بلکہ ان میں نظم و ضبط، محنت، ٹیم ورک اور مثبت مقابلے کا جذبہ بھی فروغ پائے گا۔
قومی سپورٹس کانفرنس کے انعقاد کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ کھیلوں کے شعبے میں مزید اقدامات پر مشاورت کے لیے جلد سپورٹس کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ اس کانفرنس میں وفاقی اور صوبائی حکام، کھیلوں کے متعلقہ اداروں کے نمائندوں، ماضی کے نامور کھلاڑیوں اور موجودہ سپورٹس اسٹارز کو مدعو کیا جائے گا۔
کانفرنس میں کھیلوں کو درپیش مسائل، نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت، مالی معاونت، کوچنگ کے معیار، کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے اور بین الاقوامی مقابلوں کی تیاری جیسے امور پر غور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مختلف کھیلوں میں پاکستان کی کارکردگی بہتر بنانے اور باصلاحیت نوجوانوں کی نشاندہی کے لیے قابلِ عمل تجاویز پر بھی مشاورت متوقع ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو کھیلوں کے میدان میں اپنا سابقہ مقام دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ صرف وقتی اقدامات سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے، بلکہ اس مقصد کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی، مضبوط ادارہ جاتی تعاون اور مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ متعلقہ ادارے، قومی کھیلوں کی تنظیمیں اور سابق کھلاڑی اس عمل میں مؤثر کردار ادا کریں گے تاکہ پاکستانی نوجوان عالمی مقابلوں میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔
وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نوجوانوں کو زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کے مطابق تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، آرٹس، ثقافت اور کھیلوں سمیت مختلف شعبوں میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ وزیراعظم قومی کھیل ہاکی کی بحالی میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو سامنے لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ای اسپورٹس کو کھیل کے طور پر تسلیم کرنے اور ای اسپورٹس پالیسی و فیڈریشن کی منظوری کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے ایشین گیمز میں تمغے جیتنے والے کھلاڑیوں کو وزیراعظم ہاؤس مدعو کرنا ان کی حوصلہ افزائی اور قومی سطح پر ان کی کامیابیوں کے اعتراف کی علامت ہے۔
چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام کے مطابق پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور کھیلوں کے قومی لیجنڈز حکومتی اقدامات میں شراکت دار ہیں۔ ان اداروں اور شخصیات کے تجربے سے فائدہ اٹھا کر نوجوان کھلاڑیوں کے لیے تربیت اور ترقی کے بہتر مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی کھلاڑی آئندہ ایشین گیمز اور اولمپکس سمیت بین الاقوامی مقابلوں میں مزید بہتر کارکردگی دکھائیں گے اور ملک کے لیے اعزازات حاصل کریں گے۔
حسن سردار کا کھلاڑیوں کے لیے مستقل ملازمتوں کا مطالبہ
قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اور اولمپئن حسن سردار نے تقریب کے انعقاد اور میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ایشین گیمز میں تمغے جیت کر پاکستان کا پرچم بلند کرنے والے تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کی۔
حسن سردار نے کہا کہ ماضی میں پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنی غیر معمولی کارکردگی سے اولمپکس اور عالمی کپ جیسے بڑے مقابلوں میں گولڈ میڈلز حاصل کیے۔ ان کامیابیوں کے پیچھے کھلاڑیوں کی محنت کے ساتھ ادارہ جاتی سرپرستی اور کھیلوں کے لیے سازگار ماحول بھی اہم عوامل تھے۔
انہوں نے زور دیا کہ قومی کھلاڑیوں کو مستقل ملازمتیں فراہم کی جائیں تاکہ انہیں معاشی تحفظ حاصل ہو اور وہ روزگار کے مسائل سے بے فکر ہو کر اپنی توجہ کھیل، تربیت اور بین الاقوامی مقابلوں کی تیاری پر مرکوز کر سکیں۔
حسن سردار کے مطابق پاکستان میں ہاکی سمیت مختلف کھیلوں میں ٹیلنٹ موجود ہے، لیکن اسے عالمی معیار کی کارکردگی میں تبدیل کرنے کے لیے مستقل منصوبہ بندی اور سرپرستی ضروری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومتی اقدامات سے کھیلوں کے شعبے میں بہتری آئے گی اور نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے زیادہ مواقع میسر ہوں گے۔
جہانگیر خان کا پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں پر اعتماد
سابق عالمی اسکواش چیمپئن جہانگیر خان نے ایشین گیمز میں پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں کھلاڑیوں کی پذیرائی ایک مثبت قدم ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور درست سمت، عزم، واضح وژن اور مسلسل محنت کے ذریعے عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی کھیلوں میں کامیابی کے لیے صرف صلاحیت کافی نہیں ہوتی بلکہ کھلاڑیوں کو طویل عرصے تک سخت تربیت، مناسب سہولیات اور منظم رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ اداروں کو کھلاڑیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنا اور ان کی ضروریات کو سمجھنا چاہیے۔
جہانگیر خان نے ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس کی بحالی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس نظام نے ماضی میں پاکستان کو عالمی معیار کے متعدد کھلاڑی فراہم کیے۔ ان کے مطابق اگر کھلاڑیوں کو روزگار، مالی تحفظ اور تربیت کے بہتر مواقع ملیں تو وہ بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں میں عالمی مقابلوں میں کامیابی حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ مناسب سرپرستی، مسلسل محنت اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے پاکستان کھیلوں کے شعبے میں بڑے اہداف حاصل کر سکتا ہے۔
ای اسپورٹس اور کھیلوں کے نئے رجحانات پر توجہ
تقریب میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین نے ای اسپورٹس کو کھیل کے طور پر تسلیم کرنے اور اس سے متعلق پالیسی و فیڈریشن کی منظوری کا ذکر بھی کیا۔ یہ معاملہ اس تناظر میں اہم ہے کہ دنیا بھر میں کھیلوں کے روایتی شعبوں کے ساتھ ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی مقابلوں کو بھی توجہ حاصل ہو رہی ہے۔
ای اسپورٹس سمیت نئے شعبوں کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو تربیت، قواعد و ضوابط، مناسب پلیٹ فارمز اور محفوظ و ذمہ دارانہ شرکت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روایتی کھیلوں، بالخصوص ہاکی، اسکواش، ایتھلیٹکس، فٹ بال اور دیگر کھیلوں کے لیے بھی وسائل اور توجہ برقرار رکھنا اہم ہوگا۔
پاکستان کے لیے ایک متوازن کھیلوں کی پالیسی نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کر سکتی ہے اور ملک میں کھیلوں سے وابستہ سرگرمیوں کے دائرے کو وسعت دے سکتی ہے۔
قومی کھیلوں کی بحالی کے لیے مستقل پالیسی ناگزیر
وزیراعظم کی جانب سے سپورٹس کانفرنس کے انعقاد کا اعلان ایسے وقت میں اہمیت رکھتا ہے جب پاکستان میں کھیلوں کے شعبے کو مزید منظم بنانے، کھلاڑیوں کی سرپرستی بڑھانے اور بین الاقوامی سطح پر مسابقت بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے عمومی مؤقف کے مطابق کھیلوں کی ترقی کے لیے ٹیلنٹ کی ابتدائی سطح پر شناخت، اسکولوں اور کالجوں میں کھیلوں کے مواقع، مقامی اور قومی مقابلوں کا تسلسل، معیاری کوچنگ، جدید تربیتی سہولیات اور کھلاڑیوں کے لیے مالی تحفظ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کھلاڑیوں اور دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا بھی ایک مؤثر قومی حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس، کھیلوں کی تنظیموں اور تعلیمی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کے ذریعے ایسے نوجوانوں کو سامنے لایا جا سکتا ہے جو مناسب مواقع نہ ملنے کے باعث اپنی صلاحیتوں کو قومی سطح پر ظاہر نہیں کر پاتے۔ اسی طرح سابق قومی کھلاڑیوں کے تجربے سے فائدہ اٹھا کر تربیتی پروگراموں اور کھیلوں کی پالیسی کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ حکومت نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور کھیلوں کے فروغ کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ ایشین گیمز میں تمغے جیتنے والے کھلاڑیوں کے اعزاز میں تقریب، انعامی چیکس کی تقسیم اور قومی سپورٹس کانفرنس کے اعلان کو اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
تقریب کے اختتام پر وزیراعظم نے میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں میں انعامی چیکس تقسیم کیے۔ اس موقع پر مکسڈ مارشل آرٹس میں تمغہ جیتنے والے ایک کھلاڑی نے بھی اپنے تاثرات بیان کیے۔
پاکستان میں کھیلوں کے شعبے کی مستقبل کی کامیابیوں کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حوصلہ افزائی اور اعلانات کے ساتھ مستقل بنیادوں پر تربیت، روزگار، وسائل اور ادارہ جاتی سرپرستی کے مؤثر انتظامات کس حد تک یقینی بنائے جاتے ہیں۔ اگر قومی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے تو پاکستان کے نوجوان کھلاڑی مستقبل میں ایشیائی اور عالمی مقابلوں میں مزید بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔



