تازہ ترینمشرق وسطیٰ

امریکی صدر  ڈونلڈ ٹرمپ  نے اسرائیلی وزیرِاعظم کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے انہیں ”جنگجو وزیراعظم‘‘ قرار دیا

اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے اس دعوے پر سوال اٹھایا اور رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج کو ایسی کسی کارروائی کے لیے کوئی واضح یا مخصوص ہدایت نہیں دی گئی تھی۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
الینا فرہادی

27 اکتوبر 2026 کو اسرائیل میں منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں یہ سوال اُٹھ رہا ہے کہ کیا اسرائیل میں حکومت یا قیادت کی ممکنہ تبدیلی اسرائیل کی ایران کے حوالے سے حکمت عملی پر اثرانداز ہو سکتی ہے؟

اسرائیل کے موجودہ  وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن  اصل سوال صرف یہ نہیں کہ آئندہ حکومت کی قیادت کون کرے گا، بلکہ یہ بھی ہے کہ نئی حکومت خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے والے سکیورٹی بحران سے کیسے نمٹے گی۔ یہ بحران ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور اس کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے اختیار کی گئی عسکری حکمتِ عملی، جس میں ایران کے خلاف جنگ  بھی شامل رہی، کے بعد مزید پیچیدہ ہو چکا ہے۔

امریکی صدر  ڈونلڈ ٹرمپ  نے حال ہی میں اسرائیلی وزیرِاعظم  نیتن یاہو کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے انہیں ”جنگجو وزیراعظم‘‘ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر ان کے علاوہ کوئی اور اقتدار میں آیا تو واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایران کے ساتھ تنازع کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ اگر اسرائیل  نے ”غلط رہنما‘‘ منتخب کیا تو امریکہ کو معاملات خود سنبھالنے پڑ سکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی بھرپور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’’جنگجو وزیراعظم‘‘ قرار دیا تھاتصویر: J. Samad/AFP/G. Cohen-Magen/dpa/picture alliance

تاہم پسِ پردہ میڈیا رپورٹس نے اسرائیلی حکومت اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان اختلافات کی نشاندہی کی۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق  اسرائیلی فوج اکتوبر کے وسط کے قریب ایران کی جوہری تنصیبات، سرکاری مراکز اور  توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی نئی لہر شروع کرنا چاہتی تھی۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی امریکی انتخابات سے قبل خطے میں مزید کشیدگی بڑھانے کی مخالفت کی، جس کے نتیجے میں یہ منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔

بعدازاں  اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے اس دعوے پر سوال اٹھایا اور رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج کو ایسی کسی کارروائی کے لیے کوئی واضح یا مخصوص ہدایت نہیں دی گئی تھی۔

اسرائیلی انتخابات میں مقابلہ موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے اہم حریف، سابق  آرمی چیف اور مرکز پسند جماعت ”یشار‘‘ کے رہنما گادی آئزن کوٹ کے درمیان سمٹتا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابی نتیجہ چاہے جو بھی ہو، ایران کے حوالے سے اسرائیل کی بنیادی پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان کم ہے۔

 

ایران جنگ کے حوالے سے حال ہی میں پسِ پردہ میڈیا رپورٹس نے اسرائیلی حکومت اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان اختلافات کی نشاندہی کی تھیتصویر: Allison Bailey/NurPhoto/picture alliance

تل ابیب کی حکمتِ عملی کا انحصار واشنگٹن پر

تل ابیب کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز (INSS) سے وابستہ تجزیہ کار راز سمٹ کے مطابق اسرائیل کی دائیں، بائیں اور مرکز کی سیاسی قوتوں کے درمیان ایران، بالخصوص اس کے جوہری پروگرام، کو درپیش خطرے کے بارے میں اختلافات محدود ہیں۔ ان کے بقول ایران کے خلاف کسی بھی بڑی عسکری کارروائی کا انحصار اسرائیلی وزیراعظم سے زیادہ امریکی صدر کے فیصلے پر ہوتا ہے۔

اسی طرح INSS کے سینیئر فیلو ڈینی سیٹرینووِٹز کا کہنا ہے کہ اگر  نیتن یاہو  اقتدار سے الگ بھی ہو جائیں تو گزشتہ برسوں میں تشکیل پانے والی پالیسیاں اور ان کا اثر و رسوخ فوری طور پر ختم نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات کے بعد بھی تہران کے بارے میں اسرائیل کے مجموعی مؤقف میں ڈرامائی تبدیلی کی توقع نہیں کی جا رہی۔

سفارت کاری: ایک ضائع شدہ موقع؟

ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا تھا، مگر سیاسی اختلافات نے اسے جلد بند کر دیا۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں بعض مبصرین کا خیال ہے کہ  عسکری محاذ آرائی کے بجائے سفارت کاری کا ایک اہم موقع چھ ماہ قبل اسلام آباد میں پیدا ہوا تھا، جب تہران نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی تھی کہ وہ اسرائیل کے خلاف کسی جنگ یا فوجی کارروائی کا آغاز نہیں کرے گا۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں بعض مبصرین کا خیال ہے کہ عسکری محاذ آرائی کے بجائے سفارت کاری کا ایک اہم موقع چھ ماہ قبل اسلام آباد میں پیدا ہوا تھاتصویر: External Publicity Wing/Handout/REUTERS

جیوپولیٹیکل امور پر تحقیق کرنے والے ادارے ”دی ہیگ انسٹی ٹیوٹ فار جیوپولیٹکس‘‘ کے محقق ڈیمون گولریز کے مطابق، ”اسلامی جمہوریہ  ایران کی تاریخ میں پہلی بار ایران اور امریکہ کے صدور  نے ایک ایسے فریم ورک پر دستخط کیے جس میں اسرائیل کے بنیادی قومی سلامتی کے مفادات کو تسلیم کیا گیا۔‘‘

ان کے بقول، اسلام آباد فریم ورک کی پہلی شق ”امریکہ مردہ باد‘‘ اور ”اسرائیل مردہ باد‘‘ جیسے نعروں اور اسرائیل مخالف دھمکیوں کے خاتمے کی جانب ایک اہم آغاز ثابت ہو سکتی تھی۔ تاہم یہ سفارتی موقع جلد ہی ختم ہو گیا۔ گولریز کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی عزم موجود ہو تو اسلام آباد یادداشت کی روح اور اس کی شقیں پائیدار امن کی جانب پہلا اسٹریٹجک قدم بن سکتی ہیں۔

دوسری جانب، تل ابیب کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز (INSS) کے سینیئر فیلو ڈینی سیٹرینووٹز اس حوالے سے زیادہ پُرامید نہیں ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی سیاسی حلقوں میں اس وقت سفارت کاری یا ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے بہت کم گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی موجودہ سیاسی فضا میں ایران کے ساتھ جوہری

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button