بین الاقوامی

اسرائیلی انتخابات میں نتن یاہو کا اتحاد اکثریت سے محروم، عرب جماعتیں کنگ میکر بن گئیں

120 رکنی پارلیمان میں دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کے اتحاد کو 53 نشستیں ملیں، اپوزیشن 48 نشستوں تک محدود؛ حکومت سازی کے لیے پیچیدہ مذاکرات کا امکان

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسرائیل: اسرائیل کے عام انتخابات کے حتمی نتائج نے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو اور ان کے سیاسی اتحادیوں کے لیے حکومت سازی کی راہ مشکل بنا دی ہے۔ جمعے کو سامنے آنے والے حتمی انتخابی اعداد و شمار کے مطابق نتن یاہو کے دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد نے 120 رکنی پارلیمان میں 53 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ان کی مرکزی حریف اپوزیشن کے بلاک کو 48 نشستیں ملیں۔ عرب سیاسی جماعتوں رعام اور جوائنٹ لسٹ نے مجموعی طور پر 19 نشستیں جیت کر حکومت سازی کے عمل میں اہم حیثیت حاصل کر لی ہے۔

انتخابی نتائج کے مطابق کسی بھی سیاسی بلاک کو حکومت بنانے کے لیے درکار کم از کم 61 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل نہیں ہو سکی۔ اس صورت حال نے اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے امکانات کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ اب مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد، حمایت اور ممکنہ سیاسی سمجھوتوں کے لیے مذاکرات ناگزیر دکھائی دیتے ہیں، جبکہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں دوبارہ انتخابات کا امکان بھی موجود رہے گا۔

نتن یاہو کی جماعت لیکود سب سے آگے، مگر حکومت سازی کا راستہ دشوار

اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی کے جاری کردہ نتائج کے مطابق نتن یاہو کی جماعت لیکود نے 27 نشستیں حاصل کیں اور انفرادی جماعتوں میں سب سے آگے رہی۔ تاہم، لیکود کی کامیابی اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بھی پارلیمان میں مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئی۔

نتن یاہو کے سیاسی کیمپ کو مجموعی طور پر 53 نشستیں ملنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انتخابی برتری اور حکومت بنانے کی عملی صلاحیت دو مختلف معاملات ہیں۔ کسی جماعت یا اتحاد کا سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا لازماً حکومت سازی کی ضمانت نہیں بنتا، خصوصاً اس وقت جب پارلیمان میں دیگر جماعتیں بھی فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہوں۔

دوسری جانب گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن کے بلاک نے 48 نشستیں حاصل کیں۔ اگرچہ اپوزیشن بھی اپنے طور پر اکثریت سے دور ہے، تاہم عرب جماعتوں کی حمایت یا دیگر سیاسی گروہوں کے ساتھ کسی قابلِ عمل معاہدے کے ذریعے وہ نتن یاہو کے مقابلے میں حکومت سازی کی کوشش کر سکتی ہے۔

اس لیے انتخابی نتائج کے بعد اسرائیلی سیاست کا اصل مرکز صرف نشستوں کی تعداد نہیں بلکہ یہ طے کرنا ہوگا کہ کون سا سیاسی اتحاد کم از کم 61 ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

عرب جماعتیں کنگ میکر کے طور پر ابھر آئیں

انتخابات کا ایک اہم پہلو عرب سیاسی جماعتوں رعام اور جوائنٹ لسٹ کی نشستیں ہیں۔ دونوں جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں، جس کے بعد حکومت سازی کے لیے ان کی حمایت یا عدم حمایت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔

سیاسی اصطلاح میں ایسی جماعتوں کو ’’کنگ میکر‘‘ کہا جاتا ہے جن کی حمایت کسی ایک سیاسی بلاک کو حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت تک پہنچا سکتی ہو۔ موجودہ انتخابی صورت حال میں عرب جماعتوں کی اہمیت بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔

اگرچہ ان جماعتوں کے درمیان سیاسی ترجیحات اور حکومت سازی کے طریقۂ کار کے حوالے سے اختلافات ہو سکتے ہیں، تاہم ان کی نشستیں کسی بھی ممکنہ اتحاد کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد ان کے رہنماؤں کے بیانات اور آئندہ سیاسی حکمت عملی پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔

جوائنٹ لسٹ کے سربراہ یوسف جبرین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کی جماعت نتن یاہو کی حکومت ختم کرنے کے مقصد سے اپوزیشن کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لازماً اپوزیشن کی حکومت میں شامل بھی ہو گی۔

یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ اپوزیشن کو عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے صرف حکومت مخالف بیانات پر انحصار کرنے کے بجائے سیاسی اور پارلیمانی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔

حکومت سازی کے لیے مشکل مذاکرات کا امکان

انتخابی نتائج نے اسرائیل کو ایک ایسے سیاسی مرحلے میں داخل کر دیا ہے جہاں مختلف جماعتوں کے درمیان مذاکرات حکومت کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ چونکہ کوئی بھی بلاک 61 نشستوں کی اکثریت حاصل نہیں کر سکا، اس لیے حکومت سازی کے لیے اتحادی جماعتوں کی حمایت یا دیگر سیاسی گروہوں کے ساتھ سمجھوتے درکار ہوں گے۔

نتن یاہو کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے موجودہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر مزید پارلیمانی حمایت حاصل کریں۔ دوسری جانب اپوزیشن کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ مختلف سیاسی جماعتوں کو ایک قابلِ عمل حکومتی بندوبست پر متفق کر سکتی ہے۔

تاہم، حکومت سازی کے مذاکرات صرف نشستوں کی گنتی تک محدود نہیں رہیں گے۔ جماعتوں کی نظریاتی ترجیحات، قومی سلامتی سے متعلق پالیسیوں، عرب شہریوں کے سیاسی کردار اور داخلی معاملات پر اختلافات بھی مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

اگر کسی بھی فریق نے مطلوبہ حمایت حاصل نہ کی تو سیاسی تعطل طویل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں دوبارہ انتخابات کا امکان زیرِ بحث آ سکتا ہے، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ انتخابات دوبارہ کرانا ناگزیر ہو جائے گا۔

انتخابی نتائج کے بعد دھاندلی کے الزامات نے سیاسی کشیدگی بڑھا دی

حکومت سازی کی غیر یقینی صورت حال کے ساتھ ہی انتخابی عمل پر دھاندلی اور غیر قانونی مالی معاونت کے الزامات نے اسرائیل میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔

جمعرات کو نتن یاہو کے سیاسی کیمپ اور ان کی جماعت لیکود کی جانب سے یہ دعوے سامنے آئے کہ عرب اسرائیلی سیاسی گروہوں کو ووٹنگ پر اثرانداز ہونے کے لیے غیر ملکی مالی معاونت فراہم کی گئی۔ ان الزامات میں قطر سے مبینہ مالی روابط کا معاملہ بھی شامل تھا۔

تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔ عرب جماعتوں اور قطر نے الزامات کو مسترد کیا ہے، جبکہ اسرائیلی حکام کی جانب سے تحقیقات کا اعلان بھی ان دعوؤں کو ثابت شدہ حقیقت قرار دینے کے مترادف نہیں۔

انتخابی نتائج کے بعد دھاندلی سے متعلق الزامات کی سیاسی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ کسی بھی فریق کو واضح اکثریت نہیں ملی۔ ایسے حالات میں انتخابی عمل کی شفافیت، ووٹوں کی قانونی حیثیت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد کا مسئلہ حکومت سازی پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔

لیکود کا دعویٰ: ’’رعام گیٹ‘‘ ایک سیاسی زلزلہ

لیکود نے جمعرات کو اپنے بیان میں رعام سے متعلق الزامات کو انتہائی سخت الفاظ میں پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ انتخابی عمل میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔

جماعت نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’رعام گیٹ اسکینڈل ایک سیاسی زلزلہ ہے۔ اسرائیل کے انتخابات چوری ہو گئے ہیں!‘‘

یہ بیان لیکود کے سیاسی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، تاہم انتخابی نتائج کو غیر قانونی قرار دینے یا ووٹوں میں منظم دھاندلی ثابت کرنے کے لیے قابلِ اعتماد شواہد اور متعلقہ حکام کی تحقیقات کے نتائج ضروری ہوں گے۔

رعام کے رہنما منصور عباس نے کسی بھی غلط عمل میں ملوث ہونے کی تردید کی اور تحقیقات کا خیرمقدم کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ الزامات کی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے، تاہم انہیں محض سیاسی بیانات کی بنیاد پر درست تسلیم نہیں کیا جانا چاہیے۔

جوائنٹ لسٹ نے بھی نتن یاہو اور ان کے اتحادیوں پر الزام لگایا کہ وہ عرب ووٹرز کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کے خوف سے اشتعال انگیزی کی مہم چلا رہے ہیں۔

اس طرح انتخابی نتائج کے بعد سیاسی اختلافات اب حکومت سازی کے سوال سے آگے بڑھ کر انتخابی عمل کی ساکھ اور عرب جماعتوں کے کردار پر بھی مرکوز ہو گئے ہیں۔

اپوزیشن کا الزام: انتخابی نتائج پر بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش

اپوزیشن کے بعض رہنماؤں نے نتن یاہو اور لیکود پر الزام لگایا کہ وہ مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد انتخابی نتائج کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بائیں بازو کے رہنما یائر گولن نے کہا کہ نتن یاہو انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گادی آئزن کوٹ نے بھی لیکود اور نتن یاہو پر انتخابی نتائج کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے ایک مربوط اور منظم مہم چلانے کا الزام لگایا۔

تاہم، اپوزیشن کے ان بیانات کو بھی سیاسی فریقین کے مؤقف کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔ انتخابی عمل میں کسی بے ضابطگی کی موجودگی یا عدم موجودگی کا تعین متعلقہ اداروں کی تحقیقات، دستیاب شواہد اور قانونی طریقۂ کار کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔

سیاسی طور پر یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کو نئی حکومت کی تشکیل کے لیے پہلے ہی مشکل مذاکرات کا سامنا ہے۔ اگر انتخابی نتائج پر اعتماد کمزور ہوتا ہے تو مختلف جماعتوں کے درمیان مفاہمت اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

شِن بیٹ کی تحقیقات، مگر پورے ووٹر طبقے پر الزام لگانے سے گریز کی ہدایت

اسرائیل کی داخلی سلامتی سروس شِن بیٹ نے کہا ہے کہ وہ انتخابی عمل میں مشتبہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ تاہم، ادارے نے واضح کیا کہ تحقیقات کا مقصد کسی پورے طبقے کو مشکوک قرار دینا یا قانونی طور پر ووٹ ڈالنے والے شہریوں پر اجتماعی الزام عائد کرنا نہیں ہے۔

ادارے کے مطابق تحقیقات کو شکوک و شبہات پیدا کرنے یا کسی مخصوص سیاسی یا سماجی گروہ کو مجموعی طور پر موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کہ انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور کسی پوری آبادی یا ووٹر گروپ کو مشتبہ قرار دینے میں بنیادی فرق موجود ہے۔ کسی مخصوص واقعے یا مبینہ خلاف ورزی کی جانچ پڑتال کے لیے شواہد درکار ہوتے ہیں، جبکہ اجتماعی الزام سیاسی اور سماجی تقسیم کو بڑھا سکتا ہے۔

شِن بیٹ کی جانب سے تحقیقات کا اعلان اس بات کی تصدیق نہیں کرتا کہ دھاندلی ہوئی ہے یا کسی جماعت نے غیر قانونی مالی معاونت حاصل کی ہے۔ ان سوالات کے جوابات تحقیقات مکمل ہونے اور شواہد سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکیں گے۔

انتخابی کمیشن نے بھی بے بنیاد دعوؤں سے خبردار کر دیا

اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی نے بھی بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں وضاحت پیش کی۔ کمیٹی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈین لیون نے وسیع تر مسائل سے متعلق بعض دعوؤں کو ’’مکمل طور پر بے بنیاد‘‘ قرار دیا۔

انتخابی ادارے کا یہ مؤقف اس تناظر میں اہم ہے کہ انتخابی عمل کی نگرانی اور نتائج کی تصدیق اس کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ تاہم، کسی مخصوص الزام پر حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے متعلقہ شکایت، دستیاب شواہد اور سرکاری تحقیقات کی تفصیلات دیکھنا ضروری ہوگا۔

انتخابی نتائج پر اختلاف جمہوری عمل کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن کسی نتیجے کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے محض سیاسی دعوے کافی نہیں ہوتے۔ شفاف تحقیقات اور قابلِ تصدیق شواہد ہی انتخابی عمل کے بارے میں اعتماد بحال کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

قطر نے مالی معاونت کے الزامات مسترد کر دیے

رعام کو مبینہ مالی معاونت فراہم کرنے سے متعلق الزامات میں قطر کا نام سامنے آنے کے بعد قطری حکام نے بھی ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔

قطر نے تازہ الزامات کو ’’مضحکہ خیز اور خطرناک‘‘ قرار دیا۔ قطری مؤقف کے مطابق یہ دعوے قابلِ قبول نہیں، جبکہ فراہم کردہ معلومات میں ایسے آزادانہ طور پر تصدیق شدہ شواہد شامل نہیں جو ان الزامات کو ثابت کرتے ہوں۔

اس تنازع میں قطر کا نام سامنے آنے سے معاملہ محض اسرائیل کی داخلی سیاست تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے علاقائی تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ کی سفارتی صورت حال کے تناظر میں بھی توجہ حاصل کی ہے۔

تاہم، کسی غیر ملکی ریاست کی مبینہ مداخلت سے متعلق دعوے کی جانچ کے لیے مالی لین دین، متعلقہ دستاویزات اور مستند تحقیقات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے قطر یا کسی سیاسی جماعت کے خلاف الزامات کو حتمی نتیجے کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں ہوگا، جب تک ان کی تصدیق نہ ہو جائے۔

عرب ووٹرز کا سیاسی کردار اور اسرائیل کی داخلی سیاست

موجودہ انتخابی نتائج نے عرب سیاسی جماعتوں اور عرب اسرائیلی ووٹرز کے کردار کو ایک مرتبہ پھر اسرائیل کی داخلی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

رعام اور جوائنٹ لسٹ کی مجموعی 19 نشستیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پارلیمان میں ان جماعتوں کی حمایت حکومت سازی کے امکانات پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ اس تناظر میں عرب جماعتوں کی سیاسی ترجیحات، اپوزیشن کے ساتھ ان کے تعلقات اور حکومت میں براہِ راست شمولیت سے متعلق ان کے فیصلے اہم ہوں گے۔

جوائنٹ لسٹ کے سربراہ یوسف جبرین کا یہ کہنا کہ ان کی جماعت نتن یاہو کی حکومت ختم کرنے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ تعاون کر سکتی ہے، مگر حکومت میں شامل ہونا ضروری نہیں سمجھتی، اس ممکنہ حکمت عملی کی ایک مثال ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کا پارلیمانی تعاون لازماً کابینہ میں شمولیت کے مترادف نہیں ہوتا۔ جماعتیں مخصوص قانون سازی، پارلیمانی اقدامات یا حکومت کی تشکیل کے بعض مراحل میں تعاون کرتے ہوئے خود کو حکومتی اتحاد سے باہر بھی رکھ سکتی ہیں۔

تاہم، یہ واضح ہونا ابھی باقی ہے کہ عرب جماعتیں کس حد تک مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں گی اور آیا ان کی حمایت کسی ایک بلاک کو مطلوبہ اکثریت تک پہنچانے کے لیے کافی ہوگی۔

کیا اسرائیل میں دوبارہ انتخابات ہو سکتے ہیں؟

موجودہ نتائج کے بعد دوبارہ انتخابات کا امکان مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس مرحلے پر اسے یقینی نتیجہ قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔

اسرائیلی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی حمایت درکار ہے۔ اگر نتن یاہو کا اتحاد مزید ارکان کی حمایت حاصل کر لیتا ہے تو وہ حکومت بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اسی طرح اپوزیشن بھی عرب جماعتوں اور دیگر ممکنہ اتحادیوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے متبادل حکومت کی تشکیل کی کوشش کر سکتی ہے۔

اگر دونوں فریق مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو سیاسی تعطل برقرار رہ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دوبارہ انتخابات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود حتمی صورت حال کا انحصار مذاکرات، جماعتوں کے فیصلوں اور متعلقہ قانونی و پارلیمانی طریقۂ کار پر ہوگا۔

اس لیے آئندہ دنوں میں مختلف جماعتوں کے درمیان ملاقاتیں، حمایت سے متعلق بیانات اور کسی ممکنہ اتحاد کے خدوخال اسرائیلی سیاست کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

نتیجہ: عددی برتری کے باوجود نتن یاہو کو سیاسی امتحان کا سامنا

اسرائیل کے عام انتخابات کے حتمی نتائج نے نتن یاہو کی جماعت لیکود کو انفرادی طور پر سب سے بڑی جماعت تو بنا دیا، لیکن ان کے دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کے اتحاد کو پارلیمان میں سادہ اکثریت نہیں مل سکی۔ دوسری جانب اپوزیشن بھی اپنے طور پر مطلوبہ حد سے پیچھے ہے، جبکہ عرب جماعتوں رعام اور جوائنٹ لسٹ کی 19 نشستیں حکومت سازی کے عمل میں اہم ہو گئی ہیں۔

انتخابی نتائج کے بعد دھاندلی اور غیر ملکی مالی معاونت کے الزامات نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ تاہم، ان الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تحقیقات اور قابلِ تصدیق شواہد سے ہی ممکن ہوگا۔ عرب جماعتوں اور قطر کی تردید، شِن بیٹ کی جانب سے تحقیقات اور انتخابی کمیشن کی وضاحت اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کو ظاہر کرتی ہیں۔

اب اسرائیل کی سیاست کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کون سا فریق کم از کم 61 نشستوں کی حمایت حاصل کرکے حکومت تشکیل دے سکتا ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ملک کو ایک نئے سیاسی تعطل اور ممکنہ طور پر دوبارہ انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فی الحال، انتخابی نتائج نے نتن یاہو کو واضح سیاسی برتری دینے کے بجائے حکومت سازی کے ایک مشکل مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جہاں عرب جماعتوں کا کردار، انتخابی عمل پر اعتماد اور سیاسی فریقین کی سمجھوتہ کرنے کی صلاحیت فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button