
چاچڑ اور مٹھاون رودکوہی سیلاب سے بچاؤ کے میگا پراجیکٹ کی منظوری، 85 ارب 34 کروڑ روپے لاگت آئے گی
ایشیائی ترقیاتی بینک 73 ارب 6 کروڑ روپے فراہم کرے گا، پنجاب حکومت 12 ارب 28 کروڑ روپے خرچ کرے گی؛ جدید سیلابی چینلز، ٹیلی میٹری اور مرکزی مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب سے راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کے متاثرہ علاقوں کو تحفظ دینے کا منصوبہ
پیر مشتاق رضوی-ادارت جنوبی پنجاب پاکستان
راجن پور / ڈیرہ غازی خان: جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں چاچڑ اور مٹھاون رودکوہی نالوں سے آنے والے تباہ کن سیلابوں کی روک تھام کے لیے انٹیگریٹڈ ہل ٹورنٹ مینجمنٹ منصوبے کی حتمی منظوری کے عمل میں پیش رفت ہوئی ہے۔ منصوبے کی مجموعی لاگت 85 ارب 34 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جس میں سے 73 ارب 6 کروڑ روپے ایشیائی ترقیاتی بینک فراہم کرے گا، جبکہ پنجاب حکومت اپنے وسائل سے 12 ارب 28 کروڑ روپے مختص کرے گی۔
اس منصوبے کو راجن پور، ڈیرہ غازی خان اور ملحقہ علاقوں کے لیے ایک اہم ترقیاتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ان علاقوں میں برسوں سے پہاڑی ندی نالوں، جنہیں مقامی طور پر رودکوہی کہا جاتا ہے، میں طغیانی کے باعث انسانی آبادیوں، زرعی زمینوں، سڑکوں، نہری نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا رہا ہے۔ مجوزہ منصوبے کا بنیادی مقصد ان قدرتی آبی گزرگاہوں سے آنے والے سیلابی پانی کو بہتر انداز میں منظم کرنا اور متاثرہ آبادیوں کو مستقبل میں ممکنہ تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جدید نظام تشکیل دینا ہے۔
منصوبہ ایکنک کو سفارش کر دیا گیا
وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، حکومتِ پاکستان سے منسوب سرکاری دستاویز کے مطابق، انٹیگریٹڈ ہل ٹورنٹ مینجمنٹ (چاچڑ۔مٹھاون) منصوبے کو قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) کو سفارش کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت منصوبے کو عملی شکل دینے کی جانب ایک اہم مرحلہ ہے، تاہم حتمی منظوری، مالیاتی انتظامات، ٹینڈرنگ اور تعمیراتی سرگرمیوں کے آغاز سے متعلق تفصیلات سرکاری ریکارڈ سے تصدیق طلب ہیں۔
مجوزہ منصوبے کی مالی معاونت میں ایشیائی ترقیاتی بینک کا بڑا حصہ شامل ہے، جبکہ پنجاب حکومت بھی اس منصوبے کے لیے خطیر رقم فراہم کرے گی۔ منصوبے کی مجموعی لاگت اور اس میں وفاقی و صوبائی سطح پر مالی معاونت کی تقسیم سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا دائرہ کار وسیع ہے اور اس کا مقصد صرف فوری سیلابی خطرات کو کم کرنا نہیں بلکہ علاقے میں طویل المدتی آبی انتظام کے نظام کو بہتر بنانا بھی ہے۔
رودکوہی سیلاب: جنوبی پنجاب کا دیرینہ مسئلہ
ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے متعدد علاقوں میں رودکوہی سیلاب ایک دیرینہ مسئلہ ہیں۔ کوہِ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں بارشوں کے بعد پانی تیزی سے نشیبی علاقوں کی طرف آتا ہے، جس کے نتیجے میں بعض اوقات اچانک سیلابی صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے۔ پانی کے تیز بہاؤ کے باعث کھڑی فصلیں تباہ، زرعی زمینیں متاثر، دیہی سڑکیں منقطع اور مقامی آبادیوں کو نقل مکانی سمیت متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان سیلابوں کے اثرات صرف گھروں اور فصلوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ آبپاشی کے نظام، رابطہ سڑکوں، مقامی معیشت، مویشیوں اور روزمرہ زندگی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ بالخصوص ضلع راجن پور کی پچادھ پٹی اور ڈیرہ غازی خان کے رودکوہی علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے بارشوں کے موسم میں سیلابی خطرات ایک مستقل تشویش کا باعث بنے رہتے ہیں۔
ایسے حالات میں چاچڑ اور مٹھاون کے لیے مربوط انتظامی منصوبے کی پیش رفت کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس سے توقع ہے کہ سیلابی پانی کے بہاؤ کو بہتر طریقے سے سنبھالنے، خطرے سے دوچار مقامات کی نشاندہی اور پانی کی نگرانی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔
جدید سیلابی چینلز اور نگرانی کا نظام نصب کیا جائے گا
منصوبے کے مجوزہ خدوخال میں جدید آبپاشی و آبی گزرگاہوں کے انتظام، سیلابی پانی کی نکاسی اور بہاؤ کو منظم کرنے کے لیے خصوصی چینلز، ٹیلی میٹری نظام اور مرکزی اسکاڈا (SCADA) مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب شامل ہے۔
ٹیلی میٹری نظام کے ذریعے مختلف مقامات سے پانی کی سطح اور بہاؤ سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ اسکاڈا نظام نگرانی اور کنٹرول کے عمل کو مرکزی سطح پر مربوط بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ان ٹیکنالوجیز کی مؤثر تنصیب اور فعالیت سے متعلقہ اداروں کو سیلابی صورتِ حال پر نظر رکھنے، پانی کے بہاؤ کا جائزہ لینے اور ضرورت کے مطابق بروقت انتظامی اقدامات کرنے میں سہولت مل سکتی ہے۔
جدید نظام کی کامیابی کے لیے ضروری ہو گا کہ منصوبے کے تمام حصوں کی تکنیکی بنیادوں پر منصوبہ بندی کی جائے، تعمیراتی معیار برقرار رکھا جائے اور تنصیب کے بعد نگرانی و دیکھ بھال کا مستقل انتظام بھی موجود ہو۔ اسی طرح مقامی آبادی کو ممکنہ سیلابی خطرات سے آگاہ کرنے اور ہنگامی حالات میں بروقت اطلاعات فراہم کرنے کے انتظامات بھی اہم ہوں گے۔
زرعی اراضی اور آبپاشی کے نظام کے تحفظ کی امید
راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کے متاثرہ علاقوں میں زراعت مقامی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے۔ رودکوہی سیلابوں کے باعث فصلوں، زرعی زمینوں، آبپاشی کے ڈھانچے اور دیہی معیشت کو نقصان پہنچنے سے کسانوں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مجوزہ منصوبے سے توقع کی جا رہی ہے کہ سیلابی پانی کے بہتر انتظام کے ذریعے زرعی اراضی اور آبپاشی کے نظام کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے نتیجے میں فصلوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات میں کمی، دیہی رابطوں کے تحفظ اور مقامی آبادیوں کے لیے نسبتاً محفوظ ماحول پیدا کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
تاہم منصوبے کے حقیقی فوائد کا انحصار اس کے ڈیزائن، تعمیراتی معیار، تکمیل کے دورانیے اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر ہو گا۔ اسی طرح سیلابی پانی کی قدرتی گزرگاہوں، مقامی آبادیوں اور ماحولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے پر عمل درآمد بھی ضروری ہو گا۔
مرنج ڈیم اور وڈور نالے کی روک تھام اگلے مرحلے کا حصہ
منصوبے سے متعلق فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، مستقبل کے مرحلے میں مرنج ڈیم کی تعمیر اور وڈور نالے کے سیلابی پانی کو منظم کرنے کے اقدامات بھی زیرِ غور ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد ڈیرہ غازی خان اور ضلع راجن پور کی تحصیل جام پور سمیت ان علاقوں کو رودکوہی سیلابوں کے خطرات سے زیادہ مؤثر تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اگر ان منصوبوں پر بھی مربوط انداز میں عمل درآمد کیا جاتا ہے تو اس سے خطے میں سیلابی پانی کے انتظام، زرعی تحفظ اور مقامی آبادیوں کے لیے بنیادی سہولتوں کی بہتری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ بالخصوص راجن پور کی پچادھ پٹی میں رہنے والے افراد کے لیے ایسے اقدامات اہمیت رکھتے ہیں، جہاں بارشوں کے بعد پہاڑی نالوں میں آنے والی طغیانی معمولاتِ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔
تاہم مرنج ڈیم اور وڈور نالے سے متعلق منصوبوں کی منظوری، مالی وسائل، تعمیراتی شیڈول اور عملی پیش رفت کے بارے میں حتمی صورتِ حال متعلقہ سرکاری دستاویزات سے واضح ہونا ضروری ہے۔ ان منصوبوں کو موجودہ میگا پراجیکٹ کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے جامع حکمتِ عملی بھی اہم ہو گی۔
ماضی کے حفاظتی اقدامات اور آئندہ کی حکمتِ عملی
جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں ماضی کے دوران دریائے سندھ کے سیلابی پانی سے تحفظ کے لیے سپر بند، اسٹڈ اور دیگر حفاظتی ڈھانچے تعمیر کیے جاتے رہے ہیں۔ مقامی سطح پر ہیرو، بیٹ بیت، جکھڑ امام شاہ، سکھیرہ ارائیں اور نورپور سمیت متعدد علاقوں میں ایسے اقدامات کا حوالہ دیا جاتا ہے، جن کا مقصد دریائی کٹاؤ اور سیلابی پانی کے اثرات کو کم کرنا تھا۔
اسی تناظر میں طیب ڈرین اور سوڑی لنڈ پر ڈسپرسل سے متعلق اقدامات کو بھی علاقے میں پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم دریائے سندھ کے سیلاب اور کوہِ سلیمان سے آنے والے رودکوہی سیلاب اپنی نوعیت اور بہاؤ کے اعتبار سے مختلف مسائل ہیں، اس لیے ان سے نمٹنے کے لیے تکنیکی ضروریات بھی الگ ہو سکتی ہیں۔
چاچڑ اور مٹھاون منصوبے کی اہمیت اس حوالے سے ہے کہ اس کے ذریعے پہاڑی نالوں سے آنے والے پانی کے انتظام کو جدید تکنیکی تقاضوں کے مطابق بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس ضمن میں مقامی جغرافیائی حالات، پانی کے قدرتی راستوں، آبادیوں کی ضروریات اور مستقبل میں بارشوں کی شدت جیسے عوامل کو منصوبہ بندی میں شامل کرنا ناگزیر ہو گا۔
مقامی قیادت اور عوامی حلقوں کا خیرمقدم
منصوبے سے متعلق پیش رفت پر مقامی حلقوں اور عوام کی جانب سے خوشی اور امید کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، عوام نے اس اقدام پر وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب، سردار اویس خان لغاری، رکن قومی اسمبلی سردار عمار اویس خان لغاری، سردار شیر علی گورچانی اور دیگر مقامی رہنماؤں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ رودکوہی سیلابوں سے مستقل تحفظ کے لیے ایسے منصوبوں کی ضرورت طویل عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق، اگر منصوبہ بروقت مکمل ہوتا ہے اور اس کے تمام حصوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا جاتا ہے تو اس سے علاقے کے لوگوں کو سیلابی خطرات کے مقابلے میں بہتر تحفظ ملنے کی امید ہے۔
مقامی آبادی کے لیے اب سب سے اہم مرحلہ منصوبے کو کاغذی کارروائی سے نکال کر عملی تعمیراتی سرگرمیوں تک پہنچانا، مالی وسائل کی بروقت فراہمی اور مقررہ معیار کے مطابق کام کی تکمیل ہے۔
شفافیت، بروقت تکمیل اور مستقل نگرانی ناگزیر
ماہرین کے عمومی اصولوں کے مطابق، سیلاب سے تحفظ کے بڑے منصوبوں کی کامیابی کے لیے صرف تعمیراتی ڈھانچے قائم کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ ان کی مسلسل دیکھ بھال، نگرانی اور بروقت مرمت بھی ضروری ہوتی ہے۔ اسی طرح مقامی آبادیوں کو منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ رکھنا، متاثرہ علاقوں کی ضروریات کو مدنظر رکھنا اور تعمیراتی مراحل میں شفافیت برقرار رکھنا بھی اہم ہے۔
چاچڑ اور مٹھاون کے منصوبے کے لیے ضروری ہو گا کہ متعلقہ ادارے منظوری کے تمام مراحل مکمل کرنے کے بعد تعمیراتی شیڈول، مالیاتی انتظامات اور پیش رفت کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں۔ منصوبے کی لاگت، کام کے معیار اور تکمیل کے اہداف کی نگرانی سے اس بات کو یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے کہ مختص وسائل مؤثر انداز میں استعمال ہوں۔
اسی طرح مقامی آبادیوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی، بروقت وارننگ سسٹم اور متعلقہ محکموں کے درمیان رابطہ کاری کو بھی اہمیت دینا ہو گی، تاکہ منصوبے کی تکمیل کے بعد اس کے فوائد دیرپا ثابت ہو سکیں۔
خطے کی ترقی کے لیے اہم پیش رفت
چاچڑ اور مٹھاون رودکوہی سیلاب سے بچاؤ کے منصوبے کی پیش رفت جنوبی پنجاب کے لیے ایک اہم امید قرار دی جا رہی ہے۔ 85 ارب 34 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی مالی معاونت سے اس منصوبے کا دائرہ وسیع ہے، جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے بھی نمایاں مالی حصہ فراہم کیا جائے گا۔
منصوبے کی تکمیل سے سیلابی پانی کے انتظام، زرعی اراضی کے تحفظ، آبپاشی کے نظام کی بہتری اور متاثرہ آبادیوں کے لیے خطرات کم کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ مرنج ڈیم اور وڈور نالے سے متعلق مجوزہ اقدامات پر پیش رفت بھی علاقے کے مستقبل کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔
اب عوام کی نظریں منصوبے کی حتمی منظوری، عملی آغاز اور بروقت تکمیل پر مرکوز ہیں۔ اگر منصوبے کو شفافیت، مؤثر نگرانی اور جدید تکنیکی تقاضوں کے مطابق مکمل کیا گیا تو یہ راجن پور، ڈیرہ غازی خان اور ملحقہ علاقوں میں رودکوہی سیلابوں کے خطرات کم کرنے اور مقامی آبادیوں کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔



