
پاکستان-ایجنسیاں
پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آنے کا نکشاف کیا گیا ہے۔ یہ انکشاف ‘نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سنٹر فار پولیو ایریڈیکیشن ‘ نے اتوار کے روز کیا ہے۔ رواں سال میں پاکستان میں پولیو کا اب تک سامنے آنے والا یہ آٹھواں کیس ہے ، جس کی ایک روز پہلے نشاندہی کی گئی ہے۔
خیال رہے پولیو ایک ایسی بیماری ہے جو ابھی تک قابل علاج مرض قرار نہیں دی جاتی۔ البتہ اس سے بچاؤ کے لیے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو قطرے پلائے جاتے ہیں۔ ان قطروں کو ‘پولیو ویکسین’ کا نام دیا جاتا ہے۔ تاکہ بچوں میں پولیو کے حملے سے بچنے کے لیے قوت مدافعت پیدا ہو سکے۔
پاکستان میں پولیو کے خلاف برسر عمل ادارے ‘این ای او سی’ کے مطابق پولیو کے اثرات تحصیل خیبر میں ایک 13 سالہ بچی میں ملے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ صوبہ پختونخوا میں یہ دوسرا پولیو کیس ہے۔ جبکہ مجموعی طور پر اب تک یہ آٹھواں پولیو کیس ہے۔
‘ این ای او سی ‘ کے مطابق اس کیس کا سامنے آنا ایک اہم گھنٹی ہے کہ ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ پانچ سال سے کم عمر کے اپنے بچوں کے لیے انسداد پولیو کی اس ویکسین کو یقینی بنائیں۔ انسداد پولیو کی اس مہم کے سلسلے میں 2 نومبر سے 8 نومبر تک گلی گلی اور ہر گھر تک پولیو ورکرز پہنچیں گے۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں بعض عناصر ان پولیو قطروں کے خلاف ہیں۔ یہاں تک کہ پولیو ٹیموں پر دہشت گردانہ حملے بھی ہوتے رہے ہیں ۔ لہٰذا پاکستان میں ان خطرے والے علاقوں میں پولیو ورکرز کی سکیورٹی کے لیے بھی اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں۔



