تازہ ترینیورپ

بجٹ سے متعلق مذاکرات کی ناکامی کے بعد بیلجیم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور کی استعفے کی پیشکش

شاہی محل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وزیر اعظم کے استعفے کی پیشکش کے بعد بادشاہ فیلیپے اس بارے میں فوری طور پر کوئی بھی فیصلہ نہیں کرنا چاہتے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

جرمنی کے ہمسایہ اور یورپی یونین کے رکن ملک بیلجیم میں ملکی بجٹ سے متعلق مذاکرات پیر کو علی الصبح ناکام ہو جانے کے بعد وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور نے اس آئینی بادشاہت کے سربراہ فیلیپے کو اپنے استعفے کی پیشکش کر دی ہے۔

برسلز میں بیلجیم کے شاہی محل کی طرف سے پیر دو نومبر کے روز بتایا گیا کہ وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور نے بادشاہ فیلیپے کو اپنے استعفے کی پیشکش تو کر دی ہے، تاہم بادشاہ فیلیپے نے ان کو فی الحال ملکی حکومت کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہنے کے لیے کہا ہے۔

شاہی محل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وزیر اعظم کے استعفے کی پیشکش کے بعد بادشاہ فیلیپے اس بارے میں فوری طور پر کوئی بھی فیصلہ نہیں کرنا چاہتے۔

بیلجیم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور برسلز میں ملک کی وفاقی پارلیمان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، فائل فوٹوتصویر: Nicolas Maeterlinck/Belga/dpa/picture alliance

برسلز میں اس وقت جو مخلوط ملکی حکومت اقتدار میں ہے، بادشاہ فیلیپے کل منگل تین نومبر کو اس میں شامل سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملیں گے۔ اس ملاقات کے نتائج کی روشنی میں بادشاہ رواں ہفتے جمعے کے دن دوبارہ وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور سے ملیں گے۔

شاہی محل کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق، ’’بادشاہ کو اس بات پر افسوس ہے کہ موجودہ مخلوط حکومت میں اس قابل اعتبار قومی بجٹ سے متعلق مذاکرات میں کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا، جس پر عمل کرتے ہوئے ملک کو درپیش موجودہ چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے۔‘‘

ساتھ ہی شاہی محل کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا، ’’اس واضح جیو پولیٹیکل بے یقینی کی موجودگی میں، جو اس وقت پائی جاتی ہے، اور ان بڑے اقتصادی چیلنجز کی موجودگی میں بھی، جن کا بیلجیم کو اس وقت سامنا ہے، ہمارا ملک کسی طویل سیاسی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘‘

بیلجیم کے بادشاہ فیلیپے اور ملکہ ماتھلڈے کی ایک تصویر، فائل فوٹوتصویر: Benoit Doppagne/BELGA MAG/AFP/Getty Images

بیلجیم کو اپنے ذمے عوامی قرضوں اور بجٹ میں خسارے کو کم کرنے کے لیے 2029ء تک 10 بلین یورو (11.2 بلین ڈالر) کے ایک بچتی پیکج کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی موجودہ مخلوط حکومت کو ابھی 2027ء کے لیے وفاقی بجٹ کی منظوری بھی دینا ہے، تاہم اس بارے میں مخلوط حکومت کے وزراء کے ایک مرکزی گروپ کی اتوار اور پیر کی درمیانی شب صبح سویرے تک جاری رہنے والی بات چیت میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا تھا۔

قدامت پسند نیشنلسٹ وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور ایک ایسی پانچ جماعتی مخلوط حکومت کے سربراہ ہیں، جس میں دائیں بازو سے لے کر بائیں بازو تک کی متنوع سوچ کی حامل سیاسی پارٹیاں شامل ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button