
اگر امریکہ ایران کے مطالبات مان لے تو تہران صرف دو روز میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر تیار
اسماعیل بقائی نے مزید کہا، ’’بعد کے تمام مراحل سے متعلق ممکنہ مکالمت اس (مجوزہ) کلیدی پیش رفت کے بعد ہی شروع ہو سکے گی۔‘‘
ایران کی طرف سے پیر دو نومبر کے روز کہا گیا کہ اگر امریکہ تہران کی طرف سے پیش کردہ مطالبات تسلیم کر لے، تو آبنائے ہرمز کو دو دنوں میں دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔ قبل ازیں تہران حکومت نے امریکہ کی طرف سے ایرانی مطالبات تسلیم کیے جانے کی صورت میں ایک ہفتے کے اندر اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا ذکر کیا تھا۔
ایرانی دارالحکومت تہران سے پیر دو نومبر کو ملنے والی رپورٹوں میں ملکی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حوالے سے بتایا گیا، ’’اس منصوبے پر صرف دو روز کے اندر اندر عمل درآمد کا امکان اس امر کی طرف ایک اور اشارہ ہے کہ کس طرح ایران اس معاملے میں اچھی نیت سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا، ’’ہم یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ایرانی مطالبات تسلیم کر لیے جاتے ہیں، تو بہت مختصر وقت میں یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں معمول کی محفوظ تجارتی جہاز رانی بحال ہو جائے اور ساتھ ہی مذاکراتی عمل بھی دوبارہ شروع ہو جائے۔‘‘

نیوز ایجنسی اے ایف پی نے تہران سے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بقائی نے یہ بھی کہا کہ ثالثی کوششیں کرنے والے ممالک کے ذریعے امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور ’’ہر شے کا انحصار‘‘ اب اس بات پر ہے کہ آیا واشنگٹن کی طرف سے تہران کے مطالبات تسلیم کر لیے جاتے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا، ’’بعد کے تمام مراحل سے متعلق ممکنہ مکالمت اس (مجوزہ) کلیدی پیش رفت کے بعد ہی شروع ہو سکے گی۔‘‘
اس سال 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک تہران کا یہ مسلسل دعویٰ رہا ہے کہ عالمی منڈیوں کو خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول ہے۔

ایران کی طرف سے ان مال بردار بحری جہازوں پر بار بار حملے بھی کیے جاتے ہیں، جو ایرانی حکام کی اجازت کے بغیر خلیج فارس میں اس تنگ سمندری راستے کو عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تہران حکومت کے اس رویے کے جواب میں امریکی بحریہ نے کئی مہینوں سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے۔



