
آسمان کو کیسے محفوظ کیا جائے؟: ڈرونز کے بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرنے کی ضرورت
ڈرونز جنگ میں ایک طاقتور ہتھیار بن چکے ہیں اور اس کے اثرات پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں، خاص طور پر امریکہ جیسے ممالک کے لیے جو اپنی فضائی حدود کی حفاظت کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
تھیوڈور بنزل اینڈ ٹام ڈونیلون-امریکا,وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
تھیوڈور بنزل منیجنگ ڈائریکٹر اور لیزارڈ جیو پولیٹیکل ایڈوائزری کے سربراہ ہیں۔
ٹام ڈونیلون نے صدر براک اوباما کے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
یکم جون 2025 کو یوکرین کی سکیورٹی سروسز نے روس میں پانچ مختلف فضائی اڈوں پر ایک خفیہ اور کامیاب حملہ کیا، جو یوکرین کی جنگ میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔ یہ حملہ 100 سے زائد ڈرونز کے ذریعے کیا گیا جو غیر مشتبہ روسیوں کے ذریعے چلائے گئے تھے، جنہوں نے کیف سے تقریباً 3,000 میل دور سائبیریا میں بیلیا ایئر بیس تک پہنچ کر روسی بمبار فورس کا تقریباً ایک تہائی حصہ تباہ کر دیا۔ ان حملوں میں تقریباً 7 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ اس آپریشن کو "اسپائیڈر ویب” کا نام دیا گیا اور یہ یوکرین کی جنگ کی تاریخ کا سب سے شاندار اور بہادر حملہ سمجھا گیا۔
یہ حملہ نہ صرف یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے تناظر میں ایک اہم واقعہ تھا بلکہ اس نے عالمی سطح پر ڈرونز کے خطرے کے بارے میں ایک نیا بحران اجاگر کیا۔ اس حملے نے ثابت کیا کہ ڈرونز جنگ میں ایک طاقتور ہتھیار بن چکے ہیں اور اس کے اثرات پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں، خاص طور پر امریکہ جیسے ممالک کے لیے جو اپنی فضائی حدود کی حفاظت کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ڈرونز کے بڑھتے ہوئے خطرات اور امریکہ کی تیاری:
امریکہ میں بائیڈن اور ٹرمپ دونوں ہی انتظامیہ نے ڈرونز سے بچاؤ کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جیسے کہ حساس مقامات اور خصوصی تقریبات پر ڈرون پروازوں پر پابندی، اور کاؤنٹر ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی میں سرمایہ کاری۔ تاہم، ان اقدامات کے باوجود امریکہ میں ابھی تک ایک جامع ڈرون ڈیفنس سسٹم کا فقدان ہے۔ ڈرونز کے خطرے کو شناخت کرنے اور اس سے نمٹنے کے لیے مناسب نظام کی کمی، اور محدود فنڈنگ کی وجہ سے جدید کاؤنٹر ڈرون سسٹمز کی ترقی میں تاخیر ہو رہی ہے۔
اگرچہ امریکہ میں 800,000 سے زائد ڈرون آپریٹرز رجسٹرڈ ہیں، لیکن درحقیقت ڈرونز کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ کئی چھوٹے ڈرونز جو رجسٹریشن کی حد سے نیچے آتے ہیں، ان کا حساب کتاب نہیں کیا جا رہا۔ یہ چھوٹے ڈرونز اب روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، جنہیں فصلوں کی صحت کی نگرانی، تعمیرات کی نگرانی، اور یہاں تک کہ تحقیقی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
یوکرین کی جنگ اور ڈرونز کی مہلکیت:
یوکرین کی جنگ نے ڈرونز کی مہلکیت کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا ہے۔ یوکرین میں جنگ کے دوران، ڈرونز کے ذریعے کیے جانے والے حملوں میں یوکرائنی حکومت کے مطابق اب تک تمام ہلاکتوں کے 70 فیصد کے ذمہ دار ڈرونز ہیں۔ یوکرین نے بغیر پائلٹ کے ہوائی جہاز (UAS) کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کر دی ہے، جس میں فرسٹ پرسن ویو ڈرونز، فائبر آپٹک ڈرونز، اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز شامل ہیں۔
یوکرین نے تقریباً 40 لاکھ ڈرونز تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کی ہے، جو کہ نیٹو کے تمام ممالک کے مجموعی تیار کردہ ڈرونز سے بھی زیادہ ہے۔ اسی دوران روس نے بھی اپنے ڈرون پروگرام میں تیزی لائی ہے اور سالانہ بیس لاکھ ڈرونز تیار کر رہا ہے۔ لیکن دونوں ممالک اپنے حملوں سے بچنے کے لیے ابھی تک مؤثر کاؤنٹر ڈرون سسٹمز کی تشکیل میں ناکام ہیں۔
ڈرون سے بچاؤ کے لیے عالمی سطح پر اقدامات:
دنیا بھر میں ڈرونز کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ میں مختلف ایجنسیوں نے ڈرونز کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کاؤنٹر ڈرون ٹیکنالوجیز پر تحقیق شروع کر دی ہے۔ ان اقدامات میں ڈرونز کے لیے جدید رڈار سسٹمز، مائیکروویو بیسڈ ڈرون ڈیفیٹ سسٹمز، اور الیکٹرو میگنیٹک اسپیکٹرم کی نگرانی شامل ہے۔
اس کے علاوہ، دیگر ممالک بھی اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور ڈرونز کی خلاف کارروائی کے لیے اپنے دفاعی نظام کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ چینی حکومت نے بھی اپنے ڈرون پروگرام کو تیز کیا ہے، اور عالمی ڈرون مارکیٹ پر اس کا تسلط بڑھ رہا ہے، جس سے سپلائی چین کے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔
پاکستان اور دیگر ممالک کا ردعمل:
پاکستان نے بھی اپنے فضائی حدود کی حفاظت کے لیے ڈرون کی نگرانی اور ان کے خطرات سے نمٹنے کے لیے کاؤنٹر ڈرون سسٹمز نصب کرنا شروع کر دیے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان میں مختلف فوجی اور غیر فوجی اداروں نے ڈرون ٹیکنالوجی کے خطرات کو سمجھا اور اس کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت کو تسلیم کیا۔
نتیجہ:
ڈرونز کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر، عالمی سطح پر ان سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ یوکرین کی جنگ نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ ڈرونز اب صرف فوجی کارروائیوں کا حصہ نہیں بلکہ وہ عالمی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ امریکہ اور دیگر ممالک کے پاس ڈرون کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی ہے، لیکن اس کا مؤثر استعمال اور عالمی سطح پر تعاون کے بغیر یہ خطرہ بڑھتا جائے گا۔
آسمان کی حفاظت کے لیے ایک جامع اور عالمی سطح پر ہم آہنگ نظام کی ضرورت ہے، جو نہ صرف ڈرونز کے ذریعے ہونے والے حملوں کو روک سکے بلکہ ان کی شناخت اور ان کے اثرات کو بھی کم کر سکے۔ اگر اس خطرے سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں یہ ڈرونز عالمی سطح پر مزید تباہی پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔



