اہم خبریںبین الاقوامی

پاک بھارت کشیدہ تعلقات کے سائے میں ڈھاکہ میں غیر متوقع مصافحہ

انڈین وزیر خارجہ جے شنکر اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی مختصر ملاقات نے سفارتی حلقوں میں توجہ حاصل کر لی

جاوید اختر -ڈھاکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

ڈھاکہ: پاکستان اور انڈیا کے درمیان شدید کشیدگی کے ماحول میں بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک غیر متوقع مگر علامتی سفارتی لمحہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب انڈیا کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اور پاکستان کے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے درمیان مصافحہ ہوا۔ یہ مختصر ملاقات بدھ کے روز سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم اور ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء کی رہائش گاہ پر ہوئی، جہاں دونوں رہنما آخری رسومات میں شرکت کے لیے موجود تھے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ملاقات رسمی نوعیت کی تھی، تاہم موجودہ علاقائی اور پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان میں بتایا گیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اپنے دورۂ بنگلہ دیش کے دوران پارلیمنٹ آف بنگلہ دیش میں قائم تعزیتی کتاب میں بیگم خالدہ ضیاء کے لیے اپنے تاثرات قلم بند کر رہے تھے۔ اس موقع پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ، سفارت کار اور غیر ملکی مندوبین بھی موجود تھے۔

بیان کے مطابق اسی دوران انڈین وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی، اپنا تعارف کرایا اور کہا کہ وہ انہیں پہلے سے پہچانتے ہیں۔ اس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان مصافحہ ہوا، جو چند لمحوں پر محیط تھا مگر اس نے میڈیا اور سفارتی مبصرین کی بھرپور توجہ حاصل کر لی۔

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات مئی 2025 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان شدید فوجی کشیدگی کے بعد انڈین جانب سے کیا جانے والا پہلا نمایاں اور اعلیٰ سطحی براہِ راست رابطہ ہے۔ یاد رہے کہ مئی میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں شدت پسندوں کے ایک حملے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات مزید بگڑ گئے تھے، جس کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کے قریب فوجی جھڑپیں بھی ہوئیں اور حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔

مئی کے بعد سے دونوں ممالک کے اعلیٰ سیاسی یا سفارتی حکام کے درمیان کسی قسم کی باضابطہ ملاقات یا دوستانہ رابطہ میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوا تھا۔ حتیٰ کہ کھیل کے میدان بھی اس کشیدگی سے محفوظ نہ رہ سکے۔ ستمبر میں ایشیا کپ کے دوران انڈیا کی مردوں کی کرکٹ ٹیم کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار پر ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا تھا، جس پر پاکستان نے شدید احتجاج کیا تھا اور اسے کھیلوں کی روح کے منافی قرار دیا گیا تھا۔

ایسے میں ڈھاکہ میں ہونے والا یہ مصافحہ اگرچہ مختصر اور غیر رسمی تھا، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی ضرور کرتا ہے کہ مکمل سفارتی تعطل کے باوجود بین الاقوامی فورمز پر محدود اور شائستہ رابطے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔ بعض مبصرین اسے مستقبل میں ممکنہ سفارتی رابطوں کے لیے ایک علامتی اشارہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک یہ محض ایک رسمی اور پروٹوکول کا تقاضا تھا جسے ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش، پاکستان اور انڈیا کے درمیان تاریخی، سیاسی اور علاقائی تعلقات کی ایک طویل داستان ہے، اور خالدہ ضیاء کی آخری رسومات جیسے مواقع پر مختلف ممالک کے رہنماؤں کی موجودگی فطری امر ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں پاک بھارت نمائندوں کے درمیان کسی بھی سطح پر براہِ راست رابطہ، چاہے وہ چند لمحوں کا مصافحہ ہی کیوں نہ ہو، خطے کی سیاست میں خاص وزن رکھتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ علامتی ملاقات مستقبل میں کسی باضابطہ سفارتی پیش رفت کی بنیاد بنتی ہے یا نہیں، یا پھر یہ واقعہ محض ایک رسمی لمحے تک ہی محدود رہے گا۔ فی الحال، یہ مصافحہ پاک بھارت تعلقات کی حالیہ کشیدہ تاریخ میں ایک قابلِ ذکر باب کے طور پر ضرور یاد رکھا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button