بین الاقوامیاہم خبریں

طالبان کے صنفی جبر کے خلاف افغان خواتین کی عالمی مہم: آٹھ ہفتوں پر محیط بین الاقوامی تحریک کا آغاز

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان واحد ملک بن چکا ہے جہاں خواتین کو منظم طور پر عوامی زندگی سے خارج کر دیا گیا ہے

کابل: افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار کے بعد خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جاری سخت گیر پالیسیوں، صنفی امتیاز اور منظم جبر کے خلاف افغان خواتین نے عالمی سطح پر ایک منظم اور طویل المدتی مہم شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس آٹھ ہفتوں پر محیط بین الاقوامی مہم کا عنوان "اب صنفی امتیاز ختم کریں” رکھا گیا ہے، جس کا مقصد دنیا بھر کی حکومتوں، انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے تاکہ افغانستان میں خواتین کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو نظرانداز نہ کیا جا سکے۔
افغان میڈیا ادارے آمو ٹی وی کے مطابق یہ مہم افغان خواتین کی ایک ایڈووکیسی اور مشاورتی تنظیم کے زیرِ اہتمام شروع کی گئی ہے، جس میں دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم افغان خواتین، انسانی حقوق کے کارکنان، وکلا، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہوں گے۔ مہم کے دوران آن لائن کانفرنسز، احتجاجی مظاہرے، سوشل میڈیا آگاہی مہمات اور عالمی اداروں کو یادداشتیں پیش کی جائیں گی۔

تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان واحد ملک بن چکا ہے جہاں خواتین کو منظم طور پر عوامی زندگی سے خارج کر دیا گیا ہے۔ خواتین کو تعلیم، روزگار، آزادانہ نقل و حرکت، صحت کی سہولیات تک رسائی اور اظہارِ رائے جیسے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے، جو کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے عالمی منشور کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ لڑکیوں کے ثانوی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی بندش نے نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق طالبان کی پالیسیوں کے نتیجے میں افغانستان میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا رہا ہے جہاں خواتین کو محض گھروں تک محدود کر کے ان کی سماجی، معاشی اور فکری صلاحیتوں کو مکمل طور پر کچل دیا گیا ہے۔
آمو ٹی وی نے برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ایلس میکڈونلڈ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ افغان خواتین اور لڑکیاں ایک “تباہ کن، غیر انسانی اور ناقابلِ قبول” صورتحال کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کی مسلسل خاموشی نہ صرف مایوس کن ہے بلکہ یہ طالبان رجیم کو مزید سخت اقدامات کی حوصلہ افزائی بھی فراہم کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے مطابق افغانستان میں اس وقت کم از کم 22 لاکھ لڑکیاں ایسی ہیں جن کے لیے اسکول جانا بدستور ممنوع ہے۔ دوسری جانب یو این ویمن کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں ہر دس میں سے آٹھ لڑکیاں تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کے بنیادی حق سے محروم ہیں، جس کے نتیجے میں غربت، نفسیاتی مسائل اور سماجی عدم استحکام میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق طالبان رجیم کی جانب سے خواتین کو سرعام کوڑے مارنے، جبری شادیوں اور نام نہاد اخلاقی جرائم کے تحت سزاؤں کے واقعات میں بھی تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ ان اقدامات نے افغانستان میں انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال کو مزید سنگین اور خوفناک بنا دیا ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان خواتین کی جانب سے شروع کی گئی یہ عالمی مہم محض ایک احتجاج نہیں بلکہ طالبان کے جبر، ظلم اور خواتین دشمن نظریات کے خلاف ایک واضح اور عملی اعلانِ بغاوت ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر عالمی برادری نے اب بھی مؤثر اقدامات نہ کیے تو افغانستان میں صنفی امتیاز ایک مستقل اور خطرناک مثال بن سکتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے میں عدم استحکام کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
ماہرین نے عالمی طاقتوں، اقوامِ متحدہ اور اسلامی دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان رجیم پر سفارتی، سیاسی اور اخلاقی دباؤ بڑھائیں، خواتین کے حقوق کو کسی بھی قسم کی سیاسی مفاہمت سے مشروط نہ کریں اور افغان خواتین کی اس عالمی مہم کی عملی حمایت کریں۔
افغان خواتین کی تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک طالبان خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی انسانی حقوق بحال نہیں کرتے اور افغانستان کو ایک ایسے معاشرے میں تبدیل نہیں کیا جاتا جہاں خواتین کو مساوی شہری کے طور پر جینے کا حق حاصل ہو۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button