
نیٹو اور عالمی نظام کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے، راسموسن
ہمیں حکمت عملی تبدیل کرنا ہو گی یورپ کو بالکل یہی مظاہرہ کرنا چاہیے۔ چاپلوسی کا دور ختم ہو چکا ہے، بس کافی ہے
اے پی، اے ایف پی، روئٹرز
ان کا مزید کہنا تھا: ”نیٹو کا مستقبل اور عالمی نظام کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔‘‘ راسموسن نے، جو ڈنمارک کے سابق وزیراعظم بھی رہے اور 2009ء سے 2014ء تک نیٹو کی سربراہی کر چکے ہیں، موجودہ نیٹو سیکرٹری جنرل مارک رُٹے اور دیگر یورپی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ خاص طور پر ٹرمپ کی جانب سے ٹیرفس کی دھمکیوں کے بعد امریکی صدر کے خلاف سخت موقف اپنائیں۔
انہوں نے کہا: ”ہمیں حکمت عملی تبدیل کرنا ہو گی اور یہ نتیجہ اخذ کرنا ہو گا کہ ٹرمپ صرف طاقت، قوت اور اتحاد کا احترام کرتے ہیں۔ یورپ کو بالکل یہی مظاہرہ کرنا چاہیے۔ چاپلوسی کا دور ختم ہو چکا ہے، بس کافی ہے۔‘‘

راسموسن کے یہ تبصرہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب یورپی رہنما، جن میں مارک رُٹے بھی شامل ہیں، داووس میں ٹرمپ سے ملاقات کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ انہیں منانے کی کوشش کی جائے۔ راسموسن نے زور دیا کہ نیٹو کے گرد گھومنے والا موجودہ بحران اب بھی ”حل‘‘ کیا جا سکتا ہے اور یہ اتحاد آرکٹک خطے میں مزید مضبوط ہو کر اُبھر سکتا ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے اقدامات نے واشنگٹن اور اس کے دیرینہ یورپی اتحادیوں کے درمیان ”ذہنی تقسیم‘‘ پیدا کر دی ہے، جس سے روس اور چین کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا: ”یہ نیٹو کی تاریخ میں دیکھے جانے والے تمام دیگر تنازعات سے مختلف اور ایک نئی صورتحال ہے۔ اگر ٹرمپ گرین لینڈ پر حملہ اور وہاں فوجی کارروائی کرتا ہے تو اس کا مطلب نیٹو اتحاد کا خاتمہ ہو گا۔‘‘
یوکرین سے توجہ ہٹانے کا ہتھیار
72 سالہ راسموسن نے کہا کہ گرین لینڈ کا معاملہ ٹرمپ کے لیے ”بڑے پیمانے پر توجہ ہٹانے کا ہتھیار‘‘ بن چکا ہے اور اس طرح عالمی توجہ یوکرین جنگ سے ہٹتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا: ”اب سب گرین لینڈ کے بارے میں بات کر رہے ہیں، جو شمالی بحر اوقیانوس کی سلامتی کے لیے حقیقی خطرہ نہیں ہے۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ روس کا یوکرین پر حملہ حقیقی خطرہ ہے اور توجہ کو اس حقیقی خطرے سے نہیں ہٹایا جانا چاہیے۔ ڈنمارک کے سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ گرین لینڈ پر امریکہ کے ساتھ ”تعمیری مکالمے‘‘ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ کوپن ہیگن اور واشنگٹن 1951ء کے معاہدے کو اپ ڈیٹ کریں، جس کے تحت گرین لینڈ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی ہو، معدنیات کی کان کنی کے لیے اس علاقے کو امریکی کمپنیوں کے لیے کھولا جائے، جبکہ روس اور چین کو باہر رکھنے پر اتفاق کیا جائے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ علاقہ ٹرمپ کے حوالے کرنے کے بنیادی سوال پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا: ”ہم ان (ٹرمپ) کی تمام خواہشات پوری کر سکتے ہیں، سوائے ایک کے۔ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے اور ایک ریئل اسٹیٹ ماہر ہونے کے ناطے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر کوئی جائیداد فروخت کے لیے نہیں تو اسے خریدا بھی نہیں جا سکتا۔‘‘



