
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز ،سیکورٹی فورسز کے ساتھ
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے یکم اپریل 2026 کو شمالی وزیرستان میں پاک-افغان سرحد کے قریب ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ایک گروہ کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب مشکوک نقل و حرکت کی نشاندہی کی گئی۔
خوارج کے گروہ کی نقل و حرکت پر فوری ردعمل
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز نے سرحدی علاقے میں خوارج کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کو بروقت مانیٹر کیا اور انہیں مؤثر انداز میں گھیر لیا۔ کارروائی انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کی گئی جس کے نتیجے میں 8 دہشت گرد مارے گئے۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج سے تھا، جسے پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث قرار دیا جاتا ہے۔
اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔ حکام کے مطابق یہ اسلحہ ممکنہ طور پر پاکستان کے اندر تخریبی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونا تھا۔
سرحدی سیکیورٹی اور افغان حکومت پر سوالات
پاکستانی حکام نے اس واقعے کو ایک بار پھر اس مؤقف کی تصدیق قرار دیا ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین کو دہشت گرد عناصر کے استعمال سے روکنے میں ناکام رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ مؤثر بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنائے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
“غیر ملکی سرپرستی” کا الزام
سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کو “بھارتی سرپرستی” حاصل تھی اور وہ پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے سرگرم تھے۔ اس حوالے سے پاکستان ماضی میں بھی ایسے الزامات عائد کرتا رہا ہے، تاہم بھارت کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔
سینیٹائزیشن آپریشن جاری
سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں مزید ممکنہ خطرات کے پیش نظر سینیٹائزیشن آپریشن بھی شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی باقی ماندہ دہشت گرد کو ختم کیا جا سکے۔
یہ کارروائیاں قومی انسداد دہشت گردی حکمت عملی کے تحت جاری ہیں، جسے نیشنل ایکشن پلان کے تحت مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔
“عزم استحکام” کے تحت کارروائیاں تیز
حکام کے مطابق یہ آپریشن “عزم استحکام” وژن کے تحت کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ملک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔ اس وژن کی منظوری نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی نے دی ہے۔
سیکیورٹی فورسز کا عزم
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ملک کی سرحدوں کے دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھیں گی۔
حکام کے مطابق:
“دہشت گردی کے خطرے کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی، اور ملک کے امن کو یقینی بنانے کے لیے ہر سطح پر اقدامات کیے جائیں گے۔”
علاقائی امن و استحکام کا چیلنج
ماہرین کے مطابق پاک-افغان سرحد پر ایسے واقعات نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔
پاکستان کی جانب سے بارہا اس بات پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں، تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔


