
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ کا تصور بھی انتہائی خطرناک اور تباہ کن نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں واضح کیا کہ خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
“جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ ناقابلِ تصور”
خواجہ آصف نے کہا کہ راج ناتھ سنگھ کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں، اور ان کے درمیان جنگ کی کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے کہا:
“ایسی کسی بھی جنگ کے نتائج نہایت تباہ کن ہوں گے، جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔”
بھارتی بیان پر تنقید، “اسٹریٹجک بے چینی” کا الزام
پاکستانی وزیر دفاع نے بھارتی قیادت کے حالیہ بیانات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ “اسٹریٹجک بے چینی” کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ:
“انڈیا کو چاہیے کہ وہ اپنی سفارتی اور اسٹریٹجک سطح پر بڑھتی ہوئی بے چینی کا سامنا کرے، بجائے اس کے کہ وہ خطے میں کشیدگی کو ہوا دے۔”
پہلگام واقعے کا حوالہ
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں پہلگام کے مبینہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو “فالس فلیگ آپریشن” قرار دیا گیا تھا، جو عالمی سطح پر جانچ پڑتال میں ثابت نہ ہو سکا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایسے واقعات کو بھارت کی جانب سے “من گھڑت بحران” پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
بھارتی وزیر دفاع کی دھمکی
اس سے قبل راج ناتھ سنگھ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو سخت وارننگ دی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا:
“اگر پاکستان نے سرحد پر کسی بھی قسم کی ‘مس ایڈونچر’ کی کوشش کی تو بھارت ایسا جواب دے گا جو فیصلہ کن ہو گا اور اس کی کوئی مثال نہیں ملے گی۔”
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 2025 کی جنگ کے دوران بھارتی افواج نے “آپریشن سندور” کے ذریعے پاکستان کو “22 منٹ میں گھٹنوں کے بل گرا دیا تھا”، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
“دھمکی آمیز بیانات معمول کا حصہ”
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اس نوعیت کی دھمکی آمیز بیان بازی کوئی نئی بات نہیں بلکہ ایک مستقل پالیسی کا حصہ ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ:
“بھارت اپنی اندرونی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے بیرونی محاذ پر کشیدگی پیدا کرتا ہے اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔”
خطے میں امن کے لیے خطرات
ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان اس نوعیت کی بیان بازی خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
جنوبی ایشیا میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے ہی حساس نوعیت کے ہیں، اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیز بیان بازی سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
سفارتی حل کی ضرورت
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں دونوں ممالک کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفارتی ذرائع کو ترجیح دینی چاہیے۔
دو جوہری طاقتوں کے درمیان براہ راست تصادم نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی شدید خطرہ بن سکتا ہے، اس لیے بین الاقوامی برادری بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان کا مؤقف
پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان کو پاکستان کی اسی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے، جس میں امن کی خواہش کے ساتھ ساتھ دفاعی تیاری پر بھی زور دیا گیا ہے۔


