بین الاقوامیاہم خبریںتازہ ترین

تشدد، جبر اور قتل: افغانستان میں خواتین کی خاموش چیخیں

جب حفاظتی نظام ناکام ہو جاتے ہیں یا جب متاثرین کو عدالتوں کے ذریعے کوئی قابلِ عمل راستہ نظر نہیں آتا، تو تشدد بعض اوقات جان لیوا صورت اختیار کر سکتا ہے۔

رضا شیر محمدی

افغانستان میں بڑھتی غربت اور طالبان کی جانب سے خواتین کے حقوق پر سخت قدغنوں کے سبب گھریلو تشدد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق خواتین کے لیے اس سے بچنا اور اسے رپورٹ کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔

دریں اثناء 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد  طالبان حکومت کی جانب سے عائد وسیع پابندیوں نے خواتین کے لیے عوامی زندگی میں مواقع کو مزید محدود کر دیا ہے، جس کے باعث انہیں ملازمت، تعلیم اور نقل و حرکت تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ تمام عوامل مل کر  خواتین کے خلاف گھریلو تشدد میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں جبکہ اس سے بچ نکلنا اور اس کی رپورٹنگ بھی پہلے سے کہیں زیادہ مشکل اور پیچیدہ ہو گئی ہے۔ نتیجتاً، ایسے واقعات کو اب نسبتاً آسانی سے چھپایا جا سکتا ہے۔

جبری شادی اور خاندان پر بڑھتا انحصار

خواتین کے حقوق کے کارکنان اور مقامی صحافی  افغانستان  میں ایک واضح رجحان کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ معاشی مجبوری جبری اور کم عمری کی شادیوں میں اضافہ کر رہی ہے، جس سے خواتین کا شوہروں یا سسرال پر انحصار بڑھ جاتا ہے اور اس طرح گھریلو تشدد کم ہی منظر عام پر آ پاتا ہے۔

اس تصویر میں بامیان میں ایک خاتون قالین بافی کرتی دکھائی دے رہی ہیں
طالبان حکومت کی جانب سے عائد وسیع پابندیوں نے خواتین کے لیے عوامی زندگی میں مواقع کو مزید محدود کر دیا ہےتصویر: Semenova Maria/SIPA/picture alliance

ماہرین کے بقول جب حفاظتی نظام ناکام ہو جاتے ہیں یا جب متاثرین کو عدالتوں کے ذریعے کوئی قابلِ عمل راستہ نظر نہیں آتا، تو تشدد بعض اوقات جان لیوا صورت اختیار کر سکتا ہے۔

 تلخ حقیقت

افغانستان کے مغربی صوبے غور میں پیش آنے والا ایک واقعہ اس تلخ  حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ فرزانہ 18 سال کی عمر میں صوبے غور کے ضلع پسابند میں ہلاک ہو گئی تھیں۔فرزانہ کی شادی ایک پچاس سالہ شخص سے کر دی گئی تھی، جس کی پہلے سے دو بیویاں تھیں۔ ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ ان پر گھر کے اندر حملہ کیا گیا۔ ایک ڈاکٹر کے مطابق فرانزک معائنے میں تشدد اور مار پیٹ کے واضح نشانات ملے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرزانہ کو قتل کیا گیا۔

ایک مقامی سرکاری اہلکار امیر محمدی (فرضی نام)کے مطابق اس کیس میں مبینہ طور پر شوہر کے دو بیٹے بھی ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے فرزانہ کے اہل خانہ سے رابطہ کیا، تاہم انہوں نے تعاون سے انکار کر دیا۔ اہل خانہ کے مطابق وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ مبینہ ملزمان بااثر اور مالی طور پر مستحکم ہیں۔ ان کے بقول، یہی سماجی عدم مساوات اس سانحے کے گرد خاموشی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

انہوں نے بتایا، ”فرزانہ جیسی بہت سی لڑکیاں غربت، جبری اور کم عمری کی شادی کا شکار ہوتی ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اکثر  اور مالدار مردوں سے کر دیتے ہیں، مگر اس کا نتیجہ اکثر بند دروازوں کے پیچھے جاری رہنے والے تشدد کی صورت میں نکلتا ہے۔

اس تصویر میں افغانستان کے ایک گھر کے پسماندہ سے کمرے میں ایک بیمار خاتون کا ایک دیگر خاتون معائنہ کرتی دکھائی دے رہی ہیں جبکہ ایک چھوٹا بچہ بھی ان کے ساتھ زمین پر لگے بستر پر سو رہا ہے
معاشی مجبوری جبری اور کم عمری کی شادیوں میں اضافہ ہوا ہےتصویر: Elise Blanchard/for TIME

طالبان کا خوف انصاف کی راہ میں حائل

مقامی صحافیوں کے مطابق اگر تشدد کے واقعات سامنے آ بھی جائیں، تب بھی یہ شاذ و نادر ہی سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنتے ہیں۔ افغانستان کے ایک مقامی صحافی نے نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس طرح کے واقعات پر رپورٹنگ پر پابندیاں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، ”طالبان  نے صحافیوں اور میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، اور کوئی بھی ان معاملات پر رپورٹ کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔‘‘

صوبہ غور کے ایک طالبان عہدیدار اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو  کو بتایا کہ ایک نوجوان خاتون کے قتل کے الزام میں ایک باپ اور اس کے دو بیٹوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

تاہم ایک مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ انہیں معلومات ملی ہیں کہ اس نوعیت کے کئی مقدمات میں ملزمان کو بعد میں قبائلی عمائدین کی ثالثی کے ذریعے رہا کر دیا جاتا ہے۔ ان ہی غیر رسمی جرگوں میں اکثر مالی تصفیے طے پاتے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کی "رضامندی” کے نام پر مقدمات ختم کر دیے جاتے ہیں۔

افغانستان میں سماجی دباؤ زیادہ تر خاندانوں کے لیے خوف کا سبب ہوتا ہے۔  بدنامی یا انتقامی کارروائی کے ڈر سے متاثرہ خاندان شکایات درج کرانے سے گریز کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب شکایات درج بھی کرائی جائیں، تو تحقیقات اکثر تعطل کا شکار ہو جاتی ہیں۔

اس تصویر میں بھارت میں تین افغان طالبات تحفظ کی تلاش میں ایک کمرے میں بیٹھی ہیں جبکہ ان کی شکلیں دھندلی ہیں
افغانستان کے مقامی صحافیوں کے مطابق خواتن کے خلاف اگر تشدد کے واقعات سامنے آ بھی جائیں، تب بھی یہ شاذ و نادر ہی سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنتے 

نظام قانون ہی خواتین کو کمزور بنا رہا ہے

حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم گروپوں کے مطابق طالبان کے زیرِ نگرانی قانونی  ڈھانچہ ایک بنیادی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ افغان انسانی حقوق کی تنظیم ”رواداری‘‘ نے اس وقت شدید تشویش کا اظہار کیا جب طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دستخطوں سے جاری کردہ فوجداری طریقۂ کار سے متعلق ایک دستاویز افغانستان بھر کی صوبائی عدالتوں میں تقسیم کی گئی۔

رواداری نے اس دستاویز کے مندرجات کو ”انتہائی تشویشناک‘‘ اور  انسانی حقوق کے ”بین الاقوامی معیارات اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی اصولوں سے متصادم‘‘  قرار دیا۔

تنظیم کی جانب سے عدالتوں کے لیے فوجداری ضابطہ کار کے تجزیے کے مطابق، ”آرٹیکل 32 میں کہا گیا ہے کہ  اگر شوہر اپنی بیوی کو لاٹھی سے مارے اور اس کے نتیجے میں اُسے شدید چوٹ آئے ، جیسے کہ زخم یا جسمانی نیل پڑے ہوں، جو عورت عدالت میں ثابت کر سکے، دکھا سکے تو شوہر کو 15 دن قید کی سزا دی جائے گی۔‘‘

افغانستان کی انسانی حقوق کی تنظیم رواداری نے نشاندہی  کی ہے کہ اس ضابطہ قانون میں جسمانی، ذہنی یا جنسی تشدد کی دیگر اقسام کو واضح طور پر ممنوع قرار نہیں دیا گیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button