روئٹرز اور اے ایف پی کے ساتھ
یہ نئی سرمایہ کاری مختلف اقتصادی اور صنعتی شعبوں میں 71 مختلف منصوبوں کی صورت میں کی جائے گی اور اس وجہ سے ملک میں روزگار کے 15,600سے زائد نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق ان 93 بلین یورو میں سے 45 بلین یورو کی سرمایہ کاری جاپان کے سافٹ بینک نامی مالیاتی ادارے کی طرف سے تین بہت بڑے بڑے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے لیے کی جائے گی۔

صدر ایمانوئل ماکروں کے مطابق ان تینوں ڈیٹا سینٹرز کی مجموعی استعداد 3.1 گیگا واٹ کی ہو گی اور یہ 2031ء تک ملک کے ‘او دے فرانس‘ (Hauts-de-France) نامی علاقے میں تعمیر کیے جائیں گے۔ اس منصوبے پر کام شروع ہونے کے بعد مجموعی سرمایہ کاری ممکنہ طور پر 75 بلین یورو تک پہنچ جائے گی۔
ڈیٹا سینٹرز کے لیے فرانسیسی نیوکلیئر ری ایکٹرز کی اہمیت
فرانس میں نئی سرمایہ کاری اور خاص طور پر بہت بڑے بڑے ڈیٹا سینٹرز کے لیے اپنے ملک کے حق میں وکالت کرتے ہوئے صدر ایمانوئل ماکروں نے اس بات کو خصوصی اہمیت کی حامل بنا کر پیش کیا کہ یورپ کے اس ملک میں جوہری توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے 57 ری ایکٹرز کام کر رہے ہیں۔

یہ ری ایکٹرز اس لیے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں کہ ڈیٹا سینٹرز کو اپنا کام کرنے کے لیے بہت زیادہ بجلی درکار ہوتی ہے۔ اس بارے میں صدر ماکروں نے کہا کہ فرانس کے پاس ان نئے ڈیٹا سینٹرز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں نمایاں کارکردگی کے لیے کافی سے بھی زیادہ مقدار میں بجلی پہلے سے دستیاب ہے۔
اس پس منظر میں سافٹ بینک کے سربراہ نے کہا، ”جس نئی سرمایہ کاری کے وعدے کیے گئے ہیں، ان میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے سرمایہ کاری کا حجم 75 بلین یورو بنتا ہے۔ لیکن اگر اس میں الیکٹرانک چپس اور متعلقہ نظاموں پر کی جانے والی سرمایہ کاری کو بھی شامل کیا جائے، تو یہ حجم تقریباﹰ 750 بلین یورو کے قریب ہو جاتا ہے۔‘‘

جہاں تک ان منصوبوں میں سافٹ بینک کی اپنی سرمایہ کاری کا سوال ہے، تو اس مالیاتی ادارے کے سی ای او ماسایوشی سن نے کہا، ”ان منصوبوں میں ساری سرمایہ کاری خود سافٹ بینک اکیلا نہیں کرے گا۔ وہ ان منصوبوں کے لیے اپنا سرمایہ بھی مہیا کرے گا اور ساتھ ہی ان میں اپنے ہائپر اسکیل گاہکوں کے ذریعے بھی سرمایہ کاری کروائے گا۔‘‘


