ایران۔امریکہ کشیدگی میں پاکستان کی مؤثر سفارتکاری، بھارت اور اسرائیل کی پروپیگنڈا مہم تیز
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی میڈیا پر پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان اسرائیل مخالف مہم کے لیے “بوٹ فارمز” کے ذریعے امریکی اکاؤنٹس سے ٹویٹس کرواتا ہے
رپورٹ سید عاطف ندیم پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران پاکستان کی مؤثر اور اصولی سفارتکاری نے بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا مہمات میں بھی تیزی آ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مئی 2025 کی پاک۔بھارت کشیدگی میں سفارتی کامیابی کے بعد پاکستان نے خطے میں اپنے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جسے اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر علاقائی و عالمی فورمز پر بھی تسلیم کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فلسطین کے معاملے پر پاکستان کے واضح اور غیر متزلزل مؤقف کے باعث اسرائیل اور بھارت دونوں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار سے تحفظات رکھتے ہیں۔ اسی تناظر میں یہود و ہنود کی پروپیگنڈا مشینری پاکستان کے مثبت کردار کو کمزور کرنے کے لیے منظم میڈیا مہمات چلا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی میڈیا پر پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان اسرائیل مخالف مہم کے لیے “بوٹ فارمز” کے ذریعے امریکی اکاؤنٹس سے ٹویٹس کرواتا ہے۔ نیتن یاہو نے سی بی ایس کے پلیٹ فارم پر امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں کشیدگی کا الزام بھی پاکستان پر عائد کیا۔
ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ایران۔امریکہ کشیدگی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیسز پر جگہ دی گئی۔ تاہم پاکستانی دفتر خارجہ نے ان خبروں کو قیاس آرائیاں قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایرانی طیاروں کی آمد و رفت صرف سفارتی عملے تک محدود تھی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اسرائیل نواز شخصیات کی سی بی ایس میں تقرری اور ادارتی سرگرمیوں کو بھی متنازعہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی پر بھی پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بی بی سی نے کابل میں دہشتگرد ٹھکانوں پر حملوں کو انسانی المیہ کے طور پر پیش کیا جسے بھارتی میڈیا نے بھی اپنے بیانیے کے لیے استعمال کیا۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج سے منسلک عناصر پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے اور اس کے ثالثی کردار کو متاثر کرنے کے لیے دہشتگرد سرگرمیوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی سفارتی اثر و رسوخ سے بھارت کو خطے میں پس منظر میں چلے جانے کا خدشہ لاحق ہے۔ ان کے مطابق فلسطین کے حوالے سے پاکستان کے دوٹوک مؤقف کے باعث اسرائیل بھی پاکستان کو اپنے مخالفین میں شمار کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں نے مزید کہا کہ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے خلیجی ریاستوں کو امریکہ۔ایران تنازعے میں مزید تباہی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ بھارت اور اسرائیل پاکستان مخالف بیانیے کو تقویت دینے کے لیے مغربی میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں۔



