سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز، سیکورٹی فورسز کے ساتھ
بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز نے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر آپریشنز کرتے ہوئے بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ "فتنہ الہندستان” سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کارروائیاں صوبے کے مختلف حساس اضلاع میں کی گئیں جن کے دوران دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ اور بڑی مقدار میں اسلحہ و دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ آپریشنز 24 مئی 2026 کو جعفر ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد شروع کیے گئے، جن کا مقصد حملے میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے کٹہرے میں لانا تھا۔ سیکیورٹی اداروں نے مستونگ، نوشکی، ژہری، خضدار اور کیچ کے مختلف علاقوں میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر متعدد کارروائیاں کیں۔
دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر مؤثر حملے
فوجی ترجمان کے مطابق کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ مختلف مقامات پر دہشت گردوں نے فورسز پر شدید فائرنگ کی اور مزاحمت کی کوشش کی، تاہم فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت اور حکمت عملی کے ساتھ جوابی کارروائی کرتے ہوئے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سرکاری تنصیبات اور عام شہریوں کے خلاف متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ بعض دہشت گردوں کا تعلق ایسے نیٹ ورکس سے بھی بتایا جا رہا ہے جو سرحد پار سے مالی اور لاجسٹک معاونت حاصل کرتے رہے ہیں۔
بھاری مقدار میں اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے جدید اسلحہ، گولہ بارود، دستی بم، راکٹ لانچر، مواصلاتی آلات اور بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔ اس کے علاوہ متعدد تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی قبضے میں لیے گئے جو مختلف مقامات پر تخریبی کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جانے تھے۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والا مواد اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں بلوچستان میں بڑے پیمانے پر بدامنی پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں، تاہم بروقت کارروائی کے نتیجے میں ان کے عزائم ناکام بنا دیے گئے۔
جعفر ایکسپریس واقعے کے بعد کارروائیوں میں تیزی
حکام کے مطابق 24 مئی کو جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنانے کے واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے صوبے بھر میں انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید فعال بنایا اور دہشت گردوں کے خلاف مربوط کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا۔ اس دوران مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر دہشت گردوں کی نقل و حرکت، محفوظ پناہ گاہوں اور سہولت کاروں کے بارے میں اہم معلومات حاصل کی گئیں۔
فوجی ذرائع کے مطابق حالیہ آپریشنز اسی سلسلے کی کڑی ہیں جن کا مقصد دہشت گردی کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔
کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشنز جاری
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشنز بدستور جاری ہیں۔ سیکیورٹی فورسز علاقے کے مختلف حصوں میں سرچ آپریشنز کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی فرار ہونے والے دہشت گرد یا اس کے سہولت کار کو گرفتار کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق کارروائیوں کے دوران شہری آبادی کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے اور تمام اقدامات بین الاقوامی معیار کے مطابق احتیاط کے ساتھ انجام دیے جا رہے ہیں۔
عزمِ استحکام کے تحت انسدادِ دہشت گردی مہم
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی ایکشن پلان اور وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن "عزمِ استحکام” کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ریاست پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور ملک میں بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گرد سرگرمیوں کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔ سیکیورٹی ادارے عوام کے تعاون سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے ریاستی عزم
دفاعی اور سیکیورٹی امور کے ماہرین کے مطابق بلوچستان پاکستان کی قومی سلامتی اور معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل صوبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی ادارے دہشت گردی، تخریب کاری اور بیرونی مداخلت کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہے ہیں تاکہ صوبے میں امن، استحکام اور ترقی کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکومتی اور عسکری قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور پشت پناہی کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔
یہ متن قومی اخبارات، نیوز ویب سائٹس یا میگزین فیچر کے معیار کے مطابق تفصیلی خبر کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔



